ڈاکٹر محفوظ جاوید ندوی
سابق استاذ، شعبۂ اردو، گلاسگو یونیورسٹی، برطانیہ
راشل ابھی اپنے گھر سے چند گز کے فاصلے پرتھی جب اس نے ایک اجنبی شخص کو اپنے گھر کی ڈیوڑھی سے باہرنکلتے دیکھا۔ اس نے سوچا شاید یہ اجنبی اس کے شوہر بکلاش کا کوئی دوست ہوگا، مگرحیرت کی بات تھی کہ آنکھوں کے علاوہ اس انجان شخص کا پورا چہرہ نقاب سے ڈھکا ہوا تھا۔ ایک لحظے کے لیے دونوں کی آنکھیں چار ہوئیں اور راشل ...
راشل ابھی اپنے گھر سے چند گز کے فاصلے پرتھی جب اس نے ایک اجنبی شخص کو اپنے گھر کی ڈیوڑھی سے باہرنکلتے دیکھا۔ اس نے سوچا شاید یہ اجنبی اس کے شوہر بکلاش کا کوئی دوست ہوگا، مگرحیرت کی بات تھی کہ آنکھوں کے علاوہ اس انجان شخص کا پورا چہرہ نقاب سے ڈھکا ہوا تھا۔ ایک لحظے کے لیے دونوں کی آنکھیں چار ہوئیں اور راشل کے سارے جسم میں ایک سرد لہر دوڑ گئی۔ وہ شخص رکا نہیں بلکہ آگے بڑھتا چلا گیا۔...
ڈاکٹر محفوظ جاوید ندوی
سابق استاذ، شعبۂ اردو، گلاسگو یونیورسٹی، برطانیہ
مرزد کے لیے یہ ایک اجنبی بستی تھی، اسے یقین تھا کہ اس جگہ اس کا کوئی واقف کار نہیں ملے گا۔ کئی دن سےپیدل چلتے چلتے اس کا چہرہ گرد سے اَٹ چکا تھا، بال بکھرے ہوئے تھے اور آنکھوں سے وحشت ٹپکی پڑتی تھی۔ لاش کے بوجھ سے اس کے کندھے شل ہوچکے تھے اور اس کی چال میں لڑکھڑاہٹ تھی۔ بستی کے لوگ اسے حیرت اور تجسس...
مرزد کے لیے یہ ایک اجنبی بستی تھی، اسے یقین تھا کہ اس جگہ اس کا کوئی واقف کار نہیں ملے گا۔ کئی دن سےپیدل چلتے چلتے اس کا چہرہ گرد سے اَٹ چکا تھا، بال بکھرے ہوئے تھے اور آنکھوں سے وحشت ٹپکی پڑتی تھی۔ لاش کے بوجھ سے اس کے کندھے شل ہوچکے تھے اور اس کی چال میں لڑکھڑاہٹ تھی۔ بستی کے لوگ اسے حیرت اور تجسس سے دیکھ رہے تھے۔ مرزد آگے بڑھتا رہا ، راستے میں بہت سے لوگ اس کے پیچھے ہولیے اور...
ڈاکٹر محفوظ جاوید ندوی
سابق استاذ، شعبۂ اردو، گلاسگو یونیورسٹی، برطانیہ
شِمطیر کا چہرہ کھل اٹھا، بالآخر اُس شہر کے آثار نظر آنے لگے تھے جس کی تلاش میں وہ گزشتہ تین ماہ سے بھٹکتا پھر رہا تھا، اسے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آرہا تھا۔ اس نے دیکھا کہ کچھ فاصلے پرایک شخص راستےکے کنارے سر جھکائے بیٹھا ہوا ہے، اس نے اپنے سر پر ایک سیاہ چادر ڈال رکھی تھی، اس لیے اس کا چہرہ نظر نہیں آرہا تھا۔ شمطیر اپنا...
شِمطیر کا چہرہ کھل اٹھا، بالآخر اُس شہر کے آثار نظر آنے لگے تھے جس کی تلاش میں وہ گزشتہ تین ماہ سے بھٹکتا پھر رہا تھا، اسے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آرہا تھا۔ اس نے دیکھا کہ کچھ فاصلے پرایک شخص راستےکے کنارے سر جھکائے بیٹھا ہوا ہے، اس نے اپنے سر پر ایک سیاہ چادر ڈال رکھی تھی، اس لیے اس کا چہرہ نظر نہیں آرہا تھا۔ شمطیر اپنا گھوڑا اس کی طرف بڑھا لے گیا اور قریب جاکر اسے مخاطب کرتے ہوئے کہنے لگا
"اے نیک انسان!...
ڈاکٹر محفوظ جاوید ندوی
سابق استاذ، شعبۂ اردو، گلاسگو یونیورسٹی، برطانیہ
کاؤس نے کراہ کر آنکھیں کھول دیں، اس کا پورا جسم کسی پھوڑے کے مانند دُکھ رہا تھا۔ اُس نے دیکھا کہ ایک عجیب الخلقت، عظیم الجثہ جانور ایک شخص کو کھینچتا ہوا پانی کی طرف لے جارہا ہے، اس شخص کی چیخیں نکل رہی ہیں۔ پس منظر میں لوگوں کا ایک جمِّ غفیر نظر آیا، ہر چہار طرف سے آہ و بکا کی صدائیں بلند ہورہی تھیں ۔ ...
کاؤس نے کراہ کر آنکھیں کھول دیں، اس کا پورا جسم کسی پھوڑے کے مانند دُکھ رہا تھا۔ اُس نے دیکھا کہ ایک عجیب الخلقت، عظیم الجثہ جانور ایک شخص کو کھینچتا ہوا پانی کی طرف لے جارہا ہے، اس شخص کی چیخیں نکل رہی ہیں۔ پس منظر میں لوگوں کا ایک جمِّ غفیر نظر آیا، ہر چہار طرف سے آہ و بکا کی صدائیں بلند ہورہی تھیں ۔ کیاوہ کوئی خواب دیکھ رہا تھا؟ کاؤس نےلوگوں کو آواز دینے کی کوشش کی مگر اس سے بولا نہ...
ڈاکٹر محفوظ جاوید ندوی
سابق استاذ، شعبۂ اردو، گلاسگو یونیورسٹی، برطانیہ
منتظم کے دفتر کا دروازہ اندر سے بند تھا۔ کارخانے کے مالکان صبح سے اس کے ساتھ نشست کررہے تھے، کبھی کبھار ان کی آوازیں بلند ہوجایا کرتی تھیں مگر کارخانے کے عملے کے کسی کارکن کے اندر ہمت نہیں تھی کہ وہ دروازے کے قریب جاکر سُن گُن لینے کی کوشش کرتا۔ اچانک اندر سے ایسی آوازیں آنے لگیں جیسے کوئی درندہ غرّارہا ہو، ساتھ ہی انسانی چیخیں سنائی دیں، پھر ایسے لگا جیسے کوئی...
منتظم کے دفتر کا دروازہ اندر سے بند تھا۔ کارخانے کے مالکان صبح سے اس کے ساتھ نشست کررہے تھے، کبھی کبھار ان کی آوازیں بلند ہوجایا کرتی تھیں مگر کارخانے کے عملے کے کسی کارکن کے اندر ہمت نہیں تھی کہ وہ دروازے کے قریب جاکر سُن گُن لینے کی کوشش کرتا۔ اچانک اندر سے ایسی آوازیں آنے لگیں جیسے کوئی درندہ غرّارہا ہو، ساتھ ہی انسانی چیخیں سنائی دیں، پھر ایسے لگا جیسے کوئی اندر دروازے سے ٹکرایا ہو۔ کارخانے کا معتمد مضطرب ہو کر اپنی کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا اور تیزی...
ڈاکٹر محفوظ جاوید ندوی
سابق استاذ، شعبۂ اردو، گلاسگو یونیورسٹی، برطانیہ
بستی میں ایک عجیب و غریب شور اٹھا، لوگ گھروں سے باہر نکل آئے ، پھر وہ سراسیمگی کی حالت میں تیز تیز قدموں سے ایک طرف چل پڑے، ان کا رخ بستی کے قبرستان کی طرف تھا۔ رات تاریک ہوچلی تھی ، کچھ لوگوں نے اپنے ہاتھوں میں مشعلیں اٹھا رکھی تھیں ، مشعلوں کی روشنی انھیں ٹھوکریں کھانے اور کسی کھائی میں گرنے سے بچارہی تھی۔...
بستی میں ایک عجیب و غریب شور اٹھا، لوگ گھروں سے باہر نکل آئے ، پھر وہ سراسیمگی کی حالت میں تیز تیز قدموں سے ایک طرف چل پڑے، ان کا رخ بستی کے قبرستان کی طرف تھا۔ رات تاریک ہوچلی تھی ، کچھ لوگوں نے اپنے ہاتھوں میں مشعلیں اٹھا رکھی تھیں ، مشعلوں کی روشنی انھیں ٹھوکریں کھانے اور کسی کھائی میں گرنے سے بچارہی تھی۔ بستی کا ایک سردار یشکور بھی اپنی بیوی تمینا کا ہاتھ تھامے بھیڑ کے ساتھ...
ڈاکٹر محفوظ جاوید ندوی
سابق استاذ، شعبۂ اردو، گلاسگو یونیورسٹی، برطانیہ
سلیان ٹھیک پانچ سال بعد ایک بار پھر نیلوما کے دروازے پر کھڑا تھا۔ دستک دیتے ہوئے اسے جھجک محسوس ہورہی تھی، پتہ نہیں نیلوما کا رویہ اس کےساتھ کیسا ہوگا! بستی کا رواج تھا کہ لڑکے خاندان کے بڑوں کی موجودگی میں لڑکیوں سے شادی کی درخواست کرتے تھے، یہ لڑکیوں کا اختیار تھا کہ وہ درخواست قبول کریں یا اسے رد کردیں۔ نیلوما اس روایت کی...
سلیان ٹھیک پانچ سال بعد ایک بار پھر نیلوما کے دروازے پر کھڑا تھا۔ دستک دیتے ہوئے اسے جھجک محسوس ہورہی تھی، پتہ نہیں نیلوما کا رویہ اس کےساتھ کیسا ہوگا! بستی کا رواج تھا کہ لڑکے خاندان کے بڑوں کی موجودگی میں لڑکیوں سے شادی کی درخواست کرتے تھے، یہ لڑکیوں کا اختیار تھا کہ وہ درخواست قبول کریں یا اسے رد کردیں۔ نیلوما اس روایت کی باغی نکلی ، پانچ سال پہلے اس نے اپنے خاندان سے چھپ کر سلیان ...
ڈاکٹر محفوظ جاوید ندوی
سابق استاذ، شعبۂ اردو، گلاسگو یونیورسٹی، برطانیہ
حویلی میں آج جشن منایا جارہا تھا — حیا کی موت کا جشن۔ حیا ابھی مرنا نہیں چاہتی تھی، اس کی عمر ہی کیا تھی؟ پندرہ سال۔ اس نے ان گنت بار حویلی کے چوبارے سے بازار میں جھانک کر دیکھا تھا، اس کی عمر کی بچیاں ابھی چہلیں کرتی دکھائی دیتیں۔ آخراس کا کیا گناہ تھا کہ حویلی کے مکین اسے...
حویلی میں آج جشن منایا جارہا تھا — حیا کی موت کا جشن۔ حیا ابھی مرنا نہیں چاہتی تھی، اس کی عمر ہی کیا تھی؟ پندرہ سال۔ اس نے ان گنت بار حویلی کے چوبارے سے بازار میں جھانک کر دیکھا تھا، اس کی عمر کی بچیاں ابھی چہلیں کرتی دکھائی دیتیں۔ آخراس کا کیا گناہ تھا کہ حویلی کے مکین اسے موت کے گھاٹ اتارنے پر تلے ہوئے تھے؟ چھت کی منڈیر پر کہنیاں ٹیکے جواب...
ڈاکٹر محفوظ جاوید ندوی
سابق استاذ، شعبۂ اردو، گلاسگو یونیورسٹی، برطانیہ
دریسہ نے جیسے ہی دہلیز کے اندر قدم رکھا ، گھر کے اندر سے ایک چٹاک کی آواز آئی، جیسے کوئی آبگینہ ٹوٹا ہو۔ اس سے چند قدم پیچھے اس کا خاوند مازن، اور دونوں بچے، زائر اور میکاس، بھی چلے آرہے تھے۔ آواز اتنی گونج دار تھی کہ سبھی چونک پڑے۔ گھر میں داخل ہوتے ہی مشعل کی مدھم روشنی میں انھوں نے ...
دریسہ نے جیسے ہی دہلیز کے اندر قدم رکھا ، گھر کے اندر سے ایک چٹاک کی آواز آئی، جیسے کوئی آبگینہ ٹوٹا ہو۔ اس سے چند قدم پیچھے اس کا خاوند مازن، اور دونوں بچے، زائر اور میکاس، بھی چلے آرہے تھے۔ آواز اتنی گونج دار تھی کہ سبھی چونک پڑے۔ گھر میں داخل ہوتے ہی مشعل کی مدھم روشنی میں انھوں نے چاروں طرف جائزہ لینا شروع کیا ، ہرطرف خاموشی طاری تھی۔ بالآخر مازن اور دریسہ کی...
© 2024. Al Qalam Academy, Glasgow, UK. All rights reserved.