Al Qalam Logo

جزیرہ

ڈاکٹر محفوظ جاوید ندوی
سابق استاذ، شعبۂ اردو، گلاسگو یونیورسٹی، برطانیہ

Image

کاؤس نے کراہ کر آنکھیں کھول دیں، اس کا پورا جسم کسی پھوڑے کے مانند دُکھ رہا تھا۔ اُس نے دیکھا کہ ایک عجیب الخلقت، عظیم الجثہ جانور ایک شخص کو کھینچتا ہوا پانی کی طرف لے جارہا ہے، اس شخص کی چیخیں نکل رہی ہیں۔ پس منظر میں لوگوں کا ایک جمِّ غفیر نظر آیا، ہر چہار طرف سے آہ و بکا کی صدائیں بلند ہورہی تھیں ۔ کیاوہ کوئی خواب دیکھ رہا تھا؟ کاؤس نےلوگوں کو آواز دینے کی کوشش کی مگر اس سے بولا نہ گیا، اُس نے اٹھنا چاہا مگر اس کے اندر ہلنے کی بھی سکت نہیں تھی۔ نقاہت کی وجہ سے اس نے اپنی آنکھیں موند لیں اور اس پر پھر سےغشی طاری ہوگئی۔
دوبارہ کاؤس کی آنکھ اگلی صبح کھلی، اس نے دیکھا کہ ایک آدمی چولہے پر کچھ پکا رہا ہے۔ یکایک اُس شخص کی نگاہ کاؤس پر پڑی اور اس کو ہوش میں آتا دیکھ کر اس کے چہرے پر بشاشت آگئی۔ وہ دوڑ کر باہر نکل گیا اور چند لمحوں میں اپنے ساتھ کئی لوگوں کو اندر بلا لایا، کاؤس نےاندازہ لگایا کہ وہ کسی خیمے میں لیٹا ہوا ہے ۔ ان میں سے ایک شخص آگے بڑھا اور بولا
" اے اجنبی نوجوان! ہم پیشے سے ماہی گیر ہیں، تم ہمیں کل شام ساحلِ سمندر پر بے ہوش پڑے ملے تھے۔ تم ایک تختے پر بہتے ہوئے آئے تھے، لگتا ہے کہ تمھاری کشتی کو کوئی حادثہ پیش آگیا؟"
کاؤس نے ذہن پر زور دیا اور اسے یاد آگیا۔ وہ اپنے عملے کے ساتھ سامانِ تجارت لے کر جزیرۂ آموس جارہا تھا کہ اس کی کشتی سمندری طوفان میں گھر گئی، پتہ نہیں اس کے عملے میں کوئی زندہ بچا یا نہیں؟ اس کے چہرے پر کرب کے آثار نمودار ہوگئے مگر کچھ بولا نہیں۔
اُس شخص نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا " اِس بستی میں کسی کو اس بات کی اجازت نہیں ہے کہ وہ کسی اجنبی کو پناہ دے، لہذا ہم تم کو آج بستی کے سردار علاد کے حضور پیش کردیں گے۔" کاؤس خاموشی سے اس کی بات سنتا رہا۔
ان لوگوں نے کاؤس کو سمندری حاصلات سے تیار شدہ یخنی پلائی اور اس کو اپنے حال پر چھوڑ دیا۔ سہ پہر کے قریب اس کو ایک گدھا گاڑی میں لٹاکر سردار علادکی حویلی کی طرف لے چلے۔ کچھ دیر میں وہ حویلی پہنچ گئے، سردار موجود تھا، اُس نے خوش دلی سے کاؤس کا استقبال کیا۔ کاؤس نے اس کو مختصراً اپنی سرگزشت سنائی۔ علاد نے اپنے ملازمین کو حکم دیا کہ وہ اس کی تیمارداری کریں اور تین دن بعد کاؤس کو اس کے حضور دوبارہ پیش کریں۔
تین دنوں میں کاؤس میں بڑی حد تک توانائی عود کر آئی اور وہ اپنے آپ کو بھلا چنگا محسوس کرنے لگا۔ اسے روزِ اول سے ہی عجیب الخلقت جانور کے بارے میں گہرا تجسس تھا، اس نے ملازمین سے بار بار دریافت کیا مگروہ سب کے سب مہر بہ لب تھے۔ ان سےباتوں کے ذریعے اسے اندازہ ہوگیا کہ وہ اپنے اقلیم کی کس سمت میں آپڑا ہے، اسے یقین تھا کہ خشکی کے راستے سے وہ چالیس ایام کی مسافت طے کرکے اپنے وطن آسانی سےپہنچ سکتا ہے۔ اُس نے ارادہ کیا کہ سردار کےحضور باریابی کے موقع پر زادِ راہ کی فراہمی کی درخواست کرے گا، اگر سردار اس کی درخواست قبول کرلیتا ہے تو وہ اپنے وطن کے لیے فوراً عازمِ سفر ہوجائےگا۔
وقتِ مقررپر کاؤس خود ہی سردار کی رہائش گاہ کی طرف چل پڑا، ابھی وہ پائیں باغ میں سے گزر رہا تھا کہ اس کی نگاہ جھولے میں بیٹھی ایک دوشیزہ پر پڑی، نگاہ کیا پڑی، اس کے دونوں پاؤں وہیں منجمد ہوکر رہ گئے۔ اس نے تجارت کی غرض سے دنیا جہان کا سفر کیا تھا، لیکن ایسی حسین و جمیل دوشیزہ کبھی اس کی نظر سے نہیں گزری تھی ، وہ کوئی اپسرا لگ رہی تھی، اسے ایسا لگا کہ گویا ہر چہار طرف سے اس پر انوا ر کی بارش ہورہی ہو۔ کاؤس پر مدہوشی طاری ہونے لگی کہ یکایک کسی سمت سے ایک ملازم دوڑتا ہوا آیا اور اس کے جسم کو جھنجھوڑتے ہوا بولا
"ہوش میں آؤ اجنبی نوجوان! وہ سردار کی بیٹی بانو ہے، تم سے پہلے کئی نوجوان اس کی محبت کے چکر میں پڑ کر اپنے بھیانک انجام سے دوچار ہوچکے ہیں۔"
ملازم کاؤس کا ہاتھ پکڑ کر کھینچتا ہوا علاد کی رہائش گاہ کی طرف چلا۔ ملازم کی تنبیہ کے باوجود کاؤس پیچھے مڑ مڑکر دیکھتا رہا، اسے یقین ہوگیا کہ یہی وہ لڑکی ہے جس کا خواب وہ زندگی بھر دیکھتا آیا ہے، حادثاتی طور پر سہی، پَر وہ اپنی منزلِ مقصود تک پہنچ چکا ہے۔
علاد اپنی مسند پرٹیک لگائے ہوئےبیٹھا ملا، کاؤس اس کے سامنے پہنچ کر تعظیم بجالایا۔ علادکی آنکھوں میں خوشگوار حیرت تھی، اس نے گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے کہا
"مجھے خوشی ہے کہ تم بڑی جلدی صحت یاب ہوگئے، اگر ہماری بستی میں رہنا ہے تو تمھیں کام کرنا پڑے گا، یہاں مفت میں کھانا نہیں ملتا ہے۔"
"جی سردار، میں بھی یہی چاہتا ہوں،" کاؤس وطن واپس جانے کا ارادہ موقوف کرچکا تھا، "سمندری طوفان میں میرا سب کچھ ضائع ہوچکا ہے، اگر مجھے کوئی مناسب کام مل جائےتو کچھ دنوں کی محنت مزدوری سے میں زادِ راہ اکٹھا کرسکوں گا۔"
"تم تجارت کے علاوہ اور کیا کام کرسکتے ہو؟" علاد نے اسے ٹٹولتی نظروں سے دیکھتے ہوئے دریافت کیا۔
"میں ایک ماہر تیر انداز اورمشّاق تیراک ہوں۔" کاؤس فخریہ لہجے میں بولا
" بہت اچھے" علاد کے لہجے میں تحسین تھی،" تم آج سے ہمارے کھیتوں کی نگرانی کروگے، تم کو نصف درہم یومیہ اجرت ملے گی، سواری کے لیے ایک گھوڑا بھی فراہم کیا جائے گا۔" یہ کہہ کر علاد اٹھ کھڑا ہوا، کاؤس جھک کر آداب بجالایا اور ملازم کی معیت میں اصطبل کی طرف چل پڑا، وہاں سے اس نے اپنی پسند کا ایک گھوڑا منتخب کیا اور کھیتوں کی طرف روانہ ہوگیا۔
حویلی کے شمال اور مغرب میں تاحدّ نگاہ کھیت ہی کھیت نظر آئے ، کاؤس کو یہ جان کر حیرت ہوئی کہ ان سارے کھیتوں کا مالک علاد ہے، وہ سوچنے لگا پھر بستی کے باقی لوگوں کا کیسے گزارا ہوتا ہوگا۔ کاؤس شمال کی جانب اپنے گھوڑے کو بڑھا لے گیا، آگے چل کر کھیت ختم ہوگئے اور ریگستانی علاقہ شروع ہوگیا۔ اس نے دیکھا کہ بے شمار مزدور ایک دیوار بنارہے ہیں، قریب جاکر اسے پتہ چلاکہ دیوار نہیں بلکہ پوری فصیل بنائی جارہی ہے۔ فصیل بنانے میں جو چٹانیں استعمال کی جارہی تھیں اُن کی روشنی کاؤس کی آنکھوں کو خیرہ کررہی تھی۔ یہ بڑی بڑی سرخ چٹانیں یکساں ہموار شکل میں تراشی گئی تھیں، ایسا لگتا تھا کہ اس بستی کے قرب و جوار میں یاقوت کا کوئی پہاڑ پایا جاتا ہو۔ کاؤس نے آگے بڑھ کر ایک مزدور سے پوچھا
" کیا یہ یاقوتی چٹانیں تم لوگ خود تراشتے ہو؟"
وہ مز دور ہنس پڑا"کیاایسی چٹانوں تک رسائی کسی انسان کے بس کا روگ ہے؟"
"پھر ایسی چٹانیں تم کو کون فراہم کرتا ہے۔" کاؤس کی حیرتوں کا سلسلہ ابھی ختم نہیں ہوا تھا۔
"عفریت" مزدور آہستہ سے بولا اور آگے بڑھ گیا۔
"یہ عفریت کیا بلا ہے؟" کاؤس مزدور کا تعاقب کرتے ہوئے بولا مگر مزدور نے اس کی طرف توجہ نہیں دی، اس کے چہرے پر خوف کے آثار تھے۔ لگتا تھا کہ اس سے کوئی غلطی سرزد ہوگئی ہے اور اب اسے پچھتاوا ہورہا ہے۔ ایک سن رسیدہ مزدور کاؤس کی طرف بڑھا اور فہمائشی انداز میں کہنے لگا
"نوجوان! لگتا ہے تم کوئی نووارد ہو، کچھ دن اس بستی میں ٹھہرو گے تو تم پر سب کچھ آشکار ہوجائے گا۔ اس قسم کے سوالات کرکے تم ہم لوگوں کو پریشانی میں مبتلا کردوگے اور خدشہ ہے کہ تم کو بھی کوئی گزندنہ پہنچ جائے۔"
"اچھا، محض اتنا بتادو کہ یہ فصیل کیوں کھڑی کررہے ہو؟ کیا کسی دشمن سے تم لوگوں کو خطرہ ہے؟"
"دشمن سے کیا خطرہ ہوگا! یہاں دور دور تک کسی خارجی دشمن کا وجود نہیں پایا جاتا۔ یہ فصیل سردار علاد اپنی زمینوں کے گرد کھڑی کررہا ہے، ہم محض مزدور ہیں۔ شمال میں اس دیوار کی تکمیل ہوچکی ہے، اس کے بعد ہم لوگ مغرب کی طرف دیوار کھڑی کردیں گے۔ جب سردار کو جنوب اور مشرق میں بھی زمینیں مل جائیں گی تو اُن اطراف میں بھی فصیلیں کھڑی کردی جائیں گی اور سردار کا جزیرہ پایۂ تکمیل تک پہنچ جائے گا۔ "
کاؤس نے انھیں مزید کریدنا مناسب نہیں سمجھا اور واپسی کے لیے مڑ گیا۔
اگلے روز کاؤس کھیتوں کا دورہ کررہا تھا کہ اسے بانو گھوڑے پر سیر کرتی نظر آئی۔ بانو کو دیکھ کر اس کے دل کی دھڑکن تیز ہوگئی اور اس نے تیزی سےاس کی جانب اپنا گھوڑا سرپٹ دوڑا دیا، بانو چونک پڑی اور استفہامیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔ کاؤس کا دل بانو سے بات کرنے کے لیےمچل رہا تھا مگروہ اس کے حسن و جمال کی تاب نہ لاسکا اور اس کی زبان گنگ ہوکر رہ گئی۔
"غالباً تم وہی شخص ہو جو کسی دور دراز اقلیم سے بہتے ہوئے آئے ہو؟" بانو بولی۔
کاؤس زبان سے کچھ بولا نہیں، محض اثبات میں سر ہلادیا۔ بانو نے اپنی بات جاری رکھی "کیا یہ چاروں طرف کھڑی کی جارہی دیواروں کی اونچائی کچھ کم تھی کہ تم بھی میرے باپ کی معاونت میں جُٹ گئے؟" بانو نے کراہت سے کہا اور اپنے گھوڑے کو حویلی کی طرف موڑ دیا۔
بانو کا شکایتی سوال کاؤس کی فہم سے بالاتر تھا، وہ خاموشی سے اسے جاتے دیکھتا رہا۔ سارا دن اس پر پژمردگی طاری رہی، اس نے تہیہ کیا کہ شام کواپنی رہائش گاہ جانے سے پہلےحویلی جاکر بانو کا دوبارہ سامنا کرے گا اور فصیل کا معمہ حل کرنے کی کوشش کرے گا۔ بانو سے ملاقات نہیں ہوسکی، غالباً وہ حویلی کے اندر استراحت کررہی تھی۔ وہ واپسی کے لیے مڑا کہ ناگاہ اس کی نگاہ پائیں باغ میں ایستادہ چوبی کرسی پر بیٹھے ایک اپنے ہم عمر نوجوان پر پڑی، وہ اس کی طرف بڑھتا چلا گیا۔ اس نے نوجوان کو سلام کیا، مگر اس نے جواب نہیں دیا۔ کاؤس نے محسوس کیا کہ وہ نوجوان ماحول سے لاتعلق ہے۔ وہ خاموشی سے آگے بڑھ گیا، راستے میں ایک ملازم نے اسے بتایا کہ کرسی پر بیٹھا ہوا نوجوان بانو کا بڑا بھائی ہے اور ذہنی اختلال کا مریض ہے۔ کاؤس کو یہ سن کر افسوس ہوا اور پوچھنے لگا
"کیا وہ پیدائشی ذہنی مریض ہے؟"
"نہیں، وہ ایک صحت مند نوجوان تھا، ابھی ایک سال پہلے اس کو یہ مرض لاحق ہوا ہے۔" ملازم کے لہجے میں افسردگی تھی۔
اگلے دو دن کاؤس حویلی کے گرد چکر کاٹتا رہا مگر بانو سے ملاقات نہیں ہوسکی۔ پنجشنبہ کو علاد نے کہلابھیجا کہ آج چھٹی کا دن ہے، اس لیے کھیتوں پر جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اسے یاد آیا کہ آج ہی کے روز وہ سمندر میں بہتا ہوابستی کے ساحل سے آلگا تھا۔ اس نے بستی گھومنے کی نیت کی اور پیدل نکل پڑا۔ اسے حیرت ہوئی کہ سارا بازار بند تھا، لوگ خاموش تھے، ان کے چہروں سے افسردگی ٹپکتی تھی۔ وہ ہر ایک سے ان کی اداسی کا سبب پوچھتا، لیکن لوگ اس کو نظر انداز کرکے آگے بڑھ جاتے۔
وہ سارا دن بے مقصد گھومتا رہا حتی کہ شام ہونے لگی۔ پھر اس نے دیکھا کہ لوگ جوق در جوق ساحلِ سمندر کی طرف روانہ ہورہے ہیں، وہ بھی ایک گروہ کے ساتھ چل پڑا۔ اس نے دیکھا کہ بستی کے سارے لوگ ساحل سے کچھ فاصلے پر کھڑے ہوکر گویا کسی وقوعے کا انتظار کررہے ہیں۔ ابھی کاؤس پوری طرح صورتِ حال سمجھ نہیں سکا تھا کہ کیا دیکھتا ہے کہ علاد ایک شخص کے گلےمیں رسی ڈال کر کُھلے ساحلی میدان میں کھینچے لیے چلا جارہا ہے۔ معا ً ایسا لگا کہ سمندر میں بھونچال آگیا ہے، بپھری ہوئی موجیں ساحل سے ٹکرائیں اور سمندر سے ایک عجیب الخلقت، عظیم الجثہ جانور برآمد ہوا، عورتوں اور بچوں کی چیخیں نکل گئیں ۔ اس کا قد تاڑکے درخت سے بھی لمبا تھا اور جسامت کئی ہاتھیوں پر مشتمل تھی، یہ انسانوں کی طرح دو پیروں پر چل رہا تھا، بڑےبڑے نوکیلے دانت تھے اور چہرے سے درندگی ٹپک رہی تھی۔ کاؤس خوف و حیرت کے سمندر میں غوطے کھارہا تھا۔
"یہ ہےکیا بلا ؟" کاؤس نے اپنے پاس کھڑے شخص سے پوچھا۔
"یہ عفریت ہے، لگتا ہے کہ تم اس بستی میں نئے آئے ہو!؟" اس آدمی نے کاؤس کو غور سے دیکھتے ہوئے کہا۔
عفریت کی پشت پر ایک بڑا گٹھر تھا، اس سے نکلنے والی سرخ روشنی دور سے کاؤس کی نظروں کو خیرہ کررہی تھی، وہ سمجھ گیا کہ وہ یاقوتی چٹانیں ہیں۔ عفریت نے وہ گٹھر ساحل پر اتار دیا ، علاد کے ہاتھ سے رسی تھام کر پھندے میں پھنسے شخص کو دونوں ہاتھوں سے دبوچ لیا اور اسے بھنبھوڑتا ہوا سمندر میں اتر گیا۔ ہر چہار طرف آہ و بکا کی صدائیں بلند ہورہی تھیں، اس نے دیکھا کہ عورتوں کے گروہ میں بانو بھی کھڑی زاروقطار روئے جارہی ہے۔
کاؤس دل گرفتہ ہوگیا، وہ پاس کھڑے ہوئے شخص کی طرف دوبارہ متوجہ ہوا اور بولا
"ہاں، میں اس بستی میں نووارد ہوں، میرا نام کاؤس ہے، مجھے بتاؤ وہ کون آدمی تھا جس کو عفریت نگل گیا۔"
"میرا نام آور ہے۔" اس آدمی نے اپنا تعارف کراتے ہوئے کہا، "وہ علاد کا سب سے چھوٹا بھائی تھا، اُس نے علاد سے قرض لیا تھا اور وقت پر نہیں دے سکا۔ معاہدےکے مطابق علاد نے اپنے بھائی کو عفریت کے حوالے کردیا۔ اب وہ اپنے بھائی کی زمینیں بھی ہتھیالےگا۔"
"علاد اور عفریت میں کیا تعلق ہے؟" کاؤس کو اس پہیلی کا سرا ہاتھ نہیں آرہا تھا۔
"آج سے چند سال قبل اس عفریت کو علاد کہیں باہر سے اپنے ساتھ لایا تھا۔ اس وقت اس کی جسامت ایک بلّے کے برابر تھی اور یہ اپنے چار پیروں پر چلتا تھا۔ وہ ہر وقت زبان لٹکائے علاد کے ساتھ گھومتا رہتا تھا، اندھیری راتوں میں لوگوں کی بھیڑ بکریوں کا شکار کرکے گزارا کرتا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ اس کی جسامت بڑھتی گئی اور ایک دن جب علاد اور اس کے درمیانے بھائی کے درمیان لڑائی ہورہی تھی کہ اس عفریت نے بھائی پر حملہ کیا اور اس کو چیر پھاڑ کھایا، اس دن یہ عفریت انسانوں کی طرح اپنے دو پیروں پر کھڑا ہوگیا۔ پھر دن بہ دن علاد کی شہ زوری بڑھتی گئی، جب بھی کسی سے اختلاف ہوتا وہ اپنا عفریت اس پر چھوڑ دیتا، پھر اس کی زمینوں پر قبضہ کرلیتا۔ " کاؤس اور آور باتیں کرتے ہوئے بستی کے چوک تک پہنچ گئے۔
"کیا بستی کے لوگوں نے مداخلت نہیں کی؟" کاؤس کے لہجے میں استعجاب تھا۔
"یقیناً انھوں نے اس بدی کو روکنے کی کوشش کی، لیکن شاید ہی بستی کاکوئی گھرانہ بچا ہو جس کا کوئی نہ کوئی فرد اس عفریت کا لقمہ نہ بنا ہو۔ بالآخر اہلِ بستی اور علاد ایک دن بیٹھے اور طے ہوا کہ عفریت ہفتے میں صرف ایک انسان کا شکار کرسکتا ہے جس کا انتخاب علاد خود کرے گا۔ بدلے میں عفریت ایک قریبی ٹاپو میں منتقل ہوگیا۔ اب وہ ہر پنجشنبہ کی شام کو ہماری بستی میں آتا ہے۔ عام طور پر عفریت کی خوراک کے لیےعلاد ان لوگوں کا انتخاب کرتا ہے جو اس کے نادہند ہوتے ہیں، اس طرح سے وہ ان کی زمینوں پر قبضہ کرلیتا ہے۔" بولتے بولتے آور کی آواز سوگوار ہوگئی۔
اگلی صبح کاؤس بوجھل دل کے ساتھ کھیتوں کی طرف روانہ ہوا۔ ابھی وہ درمیان راستے میں تھا کہ اس کا سامنا بانو سے ہوگیا، اس نے محسوس کیا کہ وہ غالباً اسی کا انتظار کررہی تھی۔ کاؤس نے اسے سلام کیا، وہ کچھ بولی نہیں۔ اس کی آنکھیں متورم تھیں، لگتا تھا کہ وہ رات بھر روتی رہی تھی۔ کاؤس نے کسی طرح حوصلہ یکجاکیا اور گویا ہوا
"سردار علاد میرا محسن ہے، اس نے مجھ جیسے خانماں برباد کو پناہ دی۔ اس کا یہ دوسرا روپ میں سمجھنے سے قاصر ہوں۔ تمھارے باپ کو کس چیز کی کمی ہے جو بستی والوں کے ساتھ اس قسم کی شقاوتِ قلبی کا مظاہرہ کررہا ہے؟"
"میرے باپ کو حرص و طمع کا آزار لاحق ہوگیا ہے۔وہ اپنے اعزہ و اقربا کی لاشوں پر سے گزر کر ان کی زمینیں ہتھیا چکا ہے، اب اس کی نظر بستی کے خوش حال لوگوں پر ہے۔ اس کا مطمحِ نظر ایک اونچی دیوار ہے جو وہ اپنی زمینوں کے گرد کھڑی کررہا ہے تاکہ پھر اس تک کسی کی رسائی نہ ہوسکے۔ وقت گزرنے کے ساتھ عفریت کی بھوک بڑھتی جائے گی اور میرے باپ کا جزیرہ بھی تیار ہوجائے گا، اس کے ساتھ میں بھی ہمیشہ کے لیے اس جزیرے میں قید ہوکر رہ جاؤں گی۔" بانو کی آنکھوں سے آنسو ٹپک رہے تھے۔
"کیا تم لوگوں نے کبھی اپنے باپ کو سمجھانے کی کوشش نہیں کی؟" کاؤس کے لہجے میں تجسس تھا۔
"میری ماں میرے باپ کی حرکتوں پر ہمیشہ احتجاج کرتی رہی، پھر جس دن عفریت نے میرے ماموں کو اپنا نوالہ بنایا، میری ماں نے بھی زہر کھا لیا اور قبر میں جا سوئی۔ میرا بھائی مستقل کڑھتا رہا، وہ پے در پے صدمات سے ہمیشہ نڈھال رہا اور ایک دن ذہنی توازن کھو بیٹھا۔" بانو نے اداس لہجے میں کہا، پھر اچانک اس کی آنکھوں میں چمک آگئی ، کچھ توقف کرکے بولی
"سنا ہے کہ تم ایک ماہر تیر انداز ہو۔ تم مجھے حاصل کرنا چاہتے ہو نا؟ میں تمھاری نگاہیں پڑھ چکی ہوں۔ عفریت کا کام تمام کردو، پھر دیکھنا، اسی دن میں تمھاری دلہن بن جاؤں گی۔"
"تیر اس عظیم الجثہ عفریت کا کیا بگاڑ سکیں گے؟ یہ کسی ہرن کا شکار نہیں ہے۔ اور اگر عفریت میری طرف پلٹ پڑا تو پھر میں تمھارے دیدار سے ہمیشہ کے لیے محروم ہوجاؤں گا۔ " کاؤس نے مسکراتے ہوئے کہا۔
"جس دن دیواریں پایۂ تکمیل تک پہنچ گئیں، تم ویسے بھی میرے دیدار سے محروم ہوجاؤ گے۔ اور کیا تم سمجھتے ہو کہ زیادہ دن تک عفریت سے جان بچاسکو گے؟ جس دن تم سےکوئی غلطی سرزد ہوئی، عفریت کی خوراک بنا دیے جاؤ گے۔" بانو کے لہجے میں تلخی تھی، یہ کہہ کر وہ مڑی اور کھیتوں کی دوسری طرف چلی گئی۔
شام ہوئی تو کاؤس اپنی رہائش گاہ جانے کے بجائے آور سے جا مل بیٹھا، پھر کچھ دیر بعد اس کو تیروں سے عفریت کا شکار کرنے کا خیال پیش کیا۔ کاؤس کی تجویز سن کر آور کا چہرہ تاریک ہوگیا۔ کاؤس نے اسے دلاسا دیا کہ وہ ایک ماہر تیر انداز اور مشّاق تیراک ہے، کسی ناگہانی مصیبت میں وہ اپنی حفاظت بخوبی کرسکے گا۔ آور کہنے لگا
"مگر معمولی تیروں سے عفریت کا کچھ نہیں بگڑے گا۔ البتہ اگر انھیں زہر میں بجھادیا جائے تو وہ جان لیوا ثابت ہوسکیں گے۔"
آور کی تجویز سن کر کاؤس کا چہرہ کھل اٹھا مگر پھر مایوس لہجے میں کہنے لگا
"زہر کون فراہم کرے گا؟"
"تم اس کی فکر نہ کرو ، میرا باپ طبیب ہے اور اس کے دوا خانے میں ہر قسم کا زہر پایا جاتا ہے۔" آور نے مسکراتے ہوئے کہا۔
اگلی صبح کھیتوں پر جانے سے پہلے کاؤس حویلی کی طرف نکل گیا، اس کی خوش قسمتی تھی کہ بانو پائیں باغ میں چہل قدمی کرتی مل گئی۔ وہ اس کی طرف بڑھتا چلا گیا اور سامنے پہنچ کر آہستہ سے بولا
"میں تیار ہوں، پَر اس مہم کو سرانجام دینے کے لیے جن وسائل کی ضرورت ہے وہ مجھ کو دستیاب نہیں ہیں۔"
"تمھیں کن وسائل کی ضرورت ہے، تم مجھے بتاؤ!" بانو بے تابی سے بولی۔
"کمان، ترکش، دس درجن تیر ، جال اور ایک ڈونگی کشتی۔" کاؤس نے اپنی ضروریات بیان کردیں۔
بانو کہنے لگی "تم بالکل فکر نہ کرو، شام تک یہ ساری چیزیں مہیا کردی جائیں گی۔"
اگلے چند دن کاؤس کھیتوں سے واپسی پر سیدھا ساحل کی طرف چلا جاتا اور آور کو ساتھ لے کر ڈونگی کشتی میں سمندر میں دور دراز تک نکل جاتا۔ یہ دونوں تاثر یہی دیتے کہ وہ مچھلیاں پکڑ رہے ہیں، دکھاوے کے لیے جال بھی ڈالتے اور کچھ مچھلیاں بھی ان کے ہاتھ لگتیں مگر اس سرگرمی کا واحد مقصد یہ تھا کہ کاؤس عفریت کی آمد و رفت کے راستے کا سراغ پا سکے اور اس پر گھات لگانے کے لیے کوئی مناسب جگہ تلاش کرسکے۔
ایک دن سمندر گردی میں وہ دونوں کافی دور نکل گئے، انھیں دور سے ایک ٹاپو نظر آیا، قریب کے ماہی گیروں نے انھیں خبردار کیا کہ وہ عفریت کا بَھٹ ہے، ادھر جانے کا مطلب موت کے غار میں داخل ہونا ہے۔ کاؤس اور آور نے بھی ادھر کا رُخ کرنا مناسب نہیں سمجھا، البتہ کاؤس نے سمندر میں ایک مناسب جگہ شناخت کرلی، جو ساحل سے کافی دور نہیں تھی، لیکن لوگوں کی نگاہوں سے پوشیدہ تھی ، وہاں سے وہ عفریت پر بآسانی حملہ کرسکتا تھا۔
پنجشنبہ کو دن میں ہی کاؤس سمندر میں گھات لگاکر بیٹھ گیا، یہ مہم کافی خطرناک تھی، اس لیے اس نےآور کو ساتھ لے جانا مناسب نہیں خیال کیا۔ کاؤس نے محسوس کیا کہ اُس روز دور و نزدیک کوئی بھی ماہی گیر مچھلیاں پکڑتانظر نہیں آتا تھا ، یقینا یہ عفریت سے خوف کا نتیجہ تھا۔
بالآخر شام ہوئی ، کاؤس کی کشتی شدت سے ڈگمگائی، ایسا لگا کہ سمندر میں زلزلہ آگیا ہو، بپھری ہوئی موجیں اس کی کشتی سے ٹکرارہی تھیں، کاؤس کے لیے توازن قائم رکھنا مشکل ہورہا تھا۔ کاؤس نے دور سے دیکھا کہ عفریت ساحل کی طرف بڑھ رہا ہے۔ کچھ دیر کے بعد عفریت ساحل سے اپنے شکار کو لے کر پلٹا اور جیسے ہی کاؤس کے نشانےکی زد میں آیا، اس نے اپنے ترکش سے زہر آشام تیر نکالے اور عفریت پر برسانے شروع کیے۔ یہ تیر سیدھے جاکر عفریت کی گردن میں پیوست ہوگئے مگر اس پر ان کا کوئی اثر نہیں پڑا۔ کاؤس نے تیزی سے چپو چلانا شروع کیا اور آگے بڑھ کر عفریت کے پیٹ پر تیر برسائے جو ٹھیک اپنے ہدف پر جاکر لگے، مگر محسوس ہوتا تھا کہ عفریت کو پتہ بھی نہیں تھا کہ اس پر تیروں کی بارش ہورہی ہے۔ کاؤس کے ہاتھ شل ہوگئے، اس کے سارے تیر ختم ہوگئے مگر عفریت اپنے شکار میں مست چلتا چلاگیا، ایک دو بار اس نے اپنی گردن اور پیٹ پر یوں ہاتھ پھیرا جیسے کوئی اپنے جسم سے تنکے جھاڑ رہا ہو۔
کاؤس بے نیلِ مرام اپنی رہائش گاہ واپس آگیا۔ اگلی صبح بانو سےاس کی ملاقات کھیتوں پر ہوئی، وہ بے چینی سے اس کا انتظار کررہی تھی۔ ساری روداد سن کر وہ گہری سوچ میں پڑگئی۔
"تم نے مجھے بتایا تھا کہ تمھارے باپ کو حرص و طمع کا آزار لاحق ہوگیا ہے۔ آخر طمع کس کو کہتے ہیں؟" کاؤس کے سوال نے بانو کو سوچوں کے دھارا سے باہر نکال دیا۔
بانو نے فوراً کوئی جواب نہیں دیا، قدرے توقف کے بعد وہ بولی"بستی کے مشرق میں پہاڑی پر ایک مردِ دانا رہتا ہے، تم اس سے جاکر ملو، وہی تم کو اس سوال کا جواب دے سکتا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ وہ تمھیں عفریت سے بھی چھٹکارا پانے کی کوئی تدبیر سُجھادے۔"
ضروری کاموں سے فارغ ہوکر کاؤس مردِ دانا کی طرف روانہ ہوگیا، اس تک پہنچنے میں کوئی دشواری پیش نہیں آئی۔ مردِ دانا عبادت میں مشغول تھا، عبادت سے فارغ ہونے کے بعد وہ کاؤس کی طرف متوجہ ہوا اور کہنے لگا
"نوجوان،!تم کیا چاہتے ہو؟"
"اے راست باز انسان! مجھے بتائیے طمع کیا ہے؟" کاؤس نے ادب سے سوال کیا۔
" ہرانسان کے اندر ایک فرشتہ اور ایک جانور ہوتاہے، یہ انسان پر منحصر ہے کہ وہ فرشتے کی پرورش وپرداخت کرتا ہے یا جانور کی۔ طمع جانور کے لیے من بھاتا کھاجا ہے جبکہ فرشتے کی غذا قناعت۔" مردِ دانا نے اطمینان سے وضاحت کی۔
"انسان کو قناعت کیوں نہیں حاصل ہوتی؟" کاؤس کی تشنگی بڑھتی جارہی تھی۔
"طمع جب حد سے بڑھ جائے تو وہ فرشتے کو مارڈالتی ہے، انسان کا جانور اس کے اندر سے باہر نکل آتا ہے اور پھر انسان جانور کے رحم و کرم پر زندگی گزارنے پر مجبور ہوجاتا ہے ، قناعت ہمیشہ کے لیے رخصت ہوجاتی ہے۔" مردِ دانا کے لہجے میں اعتماد تھا۔
"میں نے عفریت کے جسم میں درجنوں زہر آشام تیر اتار دیے، پر اس کا بال بھی بیکا نہیں ہوا۔ میری رہنمائی کیجیے، اس سے کیسے نجات حاصل کی جائے؟" کاؤس کی آواز میں التجا تھی۔
"اے بہادر انسان! تم نے غلط جگہ وار کیے، عفریت کی جان ا س کے مَسکن میں ہو تی ہے۔ اس کے مسکن کو خاکستر کردو، عفریت خود بخود مرجائے گا۔" یہ کہہ مردِ دانا اٹھ کھڑا ہوا اور اپنے حجرۂ خاص کی طرف چل دیا۔
اگلے روز کاؤس نے ہمت مجتمع کی اور جب آفتاب سوا نیزے پر آگیا تو وہ اپنی کشتی میں بیٹھ کر عفریت کے ٹاپو کی طرف روانہ ہوگیا۔ اس نے احتیاطاً اچھی خاصی تعداد میں زہر میں بجھے ہوئے تیر بھی ساتھ رکھ لیے۔ ایک ساعت کشتی کھینے کے بعد وہ عفریت کے نام سے منسوب ٹاپو تک پہنچ گیا۔ اس نے چٹانوں کے بیچ اپنی کشتی چھپادی اور جھاڑیوں کی اوٹ لیتا ہوا ٹاپو میں داخل ہوگیا۔ یہ ایک چھوٹا سا غیر آباد ٹاپو تھا، تھوڑی دیر میں اس نے ٹاپو کا چپہ چپہ چھان مارا مگر اسے عفریت کا کوئی نام و نشان نہیں ملا۔ اس نے ایسی علامتیں ضرور دیکھیں جن سے اندازہ ہوا کہ اس ٹاپو پرانسان آتے رہے ہیں مگر کوئی ایسی نشانی نہیں ملی جسے وہ عفریت کا مسکن کہہ سکے۔
پورا دن اس نے ٹاپو ہی میں گزارا اور جب سورج ڈوبنے میں ایک ساعت باقی رہ گئی تو وہ اپنی کشتی میں واپس جزیرے کی طرف چل پڑا۔ شام ہوچلی تھی مگر ساحل ہی پر بانو سے ملاقات ہوگئی، شاید وہ اس کی واپسی کی منتظرتھی۔ بانو نے خیال ظاہر کیا کہ ہوسکتا ہے عفریت دن میں کہیں اور رہتا ہو اور غروبِ آفتاب کے بعد ٹاپو میں شب بسری کے لیے آتا ہو۔ چنانچہ کاؤس نے اگلے روز ٹاپو میں رات گزارنے کا تہیہ کرلیا۔ اگلے دن اس نے دوپہر بعد کام سے چھٹی لے لی اور سہ پہر کے بعد وہ جزیرے سے روانہ ہوگیا تاکہ سور ج ڈوبنے سے پہلے ٹاپو پہنچ جائے۔ ٹاپو پرپہنچ کر اس نے شب بسری کے لیے ایک اونچے درخت کا انتخاب کیا، اس مقام سے وہ ٹاپو کی چاروں طرف نگاہ رکھ سکتا تھا۔ رات بھر اس کی آنکھیں نگراں رہیں، نیند سے اس کی آنکھیں بوجھل ہوئی جارہی تھیں، لیکن اپنے چہرے پر پانی کےچھینٹے مار مار کر اس نے اپنے آپ کوجگائے رکھا، حتی کہ صبح ہوگئی مگر اسے عفریت نظر نہ آیا۔
بالآخر پھرپنجشنبہ کا دن آگیا ، کاؤس نے بانو اور آور سے مشاورت کے بعد ٹاپو میں پنجشنبہ کی رات بھی گزارنے کا فیصلہ کیا۔ آج حسبِ معمول جزیرے پر عفریت کے آنے کا دن تھا اس لیے عام تعطیل تھی۔ کاؤس دن میں ہی ٹاپو کی طرف نکل گیا۔ شام ہوئی، کاؤس کو یقین تھا کہ اپنا شکار لے کر عفریت ٹاپو کی طرف آئے گا، لیکن وہ نہ آیا۔
انتظار کرتے کرتے نصف شب ہوگئی، کاؤس کو نیند آرہی تھی، وہ ابھی درخت سے نیچے اترنے کا ارادہ کررہا تھا کہ اسے سمندر کی طرف سے کوئی آواز آتی سنائی دی۔ اس نے دیکھا کہ ایک آدمی نے ساحل سے اپنی کشتی لگائی ہے۔ پھر وہ شخص ٹاپو پر چڑھ آیا، اوپر پہنچ کر اس نے مشعل جلائی اور کاؤس کے درخت سے چند گز کے فاصلے پر آکر ایک پتھر پر بیٹھ گیا۔ کاؤس نے اسے پہچان لیا، یہ علاد تھا۔ کاؤس کو حیرت ہوئی کہ نصف شب کو علاد اس ٹاپو میں کیا کررہا ہے۔
ناگاہ ایسا لگا کہ سمندر میں بھونچال آگیا ہو، بپھری ہوئی موجیں ساحل سے ٹکرائیں اور سمند ر میں سے عفریت برآمد ہوا۔ کاؤس دم سادھے درخت کی شاخوں سے چپکا رہا۔ عفریت ٹاپو میں داخل ہوگیا ، اس کے چلنے سے پورا ٹاپو مرتعش ہورہا تھا، وہ علاد کے پاس پہنچ کر دو زانو بیٹھ گیا۔ علاد نے عفریت کو مَس کیا اور کاؤس نے دیکھا کہ عفریت تحلیل ہورہا ہے۔ عفریت کی جگہ اسے دھواں نظر آرہا تھا، علاد نے بھاڑ کی طرح اپنا منھ کھول دیا ، دھواں اس کے منہ میں داخل ہونا شروع کیا اور چند لمحوں میں سارا دھواں علادکے جسم میں سماگیا۔


© 2024. Al Qalam Academy, Glasgow, UK. All rights reserved.