ڈاکٹر محفوظ جاوید ندوی
سابق استاذ، شعبۂ اردو، گلاسگو یونیورسٹی، برطانیہ
شِمطیر کا چہرہ کھل اٹھا، بالآخر اُس شہر کے آثار نظر آنے لگے تھے جس کی تلاش میں وہ گزشتہ تین ماہ سے بھٹکتا پھر رہا تھا، اسے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آرہا تھا۔ اس نے دیکھا کہ کچھ فاصلے پرایک شخص راستےکے کنارے سر جھکائے بیٹھا ہوا ہے، اس نے اپنے سر پر ایک سیاہ چادر ڈال رکھی تھی، اس لیے اس کا چہرہ نظر نہیں آرہا تھا۔ شمطیر اپنا گھوڑا اس کی طرف بڑھا لے گیا اور قریب جاکر اسے مخاطب کرتے ہوئے کہنے لگا
"اے نیک انسان! کیا یہ جو سامنے بستی نظر آرہی ہے، شہرِ شیِبا ہے؟"
شمطیر کی آواز سن کر وہ شخص ہڑبڑاکر اٹھ کھڑا ہوا، اس کے سر سے چادر ڈھلک گئی اور چہرہ کھل گیا۔ اُس کے چہرے پر نگاہ پڑتے ہی شمطیر کے اوسان خطا ہوگئے، چہرے پر گوشت نہیں تھا، صرف ہڈیاں تھیں، پیشانی کے نیچے استخوانی حلقوں میں آنکھوں کے دونوں ڈھیلے اٹکے ہوئے تھے۔ خوف کی شدت سے شمطیر کا گلا خشک ہوگیا، اس کے ہاتھ سے گھوڑے کی باگ چھوٹ گئی، وہ توازن قائم نہیں رکھ سکا اور گھوڑے کی پشت سے پھسل کر زمین پر آگرا۔
وہ شخص کہنے لگا
"اے اجنبی نوجوان! لوگ اس بستی کو شہرِ شیبا کہتے ہیں، مگرمیں تمھیں بتاؤں، یہ شہرِ افسوس ہے۔ میری تاکید ہے کہ تم یہیں سے اپنے وطن واپس چلے جاؤ، ورنہ کفِ افسوس مَلنے کے سوا تمھارے پاس اور کچھ نہیں رہ جائے گا۔" یہ کہہ کر وہ شخص دوبارہ اپنی جگہ جاکربیٹھ گیا اور اپنے اوپر چادر ڈال لی۔
شمطیر زمین سے اٹھ کھڑا ہوا ، اپنے کپڑوں سے گرد جھاڑی اور گھوڑے پر سوار ہوگیا، اس کے اندراتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ مزید اس شخص سے سوال جواب کرتا، گھوڑے کو مہمیز کیا اور شہرشیبا کی طرف چل پڑا۔
شمطیر سوچ میں پڑگیا، اس نے بڑے ارمانوں سے شہر ِشیبا کا قصد کیا تھا۔ اس کی اپنے باپ سے نہیں نبھتی تھی، پھر ایک دن اس کے باپ کے دل میں نہ جانے کیا آئی کہ اس نے شمطیر کو اچھے خاصے پیسے دیے اور اسے مشورہ دیا کہ وہ شہرِ شیبا جائے، وہاں سے مالِ تجارت لے کر آئے اور اپنے وطن میں فروخت کرے۔ شہرِ شیبا اس کے وطن سے تیس دن کی مسافت پر سمندر کے کنارے واقع تھا، یہاں بادبانی کشتیوں سے ہفت اقالیم کے سوداگر ساز و سامان لے کر آتے تھے اور پھر ملک کےگوشے گوشے میں مقامی تاجروں کے ذریعے ان کی ترسیل ہوتی تھی، اس وجہ سے شیبا ایک تجارتی مرکز بن گیا تھا۔
شمطیر ایک تجارتی کارواں کے ساتھ روانہ ہوا تھا مگر راستے میں صحرائی طوفان آگیا، گرد و غبار لیے ہوئے بادِ سموم کے ایسے جھکڑ چلے کہ خیموں کی طنابیں ٹوٹ گئیں، سواری کے جانور منتشر ہوگئے۔ اسی افراتفری میں شمطیر نہ صرف اپنے قافلے سے بچھڑ گیا بلکہ راستے سے بھی بھٹک گیا، ایک ماہ کی مسافت تین ماہ میں قطع کرنے کے بعد اسے شہر شیبا کی جھلکیاں نظر آئی تھیں مگر پھر اس عجیب الخلقت انسان سے اس کی ملاقات ہوگئی جس نے اسے شہر میں داخل ہونے سے باز رکھنے کی کوشش کی۔ "یہ کوئی اچھا شگون نہیں ہے۔" شمطیر نے سوچا۔
ایک ساعت بعد وہ شہر میں داخل ہوگیا، اس نے اپنا سفر جاری رکھا اور کچھ دیر بعد مرکزِ شہر میں پہنچ گیا۔ یہ ایک کشادہ چوک تھا جس میں جا بجا چوبی لمبی نشستیں نصب تھیں جن پر ہر عمر کے لوگ بیٹھے وقت گزاری کررہے تھے، کشادہ سڑکوں پر سواری اور باربرداری کی گاڑیاں رواں دواں تھیں ، چوک کے چاروں طرف دکانیں بنی ہوئی تھیں جن میں تاجر اپنا ساز وسامان سجائے گاہکوں کے انبوہ کو سودا بیچ رہے تھے۔ شہرِ شیبا کی یہ رونق دیکھ کر شمطیر مبہوت رہ گیا، جب اس کے اوسان بجا ہوئے تو اس نے مختلف دکانوں کا جائزہ لینا شروع کیا۔ اسے ایک وسیع و عریض کپڑوں کی دکان نظر آئی جس میں ایک ادھیڑ عمر کا وجیہ انسان ایک مسند پر بیٹھا ہوا تھا اور اس کے نوکر گاہکوں کو نمٹارہے تھے، وہ اپنا گھوڑا اسی دکان کی طرف بڑھا لے گیا۔ معاً اس شخص کی نگاہ شمطیر پر پڑی ، وہ فوراً اپنی مسند سے اٹھ کھڑا ہوا ۔
"خوش آمدید نوجوان! لگتا ہے تم کسی دور دراز بستی سے آئے ہو۔" وجیہ شخص نے مسکراکر اس کا استقبال کیا۔
"آپ کا خیال درست ہے۔" شمطیر نے گھوڑے سے اترتے ہوئے جواب دیا۔
"میرا نام قمبر ہے، کیا تم اپنا تعارف کرانا پسند کروگے؟"
"مجھے شمطیر کہتے ہیں اور میں یہاں سے تیس دن کی مسافت پر واقع ایک چھوٹی سی بستی سے حاضر ہوا ہوں تاکہ کچھ مالِ تجارت خرید سکوں اور اسے اپنے وطن میں فروخت کرکے اپنے اور اپنے خاندان کے لیےرزق کا سامان مہیا کرسکوں۔ مجھے تجارت کا کوئی تجربہ نہیں ہے، اس لیے آپ کے علم و تجربے سے استفادہ کرنا میرے لیے باعثِ اعزاز ہوگا۔" شمطیر نے ایک ہی سانس میں اپنا مدعا بیان کردیا۔
قمبر کے اشارے پر ایک ملازم نے فوراً شمطیر کے ہاتھ سے گھوڑے کی باگ تھام لی اور اس کو دکان کی پشت پر بنے سائبان میں باندھ دیا، دوسرا ملازم شمطیر کے لیے چاندی کے کٹورے میں یخ مشروب لے آیا جسے وہ غٹاغٹ پی گیا۔ قمبر نے اس کو اپنے ساتھ اپنی مسند پر بٹھایا اور کہنے لگا
"تم ابھی تھکے ماندے پہنچے ہو، آج تم میرے یہاں قیام کرو، تجارت کے موضوع پر تم سے کل بات ہوگی۔"
شمطیر کے چہرے پر تشکر کے جذبات ابھرے اور اس نے اثبات میں سر ہلا دیا۔ ابھی چند ہی لمحے گزرے تھے کہ دکان پر ایک بھکاری آگیا، شمطیر کی نگاہ اس پر پڑی اور وہ چونک پڑا۔ اس شخص کے چہرے پر بھی گوشت نہیں تھا ، صرف ہڈیاں تھیں، پیشانی کے نیچے استخوانی حلقوں میں آنکھوں کے دونوں ڈھیلے اٹکے ہوئے تھے۔ قمبر نے بھکاری کی طرف ایک سکہ پھینک دیا۔اس بار شمطیر نے غور سے دیکھا، بھکاری کے سر پر بال تھے ، پورا جسم بھی سلامت تھا، مگر چہرہ کھال اور گوشت سے خالی تھا، یہاں تک کہ چہرے کی ہڈیوں کے پیچھے اندر کے عضلات بھی نظر آتے تھے۔ یہ منظر ایسا دہشت ناک تھا کہ شمطیر کے لیے بھکاری کے چہرے پر نظر ٹکانا مشکل ہوگیا۔
جب بھکاری دکان سے ٹل گیا تو شمطیر قمبر سے کہنے لگا
"جناب! میں بہت پریشان ہوں۔ مجھے ایسا ہی ایک شخص شہر سے باہر راستے میں ملا تھا، اس نےمجھے شہر میں داخل ہونے سے باز رکھنے کی کوشش کی۔ مجھے بتائیے کیا یہ کوئی بیماری ہے جو ان کو لاحق ہوئی ہے؟ میں نے نہ تو ایسی کسی بیماری کے بارے میں کبھی سنا ہے اور نہ آج سے پہلے کبھی کسی گوشت سے خالی چہرے کو دیکھا ہے۔ "
"یہ سب قدرت کے کرشمے ہیں۔ " قمبر تاسف بھرے لہجے میں بولا۔
"جناب! آپ اپنی بات کی کچھ وضاحت کیجیے۔" شمطیر ملتجیانہ لہجے میں بولا۔
"بہتر ہے کہ کچھ باتیں سربستہ راز ہی رہیں۔" قمبر نے شفقت بھرے لہجے میں کہا۔ شمطیر کو مزید کریدنے کی جرأت نہیں ہوئی۔
شام ہوئی اور شمطیر قمبر کی معیت میں ایک گھوڑابگھی میں سوار ہوکر اس کے گھر کی طرف روانہ ہوا۔ قمبر کا گھر مرکزِ شہر سے زیادہ فاصلے پر نہیں تھا، تھوڑی دیر میں وہ دونوں منزلِ مقصود تک پہنچ گئے۔ قمبرکا گھر دیکھ کر شمطیر کے ہوش اڑگئے، یہ ایک کشادہ محل نما بنگلہ ایک وسیع وعریض باغ کے دامن میں بنا ہوا تھا۔ گھر کے سامنے فوارہ نصب تھا ، کیاریوں میں دنیا جہان کے پھول کھلے ہوئے تھے اور پھلوں کے بوجھ سے درختوں کی شاخیں لچک رہی تھیں۔ ملازمین نے ان کا استقبال کیا، سب سے پہلے قمبر کی بیوی بطرا سے ملاقات ہوئی، قمبر نے اس سے مہمان کا تعارف کرایا، بطرا بڑی گرمجوشی سے ملی۔ بطرا نے شمطیر کی مہمان خانے تک رہنمائی کی اور اس سے کہا کہ جب تک کھانا تیار ہوتا ہے وہ نہا دھو کر تازہ دم ہولے۔
ایک ساعت بعد شمطیر کے دروازے پر دستک ہوئی، اس نے دروازہ کھولا، سامنے دو لڑکے کھڑے ہوئے تھے، ایک عنفوانِ شباب میں داخل ہوچکا تھا جب کہ دوسرا ابھی لڑکپن کی حدود میں تھا۔ ان دونوں نے شمطیر کو بتلایا کہ وہ قمبر کے بیٹے ہیں، بڑے کا نام ارمند اور چھوٹے کا نام سرباش ہے۔ ارمند اور سرباش شمطیر کو طویل راہداری سے گزار کر ایک بڑے کمرے میں لائے جس میں ایک وسیع میز نصب تھی اور اس پر انواع و اقسام کے کھانے سجے ہوئے تھے۔ کمرے میں قمبر اور بطرا پہلے سے موجود تھے، ان دونوں نے شمطیر کا مسکراکر استقبال کیا اور بیٹھنے کے لیے کرسی پیش کی۔
کچھ ہی دیر میں شمطیر ان سب سے ایسے گھل مل گیا گویا سالہا سال سے ان کے درمیان زندگی گزارتا آیا ہو۔ وہ کھانا کھارہے تھے، درمیان میں ان کے لطیفے اور قہقہے جاری تھے کہ اچانک ایک نوجوان دوشیزہ کمرے میں داخل ہوئی، اس کے چہرے پر حیرت کے آثار تھے۔ شمطیر اور اس لڑکی کی آنکھیں چار ہوئیں اور فوری طور پر دونوں کے چہروں پر ایک دوسرے کے لیے پسندیدگی کے جذبات ابھر آئے۔
بطرا لڑکی کو مخاطب کرکے کہنے لگی
" بیٹی، آؤ، کھانا کھاؤ، یہ ہمارے مہمان شمطیر ہیں ، ایک دور دراز بستی سے بغرضِ تجارت آئے ہیں۔" پھر وہ شمطیر کی طرف توجہ کرکے سلسلۂ کلام جاری رکھتے ہوئے بولی "یہ میری بیٹی آرزو ہے، یہ ارمند اور سرباش سے عمر میں بڑی ہے، پر اپنے باپ کی لاڈلی ہے۔" قمبر مسکراتا رہا۔
آرزو بڑی بے باکی سے داخل ہوئی تھی ، مگر اب شرمائی شرمائی سی لگ رہی تھی ۔ قمبرکہنے لگا
"کیا ہوا آرزو تم کو؟ تم کہاں سے آرہی ہو؟ اتنا خاموش کیوں ہو؟"
"میں ایک سہیلی کے گھر گئی ہوئی تھی، میں حیران تھی کہ حجرۂ طعام میں اتنا شور کیوں ہورہا ہے۔" آرزو نے بمشکل کہا اور نوالہ اپنے منھ میں ڈال لیا۔
اگلی صبح شمطیر کی آنکھ دیر سے کھلی، قمبر اپنے کاروبار کے لیے مرکزِ شہرجاچکا تھا، گھر میں باقی افراد موجود تھے۔ ناشتہ کرنے کے بعد شمطیر ارمند اور سرباش کے ساتھ شہر کی سیر کرنے نکل پڑا۔ دن بھر گھومنے پھرنے کے باوجود بھی وہ شہر کا محض ایک گوشہ دیکھ سکا تھا، شام کو وہ تینوں تھکے ماندے واپس آئے۔ اگلے روز پھر شمطیر دونوں بھائیوں کے ساتھ ساحلِ سمندر کی سیر کرنے نکل گیا، کئی روز تک یہی معمول چلتا رہا۔ قمبر اور بطرا نے محسوس کیا کہ ایک مدت مدید کے بعد ان کے دونوں بیٹوں کے چہرے خوشی سے سرشار تھے، لگتا تھا ان کی زندگیوں میں کسی چیز کی کمی تھی جو شمطیر کی آمد سے پوری ہوگئی ہے۔
پہلے تو آرزو شمطیر سے شرمائی ہوئی پرے پرے رہی، مگر پھر ان دونوں نے آپس میں بات چیت کرنا شروع کردیا۔ آرزو کو پتہ بھی نہیں چلا کہ کب وہ شمطیر کو اپنا دل دےبیٹھی۔ اس دوران شمطیر نے شہر میں کئی دوست بنالیے تھے، جب ارمند اور سرباش اپنی تعلیم کی طرف متوجہ ہوگئے تو وہ اپنے دوستوں کے ساتھ سارا دن آوارہ گردی کرتا تھا ، شام کوتاخیر سے گھر آتا اور دن چڑھے تک سوتا رہتا۔ گھر کا ہر فرد اس کے آرام و آسائش کا خیال رکھتا۔ شمطیر اپنے میزبانوں کی مہمان نوازی سے بھر پور لطف اندوز ہوتا رہا، پھر ایسا ہوا کہ شمطیر بھول بھی گیا کہ وہ کس مقصد کے لیے شہرِ شیبا آیا تھا۔
شمطیر جب صبح شہر کی طرف نکل جاتا تو آرزو پر سارےدن بے چینی و بے کیفی طاری رہتی، پروہ اپنی اس کیفیت کو کوئی نام دینے سے قاصر تھی۔ شمطیر اور آرزو کی یہ بڑھتی قربتیں قمبر اور بطرا کی نگاہوں سے مخفی نہیں تھیں۔ بطرا مطمئن تھی کہ آرزو کو ایک محبت کرنے والا، قابلِ اعتماد جیون ساتھی ملنے والا ہے، مگر قمبر اس تعلق کو تشویش کی نگاہ سے دیکھتا تھا۔
ایک دن بطرا کی اجازت سے شمطیر آرزو کو اپنے ساتھ ساحلِ سمندر کی سیر کرانے لے گیا۔ اُس دن ان دونوں نے ڈھیر ساری دل کی باتیں کیں ، پھر شمطیر کہنے لگا
"بے شک تمھاری ماں مجھے بہت پسند کرتی ہیں، مگر تمھارے بابا مجھے بطورِ داماد قبول نہیں کریں گے۔"
"کیوں نہیں کریں گے؟ تمھیں کیا پتہ کہ وہ میری کتنی ناز برداری کرتے ہیں! اگر میں چاند تارے توڑکر لانے کو کہوں تو میرے بابا وہ بھی کر گزریں گے۔" آرزو اِٹھلا کر بولی۔
ابھی وہ ساحل پر بیٹھے یہی باتیں کررہے تھے کہ ان کے پاس ایک بھکاری آگیا۔ شمطیر اس کو دیکھ کر چونک پڑا، اس کا چہرہ بھی کھال اور گوشت سے عاری تھا۔ آرزو نے اس کو ایک سکہ پکڑادیا، جب بھکاری ان کے پاس سے ہٹ گیا تو شمطیر کہنے لگا
"میں جب سے آیا ہوں، روزانہ میرا سامنا کسی نہ کسی ایسے شخص سے ہوجاتا ہے جس کے چہرے پر گوشت نہیں ہوتا ہے۔ میں نے جب بھی کسی سے اس کی وجہ جاننے کی کوشش کی، اس نے مجھے ٹال دیا۔ تم ہی بتاؤ، کیا یہ کوئی بیماری ہے؟ یہ لوگ زندہ کیسے رہتے ہیں؟"
" میرا خیال ہے کہ اس تکلیف میں مبتلا ہونے کے بعد کوئی زیادہ دن تک زندہ نہیں رہ سکتا ہے۔جب تک روح اور جسم کا رشتہ قائم ہے، پیٹ کی دوزخ کو بھرنے کے لیے یہ لوگ بھیک مانگ کر گزارا کرتے ہیں۔" آرزو تاسف بھرے لہجے میں بولی۔
"کیا یہ کوئی بیماری ہے؟" شمطیر کے لہجے میں تجسس برقرار تھا۔
"نہیں ، یہ بیماری نہیں ہے۔" آرزو نے دھیرے سے کہا۔
"اگر یہ بیماری نہیں ہے، تو پھر کیا ہے؟" شمطیر اونچی آواز میں بولا۔
"اتنے حسین لمحات کو کیوں دل آزار باتوں میں ضائع کرتے ہو، شمطیر؟" آرزو لگاوٹ بھرے لہجے میں بولی۔
"تم مجھ سے محبت کا دعوی کرتی ہو اور حال یہ ہے کہ ایک سیدھے سادے سوال کا جواب دینا بھی تمھیں گوارا نہیں ہے۔" یہ کہہ کر شمطیر جھلاکر کھڑا ہوگیا اور ایک طرف چل پڑا۔
آرزو نے جھپٹ کر شمطیر کا بازو پکڑ لیا اور اسے زبردستی واپس ساحل پر بٹھاتے ہوئے بولی "یہ بیماری نہیں ، ایک لعنت ہے۔"
"یہ لعنت کن لوگوں پر مسلط ہوتی ہے، یہی تو میں جاننا چاہتا ہوں۔" شمطیر کے لہجے کی جھلاہٹ برقرار تھی۔
آرزو نے کچھ توقف کیا پھر کہنے لگی "یہ اس شہر کا ایک راز ہے جو کسی پردیسی کو نہیں بتایا جاسکتا۔ کچھ مدت رہ لو، تم پر سب کچھ خود آشکار ہوجائے گا۔"
"کیا یہ بہتر نہیں ہوگا کہ تم مجھے اس راز سے آگاہ کردو تاکہ میں ایسےکسی گناہ کے ارتکاب سے بچ سکوں؟ میں جب سے اس شہر میں آیا ہوں ایک انجانے خوف میں مبتلا رہتا ہوں۔" شمطیر کے لہجے میں التجا تھی۔
"اے اجنبی شہزادے! تم مجسم اخلاق ہو، شرافت اور ایثار کا نمونہ ہو، تم سر تا پا محبت ہو۔ تم کیوں فکر کرتے ہو؟ ایسی بلائیں تمھارے قریب بھی نہیں پھٹکیں گی۔" آرزو نے اپنا سر شمطیر کے بازو پر ٹکادیا۔
اگلے روز آرزو نےاپنے دل کی بات بطرا سے کہہ دی۔ بطرا نے وعدہ کیا کہ وہ شام کو اس کے باپ سے بات کرے گی۔ شام ہوئی اور جب بطرا نے قمبر کو آرزو کی خواہش سے آگاہ کیا تو اسے کوئی حیرت تو نہیں ہوئی ، لیکن اس کے چہرے پر فکرمندی کے آثار نمودار ہوگئے۔ دو دن بعد قمبر نے آرزو کو اپنے کمرے میں بلایا ، بطرا بھی کمرے میں موجود تھی، وہ کہنے لگا
"بیٹی ! شریکِ حیات کا انتخاب زندگی بھر کا سودا ہے، اس میں عجلت سے کام نہیں لینا چاہیے۔"
"آپ صحیح کہتے ہیں بابا۔" آرزو نے دھیرے سے سر جھکاکر کہا۔
"کیا آپ کو شمطیر میں کوئی خامی نظر آتی ہے؟" بطرا نے دخل اندازی کی۔
"خامی تو کوئی نظر نہیں آتی، پر اس سے ایک خوف محسوس ہوتا ہے۔ وہ مجھے ایک غیر ذمے دار انسان بھی لگتا ہے، میرا خیال ہے کہ اس کے باپ نےتجارت کے لیے جو کچھ پیسے اس کو دیے تھے وہ دوستوں کے ساتھ کھیل تماشے میں ضائع کرچکا ہے۔" قمبر نے غیر یقینی لہجے میں کہا۔
"اس عمر میں سارے نوجوان ایسے ہی کھلنڈرے ہوتے ہیں، جب شادی ہوجائے گی تو اس کے اندر احساسِ ذمےداری پیدا ہوجائے گا۔" بطرا نے شمطیر کا دفاع کرتے ہوئے کہا۔
قمبر نے بیوی اور بیٹی کے سامنے ہتھیار ڈال دیے اور شادی کی تاریخ طے ہوگئی۔ ابھی شادی میں چند دن باقی تھے کہ ایک صبح شمطیر قمبر سے ملنے اس کی دکان پر آیا، قمبر نے حسبِ معمول اسے اپنے ساتھ بٹھایا ، کچھ دیر بعد شمطیر کہنے لگا
"آپ کا ساحلِ سمندر کے پاس جو گھر ہے، جس میں اکثر کرایے دار رہتے ہیں، وہ مجھے کافی پسند ہے۔ میری خواہش ہے کہ اسے آپ مجھے ہماری شادی کے موقع پر تحفے میں دے دیں۔"
اس کی بات سن کر قمبر کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ اس نے کہا کہ وہ بطرا سے مشورہ کرکے اسے کل تک بتائے گا۔ شام کو جب قمبر گھر آیا تو بطرا سے کہنے لگا
"تمھیں پتہ ہے کہ ہماری پہلے سے یہ نیت تھی کہ ہم اپنا دوسرا مکان اپنی بیٹی کو شادی کا تحفہ دیں گے، مگر آج ایک عجیب بات ہوئی۔"
"کیا ہوگیا؟" بطرا مجسم سوال تھی۔
"آج شمطیر دکان پر آیا تھا اور خواہش ظاہر کی ہے کہ اسے ہم وہ مکان شادی کے موقع پر تحفے میں دے دیں۔ اس نے جس انداز میں اپنا مطالبہ پیش کیا، مجھے پسند نہیں آیا۔ میری خواہش تھی کہ شادی کے بعد کچھ دن یہ دونوں ہمارے ساتھ گزارتے۔" قمبر نے اداسی سے کہا۔
"آپ کیوں پریشان ہوتے ہیں؟ ہماری پہلے سے یہی نیت تھی، اس لیے کیا فرق پڑتا ہے؟" بطرا اسے دلاسا دیتے ہوئے بولی۔
شادی سے دو دن قبل شمطیر نے قمبر کو ایک کاغذ پکڑادیا، اس میں ساز و سامان کی ایک طویل فہرست تھی ۔ شمطیر کا مطالبہ تھا کہ یہ ساری اشیا شادی سے ایک دن پہلے بطور جہیز ساحل پر واقع گھر میں پہنچادی جائیں۔ عین شادی کے دن شمطیر نے ایک بڑی رقم کا مطالبہ بھی کردیا، بطرا نے دخل اندازی کی اور اپنے پس انداز کیے ہوئے پیسوں سے کسی طرح اس معاملے کو رفع دفع کیا۔ آرزو کی رخصتی کے موقع پر قمبر بہت رویا، اس کی ہچکیاں بندھ گئیں۔ اسے یقین تھا کہ وہ اپنی بیٹی کی جدائی سے زیادہ اپنی لاڈلی کی قسمت پر رورہا ہے۔
شادی کے بعد چند ہفتے سکون سے گزرے، پھر ایک دن آرزو گھر آئی، اس کی آنکھیں متورم تھیں۔ وہ روتے ہوئے قمبر اور بطرا کو بتلانے لگی کہ شمطیر کئی دنوں سے اس پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ آپ لوگ اس کے لیے ایک دکان کھول دیں، اور اگر ایسا ممکن نہیں ہے تو اپنی دکان میں اس کو شراکت دار بنائیں۔ یہ سن کر قمبر اداسیوں کے اتھاہ سمندر میں ڈوب گیا، پھر جب اس کی طبیعت سنبھلی تو کہنے لگا
" شادی کے دن اس کو ایک بڑی رقم دی گئی تھی، اس کا کیا بنا؟ "
"میرا خیال ہے کہ وہ سارا پیسہ دوستوں کے ساتھ رنگ رلیوں میں اڑا چکا ہے۔" آرزو کے لہجے میں تذبذب تھا۔
"کیا وہ مالی معاملات میں تم سے مشورہ نہیں کرتا؟" قمبر نے کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے پوچھا۔
آرزو کچھ نہ بولی، اس کی آنکھوں سے محض آنسو گرتے رہے۔ کچھ دیر توقف کے بعد قمبر کہنے لگا
"ہم اس کو اپنے کاروبار میں شراکت دار بنانے کا خطرہ نہیں مول لےسکتے، ایسا غیر ذمے دار شخص ہماری ساکھ کو تباہ کرسکتا ہے۔ البتہ میں کوشش کرتا ہوں کہ اس کے لیے ایک دکان خرید دوں تاکہ وہ حسبِ خواہش اس میں کوئی کاروبار کرسکے۔"
آرزو کا چہرہ مسرت سے تمتما اٹھا، وہ آگے بڑھی اور اس نے قمبر کے ہاتھوں کو چوم لیا۔ دکان قائم ہوئی، قمبر نے اس میں اچھا خاصا مال بھی مہیا کیا ، ارمند اور سرباش بھی شمطیر کا ہر طرح سےتعاون کرتے رہے، لیکن یہ کاروبار شمطیر سے نہ چل سکا، وہ اپنی دکان ملازموں کے حوالے کرکے سارا دن غائب رہتا، اس کا اکثر وقت دوستوں کے ساتھ سیر و شکار میں گزرتا۔ بالآخرچند ماہ کے تجربے کے بعد ایک دن اس نے اپنی دکان بند کردی اور پھر قمبر کی دکان میں آدھمکا۔ شمطیر کا اصرار تھا کہ قمبر اس کو اپنے کاروبار میں شریک کرے، اور اگر ایسا نہ کیا گیا تو اس کے نتائج ٹھیک نہیں ہوں گے۔
"تم مجھے کس بات کی دھمکی دے رہے ہو؟" قمبر نے درشت لہجے میں کہا۔
شمطیر اسے تمسخرانہ انداز میں دیکھتا رہا، پھر وہاں سے چل دیا۔ اسی شام قمبر بطرا سے کہنے لگا
"شمطیر خطرناک ہوتا جارہا ہے، ایسا احسان فراموش انسان میں نے کبھی زندگی میں نہیں دیکھا تھا۔"
چند دن عافیت سے گزر ے، پھر ایک روز ایسا ہوا کہ ارمند ساحلِ سمندر پر ورزش کررہا تھا کہ اس کی پشت کی طرف سے چند اوباش آئے، اس پر ایک کمبل ڈال کر اس کو اس میں جکڑ دیا، کافی دیر زدوکوب کرنے کے بعد اس کو کمبل سمیت سمندر میں پھینک دیا، بڑی جدوجہد سے ماہی گیروں نے اس کی جان بچائی۔ ارمند کی جان تو بچ گئی مگر اس پر پھر ایسا خوف طاری ہوا کہ اس نے گھر سے باہر نکلنا بند کردیا۔ حکام نے بڑی تگ و دو کی مگر اوباشوں کی شناخت نہیں ہوسکی۔ قمبر کو یقین تھا کہ یہ سب کچھ شمطیر کی کارستانی ہے۔
کچھ دنوں بعد ایک شام آرزوزار و قطار روتے ہوئے گھر آئی، اس نے قمبر کے پاؤں پکڑ لیے اور کہنے لگی
"بابا، مجھے معاف کردیں، میں نے ہی آپ لوگوں کو اس تکلیف میں مبتلا کیا ہے۔ یہ میری نادانی تھی کہ میں نے شمطیر کو اپنا جیون ساتھی چنا۔"
"اب کیا ہوا ہے؟"بطرا کے چہرے پر سراسیمگی تھی۔
"اگر بابا نے شمطیر کو اپنے کاروبار میں شریک نہیں کیا تو وہ آپ میں سے کسی کی جان لے سکتا ہے۔" آرزو ہچکیاں لیتے ہوئے بولی۔
"دیکھو بیٹی، یہ مکان، جائداد، کاروبار سب کچھ آپ لوگوں کا ہے۔ شمطیر ایک ناشکرا انسان ہے، وہ ہمارے کاروبار کو تباہ کردے گا۔ اس کو پیسوں سے غرض ہے نا، میں اس کے لیے روزینہ مقرر کردیتا ہوں، جو اسے پابندی سے مل جایا کرے گا۔ " قمبر نے آرزو کو دلاسا دیتے ہوئے کہا۔
آرزو مطمئن ہوکر چلی گئی مگر شمطیر کو اطمینان حاصل نہ ہوسکا۔ ایک شام جب قمبر اپنے باغ میں چہل قدمی کررہا تھا ، کوئی شخص اپنی گھوڑا بگھی پوری قوت سے دوڑاتا ہوا آیا اور اس کو روندتا ہوا چلا گیا۔ قمبر لہولہان ہوگیا، اطبا نے ان تھک محنت کی اور قمبر کو ایک نئی زندگی مل گئی، مگر پیروں کی ہڈیاں ٹوٹ گئی تھیں اس لیے لمبی مدت کے لیے وہ صاحبِ فراش ہوگیا۔
بالآخر شمطیر نے قمبر کا کاروبار سنبھال لیا۔ ایک شام وہ قمبر سے ملنے آیا اور کہنے لگا
"میں آپ سے مصالحت کرنے آیا ہوں۔"
قمبر نے اپنا چہرہ دوسری طرف پھیر لیا۔
بطرا پوچھنے لگی "کیسی مصالحت؟ ہم نے تم کو کیا تکلیف دی ہے؟"
"اگر یہ گھر آپ لوگ میرے نام کردیں تو ہمارے درمیان مصالحت ہوسکتی ہے۔" شمطیر حتمی لہجے میں بولا۔
"اور اگر ہم ایسا نہ کریں تو؟" بطرا خوف زدہ لہجے میں بولی۔
"اگر آپ لوگ ایسا نہیں کرتے تو میں آرزو کو طلاق دے دوں گا۔" شمطیر سپاٹ لہجے میں بولا اور اٹھ کھڑا ہوا۔
بطرا کی چیخیں نکل گئیں، وہ واویلا کرنے لگی۔ ارمند اور سرباش اب شمطیر سے خوف کھانے لگے تھے، جب وہ گھر میں داخل ہوا تھا تو انھوں نے اپنے آپ کو اپنے کمروں میں بند کرلیا تھا۔ جب وہ گھر سے نکل گیا تو وہ باہر آئے اور بطرا کو دلاسا دینے لگے۔ کچھ دیر میں آرزو بھی آگئی، اس نے بھی یہی کہانی سنائی، مگر اس کےچہرے پر اطمینان تھا، کہنے لگی
"اچھا ہے، اس بدطینت شخص سے اس طرح سےجان چھوٹ جائے گی۔"
"نہیں بیٹی، ہماری بھلائی اسی میں ہے کہ ہم یہ مکان اس کے حوالے کردیں، ہم قدرت کے فیصلوں میں دخل اندازی نہیں کرسکتے۔ ہمیں ویسے بھی یہ اطمینان رہے گا کہ ہماری بیٹی اس میں رہتی ہے۔" قمبر تفہیمی انداز میں بولا۔
"بابا، آپ یہ کیا کہہ رہے ہیں؟ میں ایک پل کے لیے بھی آپ لوگوں کے بغیر اس مکان میں نہیں رہ سکتی۔ اب میرا مستقبل آپ لوگوں کے ساتھ ہے، آپ جہاں بھی جائیں گےمیں آپ کے ساتھ جاؤں گی، مجھے اپنے گناہوں کا کفارہ بھی ادا کرنا ہے۔" آرزو کی آنکھوں میں آنسو جھلملارہے تھے۔
قمبر بطرا اور اپنے دونوں بیٹوں کے ساتھ ایک کرائے کے مکان میں منتقل ہوگیا، آرزو بھی اپنا ضروری سامان لے کر ان کے ساتھ منتقل ہوگئی۔ قمبر نے ایک ملازم کے ہاتھ اپنے مکان کی چابی شمطیر کو بھجوادی۔ شمطیر بڑے طمطراق سے اپنے نئے گھر میں داخل ہوا، وہ سوچنے لگا ابھی بمشکل ایک سال پہلے وہ اس گھر میں ایک پردیسی مہمان کے طور پر داخل ہوا تھا اور آج اس کا مالک بن چکا ہے، وہ اپنی صلاحیتوں سے خود بھی کافی متاثر نظر آرہا تھا ۔ اس نے سوچا کہ وہ جلد ہی ایک عظیم الشان دعوت کا اہتمام کرے گا جس میں اس کے سارے دوست اورشہر کی کاروباری شخصیات مدعو ہوں گی۔ اس نے یہ بھی طے کیا کہ جلد ہی اپنے وطن سے اپنے گھر والوں کو بلا بھیجے گا اور کوشش کرے گا کہ وہ بھی اس شہر میں سکونت اختیار کرلیں۔ یہی سب منصوبہ بندی کرتے کرتے اس کی آنکھ لگ گئی۔
رات کے کسی پہر اس کی آنکھ کھل گئی، اس نے محسوس کیا کہ اس کے چہرے میں سوزش ہورہی ہے۔ غسل خانے میں جاکر اس نے اپنے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارے، لیکن جلن میں کوئی کمی نہیں ہوئی، باقی رات تکلیف کی وجہ سے اسے نیند نہیں آسکی۔ دن کی روشنی میں اس نے آئینے میں اپنا چہرہ غور سے دیکھا، اس نے محسوس کیا کہ سارے چہرے میں چھوٹی چھوٹی پھنسیاں نکل آئی ہیں۔ ناشتہ کرکے وہ طبیب کی طرف نکل گیا، طبیب نے چہرے پر لگانے کے لیے اسے ایک مرہم دیا۔ وہ سارا دن اپنے چہرے پر مرہم ملتا رہا مگر افاقہ ہونے کے بجائے سوزش بڑھتی گئی۔ اگلی رات بھی وہ نہیں سو سکا، ساری رات بے چینی میں گزری، اس نے شدت سے آرزو کی ضرورت محسوس کی۔
اگلے چند دن اسی طرح گزرگئے، ایک صبح اس نے آئینے میں دیکھا کہ پھنسیاں بڑی ہوگئی ہیں اور سرخی سے اس کا چہرہ تمتمایا ہوا ہے۔ وہ پھر طبیب کے پاس پہنچ گیا اور شکایت کی کہ اس کی تکلیف رفع ہونے کے بجائے شدید ہوتی جارہی ہے۔ طبیب نے غور سے اس کے چہرے کا جائزہ لینے کے بعد کرسی کی پشت سے ٹیک لگالی اور گہری سانس لیتے ہوئے کہنے لگا
"کیا تم اس شہرمیں محسن کشی کے مرتکب ہوئے ہو؟"
"میں آپ کی بات نہیں سمجھ سکا۔" شمطیر عاجزی سے بولا۔
"میرا مطلب یہ ہے کہ کیا تم نے ہماری اس بستی میں کسی کے ساتھ احسان فراموشی کی ہے؟" طبیب نے وضاحت کی۔
"اگر میں نے کسی کے ساتھ احسان فراموشی کی بھی ہو تو اس کا میری تکلیف سے کیا تعلق ہے؟" شمطیر خوف زدہ لہجے میں بولا۔
"اس شہر میں احسان فراموشی کی سزا لگے ہاتھوں مل جاتی ہے۔ کچھ دنوں میں تمھارا چہرہ گوشت سے عاری ہوجائے گا۔" طبیب نے تاسف بھرے لہجے میں کہا۔
"میں جس بستی سے آیا ہوں وہاں بھی احسان فراموش پائے جاتے ہیں، مگر میں نے کبھی گوشت سے خالی کوئی چہرہ نہیں دیکھا۔" شمطیر کے لہجے میں احتجاج تھا۔
"گوشت سے عاری چہرے ہر بستی میں پائے جاتے ہیں، پر تم ان کو دیکھنا نہیں چاہتے۔ مجھے افسوس ہے کہ میں تمھاری کوئی مدد نہیں کرسکتا۔" یہ کہہ کر طبیب دوسرے مریض کی طرف متوجہ ہوگیا۔
شمطیر بوجھل قدموں سے گھر واپس آگیا۔ کئی دن وہ گھر سے باہر نہیں نکلا، اس دوران اس کے کچھ دوست نئے مکان میں منتقلی پر مبارکباد دینے آئے مگر وہ اپنے کمرے میں مقید رہا۔ اس نے محسوس کیا کہ پھنسیوں سے پیپ خارج ہونے لگی ہے اور چہرےکی جلد غیر معمولی طور پر متورم ہوگئی ہے ۔ ایک شام کے ملگجے اندھیرے میں اس نے حوصلہ یکجا کیا اور قمبر کے نئے گھر کی طرف رخ کیا۔ صدر دروازے پر اس نے دستک دی، سرباش نے دروازہ کھولا مگر شمطیر کو سامنے دیکھ کر وہ الٹے قدم واپس چلا گیا۔ کچھ دیر میں آرزو شمع لیے نمودار ہوئی اور کہنے لگی
"تم ہم سے اب کیا چاہتے ہو؟"
"میں تمھیں لینے آیا ہوں، مجھے تمھاری مدد کی سخت ضرورت ہے۔" شمطیر ملتجیانہ لہجے میں بولا۔
"میرے بابا بیمار ہیں، ان کی عیادت کرنا میری عبادت ہے۔ میرا تم سے کوئی رشتہ باقی نہیں رہ گیا ہے، تم کس رشتے سے مجھے لینے آئے ہو؟ " آرزو کی آواز میں لرزش تھی۔
شمطیر اب تک نیم تاریکی میں کھڑا تھا، وہ آرزو کی طرف چند قدم اور آگے بڑھا، شمع کی روشنی اس پر پڑی اور اس کا چہرہ دیکھ کر آرزو چونک پڑی۔ وہ شمع اس کے چہرے کے مزید قریب لے آئی، آرزو کے چہرے پر افسردگی کے سائے گہرے ہوتے چلے گئے، اس کی آنکھوں سے آنسؤوں کی جھڑی لگ گئی، وہ پیچھے ہٹی اور خاموشی سے دروازہ بند کردیا۔
شمطیر نے شہر کے دوسرے طبیبوں کی طرف بھی رجوع کیا مگر کہیں سے اسے کوئی مدد نہیں مل سکی۔ اس کے چہرے کی جلد جگہ جگہ سے پھٹنے لگی ، پہلے کھرنڈ کی شکل اختیار کی اور پھر چہرے سے جھڑنے لگی، چند ہفتوں میں شمطیر کا چہرہ کھال اور گوشت سے خالی ہوچکا تھا، صرف آنکھوں کے دونوں ڈھیلے تھے جو دونوں حلقوں میں اٹکے ہوئے تھے۔ سوزش میں افاقہ ہوچکا تھا، مگر چہرے میں قوت براداشت ختم ہوگئی تھی، ہوا لگنے سے بھی ہڈیوں میں تکلیف ہوتی تھی۔ شمطیر کو انتہائی احتیاط سے نشست و برخاست کرنی پڑتی تھی، چہرے کی ہڈیوں پر معمولی ضرب بھی پورے جسم میں ناقابلِ بیان درد کی لہردوڑادیتی تھی۔ اب اس کے لیے کروٹ سونا محال ہوگیا تھا کیوں کہ اس سے چہرے کی ہڈیوں پر دباؤ پڑتا تھا۔ شمطیر کی قوت شامہ ختم ہوچکی تھی، قوت ذائقہ بھی معدوم ہوتی جارہی تھی، اس پر مستزاد وہ جس نفسیاتی کرب سے گزر رہا تھا وہ ہر آن اسے مضطرب رکھتا، خودکشی پر مائل خیالات ہر وقت اس کے قلب و دماغ پر چھائے رہتے۔ وہ اپنے باپ کو کوستا اور اکثر بڑبڑاتا رہتا " تم نے مجھ سے انتقام لیا ہے، تم اس بستی کی لعنت سے واقف تھے، تم نے دانستہ مجھے اس شہر میں بھیجا تھا۔"
شمطیر کے اندر اتنا حوصلہ نہیں رہ گیا تھا کہ وہ آئینے میں اپنا چہرہ دیکھ سکتا۔ وہ رونا چاہتا تھا، لیکن لگتا تھا کہ شاید وہ رونا بھی بھول چکا ہے۔ اس کے دوستوں کو اس کی ابتلا کا پتہ چل چکا تھا، انھوں نے بھی اس سے کنارہ کشی اختیار کرلی تھی۔ اس کے ملازمین بھی اس کے پاس آنے سے خوف کھاتے تھے، اس کے کمرے کے دروازے کے پاس کھانا چھوڑ جاتے، وہ کھانا کھاکر برتن باہر رکھ دیتا جہاں سے وہ اسے اٹھالے جاتے۔
پھر ایک صبح شمطیر نے ہمت مجتمع کی، سر پر چادر ڈالی، اس میں اپنا چہرہ چھپایا اور بگھی میں سوار ہوکر دکان کی طرف روانہ ہوگیا۔ دکان میں پہنچ کر اس نے دیکھا کہ سارے ملازمین حسبِ معمول اپنے فرائض تن دہی سے انجام دے رہے ہیں۔ وہ خاموشی سے جاکر اپنی مسند پر بیٹھ گیا، کسی ملازم نے اس کے قریب آنے کی جرأت نہیں کی۔ کئی ساعتیں گزر گئیں، وہ اپنے اوپر چادر ڈالے سر جھکائے بیٹھا رہا، نہ اس نے کسی سے کوئی بات کی، نہ کسی اور نے اس کو مخاطب کرنے کی کوشش کی۔ دوپہر ہونے کو آئی، اچانک کسی نے اس کی چادر اس کے اوپر سے کھینچ لی، شمطیر کا چہرہ کھل گیا، ملازمین کی چیخیں نکل گئیں۔ شمطیر کیا دیکھتا ہے کہ سامنے ایک مجذوب کھڑا ہوا ہے، قبل اس کے کہ شمطیر کے حلق سے کوئی آواز نکلتی، مجذوب کہنے لگا
"شہر کے جنوب میں تین میل کے فاصلے پر ساحلِ سمندر کے کنارے ایک شفاخانہ ہے، تمھاری تکلیف کا وہاں علاج ممکن ہے۔" یہ کہہ کر مجذوب نے شمطیر کے سر پر اس کی چادر دوبارہ ڈال دی۔
شمطیر نے اپنے ذہن پر زور دیا، شہر اور اس کے نواح کا چپہ چپہ اس کا دیکھا ہوا تھا، اسے نہیں یاد آسکا کہ شہر کے جنوب میں کوئی شفاخانہ ہے۔ پھر بھی ڈوبتے کو تنکے کا سہارا، وہ خاموشی سے اٹھا، اپنی بگھی میں سوار ہوا اور شہر کے جنوب کی طرف روانہ ہوگیا۔ شہر سے تین میل کا فاصلہ طے کرنے کے بعد وہ کیا دیکھتا ہے کہ مجذوب کے بتائے ہوئے پتے پرسفید قلعی کی ہوئی ایک عظیم الشان عمارت کھڑی ہے اور اس کی پیشانی پر موٹے لفظوں میں سرخ رنگ سے شفاخانہ درج ہے۔ شمطیر درجنوں بار اس علاقے میں اپنے دوستوں کے ساتھ آچکا تھا، وہ حیرت میں پڑگیا کہ اس کو یہ عمارت پہلے کبھی کیوں نظر نہیں آئی، ایسی بلند و بالا عمارت شہرِ شیبا کے اندر بمشکل دیکھنے کو ملے گی!
اتنی عظیم الشان عمارت میں صرف ایک چھوٹا سا دروازہ تھا، جس پر ایک دربان تعینات تھا۔ شمطیر اپنی بگھی سے اتر کر دروازے کی طرف بڑھا، اس نے دیکھا کہ دربان اونگھ رہا ہے مگر جیسے ہی شمطیر قریب پہنچا، وہ تن کر کھڑا ہوگیا اور اپنے گندے دانتوں کی نمائش کرتے ہوئے کہنے لگا
"شفا خانہ بند ہوچکا ہے، کل صبح آنا۔" یہ کہہ کر وہ بیٹھ گیا اور دوبارہ اونگھنے لگا۔
شمطیر خاموشی سے واپسی کے لیے پلٹ پڑا۔ اگلے روز وہ علی الصبح شفاخانے کے لیے روانہ ہوگیا، اس نے دیکھا کہ وہی دربان اپنی کرسی پر بیٹھا ہوا اونگھ رہا ہے۔ شمطیر کو دیکھتے ہی وہ اٹھ کھڑا ہوا ، اس کو ایک کرسی پیش کی اور کہنے لگا
"اپنی باری کا انتظار کرو، جب تمھارا بلاوا آئے گا تو تم اندر جاسکوگے۔"
شمطیر خاموشی سے کرسی پر بیٹھ گیا اور اپنی باری کا انتظار کرنے لگا، دربان دوبارہ لا تعلقی سے اونگھنے لگا۔ دوپہر ہوئی، پھر سہ پہر آئی مگر اندر سے اس کا بلاوا نہیں آیا۔ شمطیر کی حالت غیر ہوتی جارہی تھی، جب شام ہونے لگی تو اس نے دربان سے التجا کی کہ اس کو اندر جانے کی اجازت دے۔ دربان کہنے لگا
"میں تم کو کیسےاندر جانے دے سکتا ہوں، تم نے اب تک میرا نذرانہ نہیں پیش کیا ہے۔"
"تم نے مجھے پہلے بتایا ہوتا کہ تمھیں نذرانہ پیش کرنا ہے تو یہ خواہ مخواہ کی تاخیر نہ ہوتی۔ تم اندازہ نہیں کرسکتے کہ میں کس اذیت اور کرب سے گزر رہا ہوں۔ تم کو میں کتنا نذرانہ پیش کروں؟" شمطیر اپنا بٹوہ کھولتا ہوا بولا۔
دربان نے ایک بڑی رقم بتائی، جسے سن کر شمطیر کے ہوش اڑگئے۔ "میں اتنی بڑی رقم کا انتظام کیوں کر کرسکتا ہوں۔" شمطیر ہذیانی انداز میں چیخا۔
"میرے پاس تمھارے اس سوال کا جواب نہیں ہے۔" دربان نے اپنے گندے دانتوں کی پھر نمائش کی۔
شمطیر بے نیلِ مرام واپس چلا آیا۔ کئی دن تک وہ اپنے گھر میں مقید رہا، کافی غور وخوض کے بعد اس نے ساحلِ سمندر پر واقع مکان فروخت کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ اُس مکان کی جائے وقوع بڑی پرکشش تھی، مکان بھی کشادہ تھا، اس لیے اسے فروخت کرنے میں دشواری پیش نہیں آئی۔ وہ مطلوبہ رقم لے کر شفاخانے پہنچا ، دربان کو اس کا نذرانہ پیش کیا اور بالآخر اس کو عمارت کے اندر داخل ہونے کی اجازت ملی، مگر اندر ایک دوسری افتاد اس کی منتظر تھی۔ اندر داخل ہونے کے بعد چند گز کے فاصلے پر ایک دوسری دیوار کھڑی تھی، جس میں ایک چھوٹا سے دروازہ تھا اور اس کے سامنے بھی ایک دربان بیٹھا اونگھ رہا تھا۔ شمطیر اس کی طرف بڑھتا چلا گیا، دربان سرعت سے تن کر کھڑا ہوگیا۔ شمطیر نے اپنا مدعا بیان کیا، دربان نے اسے ایک کرسی پیش کی اور انتظار کرنے کو کہا۔ کچھ دیر انتظار کرنے کے بعد شمطیر کہنے لگا
"اگر تمھیں بھی نذرانہ پیش کرنا ہے تو مجھے ابھی سے بتلادو، میرے جسم میں اتنی توانائی نہیں ہے کہ سارا دن اس کرسی پر بیٹھ کر انتظار کرسکوں۔" شمطیر نے محسوس کیا کہ اس کو اب بولنے میں بھی دشواری محسوس ہورہی ہے۔
دربان کچھ بولا نہیں، صرف اپنے دانتوں کی نمائش کردی جو پچھلے دربان کے دانتوں سے بھی زیادہ گندے تھے۔ شام ہوگئی ، دربان نے دروازہ بند کردیا اور شمطیر مایوس ہوکر گھر واپس چلا آیا۔ اگلے کئی روز تک یہ سلسلہ چلتا رہا، اس دوران دربان شمطیر کو دلاسا دیتا رہا کہ جب تک اندر سے بلاوا نہیں آتا، وہ کچھ نہیں کرسکتا۔ ایک روز دربان حرفِ مطلب اپنی زبان پر لے آیا اور نذرانے کا مطالبہ کیا۔ اِس دربان نے جو رقم بتائی وہ اس رقم سے دوگنی تھی جو وہ پہلے دربان کو ادا کرچکا تھا۔ مرتا کیا نہ کرتا، دوسرے دربان کو بھی رشوت دینی پڑی ، ساحلی مکان کی فروخت سے جو پیسے ملے تھے ، وہ دونوں دربانوں کی نذر ہوگئے۔
بالآخر شمطیر دوسرے دروازے سے اندر داخل ہوا، اندر داخل ہوتے ہی وہ ہذیانی انداز میں اپنے بال نوچنے لگا، سامنے ایک تیسری دیوار کھڑی تھی، جس میں ایک چھوٹا سا دروازہ تھا اور اس کے سامنے ایک تیسرا دربان بیٹھا تھا۔
شفاخانے کا چکر کاٹتے ہوئے شمطیر کو چار ماہ ہوچکے تھے، آج ساتویں دربان کا سامنا تھا مگر اس کو نذرانہ دینے کے لیے اس کے پاس کچھ باقی نہیں بچا تھا۔ گزشتہ چھ دربانوں کے مطالبات کی تکمیل کرتے کرتے اس کی دکان اور دونوں مکان بِک چکے تھے، وہ ایک کٹیا میں منتقل ہوچکا تھا۔ شمطیر کی صحت تیزی سے گرتی جارہی تھی، اس کو بے شمار عوارض لاحق ہوگئے تھے۔ اسے بتایا گیا تھا کہ یہ آخری دربان ہے ، یہ مرحلہ طے ہونے کے بعد اس کا علاج ہوسکے گا۔ اس کی طبیعت آمادہ نہیں تھی کہ وہ شفا خانے کا رخ کرے، مگر زندہ رہنے کی جبلت اس پر غالب آگئی اور وہ پیدل شفاخانے روانہ ہوگیا۔ ساتویں دربان نے اس کو دیکھ کر اپنے کریہہ دانتوں کی نمائش کرتے ہوئے بولا
"میرا نذرانہ لائے ہو؟"
"میرے پاس ایک کوڑی پونجی نہیں باقی بچی ہے، میں خود بھیک مانگ کر گزارا کرتا ہوں۔ میں تمھارا مطالبہ کیسے پورا کرسکتا ہوں؟" شمطیر نے گھگیاتے ہوئے کہا۔
"پھر میں تمھاری کوئی مدد نہیں کرسکتا۔" ساتویں دربان نے بے رخی سے کہا اور اونگھنے لگا۔
شمطیر کھڑا کچھ دیر سوچتا رہا، پھر اس کے دل میں کیا آئی کہ وہ پوری قوت سے ساتویں دربان سے جا ٹکرایا اور اس کو پرے دھکیل کر دروازےکے اندر جانے کی کوشش کی۔ ساتواں دربان بڑا طاقت ور ثابت ہوا، اس نے محض ایک ہاتھ سے شمطیر کو دھکا دیا اور وہ منہ کے بل جا گرا، اس کے چہرے کی ہڈیاں زمین سے ٹکرائیں جس کی آواز دور دور تک سنائی دی۔ شمطیر کافی دیر تک زمین پر پڑا سسکیاں لیتا رہا، پھر کسی طرح اپنے آپ کو سمیٹا اور ساتویں دربان کو مخاطب کرکے کہنے لگا
"مجھے ایک بات بتاؤ، اگر یہ عمارت تم لوگوں کے دعوی کے مطابق ایک شفاخانہ ہے تو میرے علاوہ آج تک کوئی دوسرا مریض یہاں کیوں نظر نہیں آیا؟" شمطیر کی سانس اکھڑنے لگی تھی۔
"اس لیے کہ یہ شفاخانہ صرف تمھارے لیے تعمیر کیا گیا تھا۔" ساتویں دربان کے چہرے پر ایک سفاک مسکراہٹ پھیل گئی۔
© 2024. Al Qalam Academy, Glasgow, UK. All rights reserved.