Al Qalam Logo

کایا کلپ

ڈاکٹر محفوظ جاوید ندوی
سابق استاذ، شعبۂ اردو، گلاسگو یونیورسٹی، برطانیہ

Image

منتظم کے دفتر کا دروازہ اندر سے بند تھا۔ کارخانے کے مالکان صبح سے اس کے ساتھ نشست کررہے تھے، کبھی کبھار ان کی آوازیں بلند ہوجایا کرتی تھیں مگر کارخانے کے عملے کے کسی کارکن کے اندر ہمت نہیں تھی کہ وہ دروازے کے قریب جاکر سُن گُن لینے کی کوشش کرتا۔ اچانک اندر سے ایسی آوازیں آنے لگیں جیسے کوئی درندہ غرّارہا ہو، ساتھ ہی انسانی چیخیں سنائی دیں، پھر ایسے لگا جیسے کوئی اندر دروازے سے ٹکرایا ہو۔ کارخانے کا معتمد مضطرب ہو کر اپنی کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا اور تیزی سے منتظم کے دفتر کی طرف دوڑا ، کھاتہ نویس دارش اور غلیم بھی اس کے پیچھے لپکے۔ معتمد نے زورزور سے دروازے پر دستک دی مگر کسی نے دروازہ نہیں کھولا۔ فلک شگاف چیخیں بلند ہوتی رہیں، ایسا لگتا تھا کہ اندر لوگوں کے گلے ریتےجارہے ہوں، پھر انھوں نے دیکھا کہ دروازے کے نیچےسے تازہ تازہ خون بہتا ہوا آرہا ہے۔
معتمد، دارش اور غلیم کی قوت برداشت جواب دے گئی، شور سن کر کارخانے کے کئی نگراں اور مزدور بھی اکٹھا ہوگئے تھے، ان کی مدد سے ان تینوں نے مل کر دفتر کے دروازے کو توڑ دیا۔ اندر ایک ہیبت ناک منظر ان کا انتظار کررہا تھا، پانچوں مالکان کی لاشیں پڑی ہوئی تھیں، لگتا تھا کہ کسی درندے نے ان کے نرخروں میں اپنے نوکیلے دانت پیوست کرکے پنجے سے ان کے پیٹ پھاڑ دیے ہیں۔
اُن سبھوں کو تلاشِ بسیار کے باوجود منتظم کہیں نظر نہیں آیا۔ کھڑکی اپنی جگہ پر نظر نہیں آرہی تھی ، دارش نے جھانک کر دیکھا، کھڑکی اپنے آہنی جنگلے سمیت باہر دیوار کے نیچے پڑی ہوئی تھی۔ معتمد نے قاصد کو فوراً بھیجا کہ وہ داروغہ کو وقوعے کی اطلاع دے۔ داروغہ چند لمحوں میں اپنے سپاہیوں کے ساتھ آن موجود ہوا۔ یہ حادثہ اتنا بڑا تھا کہ اس کی خبرسارے شہر میں آناً فاناً جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی، تفتیش کے لیے کوتوالِ شہر بھی اپنے عملےکے ساتھ جائے حادثہ پر پہنچ گیا۔
یہ کارخانہ شہر کے پانچ معزز خاندانوں کی مشترکہ ملکیت تھا۔ مقتولین کے ورثا گریہ و زاری کررہے تھے، حکام نے کارخانے کو فوری طور پر بند کردیا۔ داروغہ نے اپنے سپاہیوں اور کارخانے کے عملہ اور مزدوروں سمیت شہر کا چپہ چپہ چھان مارا ، شہر سے کچھ فاصلے پر ایک وسیع و عریض جنگل واقع ہوا تھا، اس کے اندر میلوں تک گھس کر تلاش کرتے رہے مگر منتظم کا کوئی سراغ نہیں ملا۔ کوتوال کے لیے سب سے بڑی باعثِ استعجاب بات یہ تھی کہ دفتر کی کھڑکی کو کس نے اپنی جگہ سے اکھاڑ پھینکا تھا؟ یہ کسی فردِ واحد کی کارستانی نہیں لگتی تھی! دورانِ تفتیش کوتوال کو پتہ چلا کہ منتظم کا سلوک اپنے ماتحت عملہ کے ساتھ آمرانہ اور جابرانہ تھا۔ معمولی خطاؤں پر وہ چابک سے مزدوروں کی چمڑی ادھیڑ دیتا تھا، کارخانے کا ہر کارکن منتظم کے رویے سے شاکی پایا گیا۔
کئی دنوں کی تلاش و جستجو کے باوجود منتظم کا نام و نشان نہ ملا۔ بالآخر تھک ہار کر کوتوال حاکمِ شہر کے حضور پیش ہوااور اس کو اپنی کارگزاری کی روداد سناتے ہوئے کہنے لگا
"میرا خیال ہے کہ پانچوں مالکان کسی جانور کی درندگی کا شکار ہوئے ہیں۔"
"پھرمنتظم کے بارے میں تمھارا کیا نظریہ ہے؟" حاکمِ شہر غراتے ہوئے بولا۔
"جنابِ والا! میرا خیال ہے کہ منتظم بھی اسی درندے کا شکار ہو ا ہے۔" کوتوال نے وضاحت کی۔
"اگر تمھارا خیال صحیح ہے تو پھر اس کی لاش کی باقیات کیوں نہیں ملیں؟" حاکمِ شہر نے سر جھٹکتے ہوئے کہا۔
"اس لیے کہ درندہ منتظم کی لاش کو اپنے ساتھ جنگل اٹھا لے گیا۔ ظاہر ہے وہ سب کی لاشیں تو ساتھ نہیں لے جاسکتا تھا!" کوتوال پُر تیقن لہجے میں بولا۔
"تو کیا تم یہ ثابت کرنا چاہتے ہو کہ درندےنے کھڑکی کوآہنی جنگلے سمیت باہر سے اکھاڑ لیا تھا؟" حاکمِ شہر تمسخرانہ لہجے میں بولا۔
"نہیں، میں یہ نہیں سمجھتا ہوں۔ میرا خیال ہے کہ اسی رات نقب زنی ہوئی تھی، چوروں نے کھڑکی اکھاڑ لی تھی مگر شاید چوکیدار کی آہٹ سن کر فرار ہوگئے تھے۔ کارخانے کے کسی دوسرے فرد کو اس نقب زنی کا پتہ نہیں چل سکا کیونکہ صبح سے ہی منتظم اور مالکان دفتر میں نشست کررہے تھے، دن کے دوسرے حصے میں درندے نے اس موقع سے فائدہ اٹھالیا۔" کوتوال بے تکان بولتا رہا۔
"تمھاری توجیہات میری سمجھ سے بالاتر ہیں۔" حاکمِ شہر اکتائے ہوئے لہجے میں بولا۔ " مگر تمھارا نظریہ تسلیم کیے بغیر کوئی چارہ بھی نہیں۔ جاؤ ورثا کو بھی یہی گوش گزار کردو۔ "
کوتوال سینے پر ہاتھ رکھ کورنش بجالایا اور واپسی کے لیے پلٹا کہ یکایک وہ دوبارہ حاکمِ شہر کی طرف مڑا اور کہنے لگا
"حضور! میں ایک بات عرض کرنا بھول گیا۔"
"اب کیا رہ گیا ہے؟" حاکمِ شہر نے کھردرے لہجے میں پوچھا۔
"منتظم کے دفتر میں ایک چیز ملی ہے، وہ تازہ ہے مگرجگہ جگہ سے شکستہ ہے، لگتا ہے وہ کسی جانور کی کھال ہے ، مگر ہم اندازہ نہیں کرسکے کس جانور کی کھال ہے۔ اس سے ملتی جلتی کھال سُور کی ہوتی ہے، مگر ہم نے تحقیق کرلی ہے وہ سور کی کھال نہیں ہے۔۔۔۔۔۔"
"میں اب اور کچھ نہیں سننا چاہتا۔" حاکمِ شہر نے کوتوال کی بات کاٹتے ہوئے کہا "تمھارا پہلا نظریہ فہم سے قریب ہے، جاؤ اہلِ شہر کو اس سے آگاہ کردو۔ باقی ایک زائد لفظ بھی تمھاری زبان سے نہیں نکلنا چاہیے۔"
کوتوال نے سرِ تسلیم خم کیا اور باہر نکل گیا۔
چالیس روز تک ورثاسوگ مناتے رہے، اس دوران کارخانہ بند رہا۔ بالآخر سوگ کے اختتام پر کارخانہ کھول دیا گیا اور سارے ملازمین کام پر واپس آگئے۔ ایک ہفتے بعد ورثا نے کارخانے میں سارے ملازمین کو اکٹھا کیا اور نئے منتظم کے انتخاب میں ان کی رائے جاننے کی کوشش کی۔ اصولی طور پر معتمد کا استحقاق تھا کہ اسے منتظم منتخب کیا جائے مگرورثاکو یہ دیکھ کر بڑی حیرت ہوئی کہ ہر طبقے کے ملازمین نے بیک زبان دارش کا نام پیش کیا۔ دارش خود بھی حیرت زدہ تھا، وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ وہ کارخانے کے ملازمین میں اتنا ہر دلعزیز ہے۔
نئے مالکان نے ملازمین کی اکثریت کے مطالبے کے سامنے ہتھیار ڈال دیے اور دارش کو نیا منتظم مقرر کردیا، ا س کو منتظم کے دفتر کی چابی اور مہر بھی پکڑادی۔ دفتر کی کھڑکی کی مرمت پہلے ہی کردی گئی تھی اور ایک نیا آہنی جنگلہ لگادیا تھا۔ اس روز دارش نے اپنے اندر عاجزی محسوس کی، حسبِ دستور ملازمین ایک ایک کرکے دارش کو مبارکباد پیش کررہے تھے، دارش کو یہ سب خواب لگ رہا تھا۔
شام کو جب اس نے اپنے اہلِ خانہ کو اپنے نئے عہدے کی خبر سنائی تو گھر میں جشن کا سماں بندھ گیا۔ دارش کو اس کے باپ طلموش نے گلے لگالیا، اس کی ماں نیشم نے اس کی بلائیں لیں۔ دارش اپنی اکلوتی دس سالہ بچی قلزم کو معمول سے زیادہ پیار کرتا رہا اور اسے شیرینی کھلاتا رہا۔ جب تنہائی نصیب ہوئی تو اس کی بیوی زمیرا اس کے سینے سے چمٹ گئی اور کہنے لگی
"مجھے تم پر ہمیشہ یقین تھا، یہ نیا عہدہ تمھاری ترقی کا پہلا زینہ ہے۔ "
اگلے روز دارش نے کارخانے کے مختلف شعبوں کے ذمے داروں کے ساتھ ایک اجتماعی نشست کی۔ اس نے محسوس کیا کہ ان کی آنکھوں میں اس کے لیے احترام ہے۔ نشست کے بعد وہ کارخانے کا جائزہ لینے چل پڑا، ملازمین اسے دیکھ کر احترام سے کھڑے ہوجاتے اور اس کو سلام پیش کرتے۔ اس کو اس کارخانے میں کام کرتے کئی سال گزر چکے تھے، لیکن اس کو اس قسم کی عزت و توقیر سےکبھی سابقہ نہیں پڑا تھا، زندگی میں پہلی بار دارش نےاپنے اندر ایک عجیب و غریب سُرور محسوس کیا۔
کارخانے کا دورہ کرنے کے بعد دارش کھاتہ نویسوں کے گوشے کی طرف بڑھ گیا، اس نے دیکھا کہ سارے کھاتہ نویس کھڑے ہوگئے ہیں، ان میں اس کا دوست غلیم بھی شامل تھا، سبھوں نے اس کو بیک زبان سلام کیا، اسے بڑا لطف آیا۔ وہ وہاں رکا نہیں بلکہ اپنے دفتر کی طرف چل پڑا۔ دفتر میں پہنچ کر اسے تنہائی نصیب ہوئی، وہ منتظم کی کرسی پر شان سے براجمان ہوگیا۔ اس نے میز کی درازوں کو کھنگالنا شروع کیا، ان میں اس کو کارخانے کے بہت سارے کاغذات ملے، سابق منتظم کا ذاتی سازوسامان بھی ملا۔ ذیلی دراز میں چابک دیکھ کر وہ چونک پڑا، اس کے چہرے پر ایک غیر معمولی مسکراہٹ پھیل گئی۔ اس نے محسوس کیا کہ اس پر سرور طاری ہورہا ہے، یہ سرور ذہنی نہیں تھا، یہ اس کے رگ و پے میں سرایت کررہا تھا۔ اسے لگا جیسے کو ئی نامعلوم لذت اس کے جسم میں رینگ رہی ہے، رینگتے رینگتے وہ اس کے ہاتھوں اور پاؤں میں داخل ہوگئی، اس نے اپنی انگلیوں کے پوروں میں ٹیسیں محسوس کیں، کیا یہ کوئی درد تھا؟ درد تھا مگر میٹھا میٹھا، کیف آگیں، اسے کوئی تکلیف نہیں محسوس ہورہی تھی۔
دارش نے اپنے سر کو جھٹکا دیا اور سوچنے لگا یہ کیسی لذت ہے جس سے وہ روشناس ہورہا ہے۔ اس نے نوجوانی میں حشیش، چرس اور بھنگ سبھی آزمایا تھا، ایک مدت تک وہ شراب نوشی میں مبتلا تھا۔ انواع و اقسام کے کھانے، پھل، میوے اور طرح طرح کے مشروبات کی لذتوں سےوہ بخوبی آشنا تھا۔ شادی شدہ تھا، اس لیے جنسی لذت بھی اس کے لیے نا مانوس شے نہ تھی، پر یہ سُرور دارش کے لیے بالکل نیا تجربہ تھا، اس لذت سے وہ ناآشنا تھا، وہ اس کو کوئی نام نہیں دے سکا۔
شام کو اس نے زمیرا سے اپنی اس نئی کیفیت کے بارے میں تذکرہ کیا تو وہ ہنس پڑی اور کہنے لگی
"یہ ایک بہت بڑی ذمے داری ہے جو اچانک تمھارے کندھوں پر آگئی ہے۔ ظاہر ہے تم کیا، کوئی بھی اس کی توقع نہیں کررہا تھا۔ تمھارا ذہن ابھی تک اس نئی صورتِ حال کو قبول نہیں کرسکا ہے۔ یہ محض ایک عارضی نفسیاتی کیفیت ہے، آہستہ آہستہ تم اس نئے عہدے کے عادی ہوجاؤ گے تو یہ وقتی ذہنی ابال ٹھنڈا ہوجائے گا۔" دارش مطمئن ہوکر سوگیا۔
چند ہفتوں کے بعد کارخانے کے ملازمین نے دارش کے اعزاز میں ایک ظہرانے کا اہتمام کیا، کارخانے کے نئے مالکان نے بھی اس میں شرکت کی۔ مختلف شعبوں کے ذمے داروں نے آج کے دن رسمی طور پر دارش کو اس کی ترقی پر ہدیۂ تہنیت پیش کیا۔ دارش نے محسوس کیا کہ اس پر پھر وہی انجانا سرور طاری ہورہا ہے۔ لذت اس کے سارے جسم میں رینگ رہی تھی ، اس کی انگلیوں میں ٹیسیں اٹھ رہی تھیں، اس نے محسوس کیا کہ یہ نئی لذت اس کے ناخنوں کے راستے پھوٹنا چاہتی ہے۔ دارش کے پپوٹے بھاری ہونے لگے۔ غلیم کافی دیر سے دارش کی کیفیت کا مشاہدہ کررہا تھا، وہ اس کے پاس آیا اور کہنے لگا
"دارش، لگتا ہے تمھاری طبیعت کچھ ناساز ہے، تم اپنے دفتر چلے جاؤ، مہمان ویسے بھی جاچکے ہیں۔"
"میری طبیعت بالکل ٹھیک ہے، لگتا ہے کہ میں نے کچھ زیادہ کھالیا ہے۔" دارش نے ہنس کر کہا۔
"وجہ جو بھی ہو مگر مجھے تمھاری طبیعت ٹھیک نہیں لگتی۔" یہ کہہ کر غلیم نے دارش کو ہاتھ سے کھینچ کر کھڑا کیا اور اس کو لے کر دفتر کی طرف چل پڑا۔ راستے میں دارش نے اپنا بازو اس سے زبردستی چھڑاتے ہوئے کہا
"اچھا اب تم واپس جاؤ، میں یہاں سے اپنے دفتر خود چلا جاؤں گا۔"
دفتر پہنچ کر اس کی طبیعت نہیں سنبھل سکی ، بلکہ اس کی از خود رفتگی میں اضافہ ہوتا گیا۔ اس کی انگلیوں میں تشنج پیدا ہورہا تھا، اس نے اپنی انگلیوں کی طرف دیکھا، کیا اس کے ناخن بڑھ رہے تھے؟ "نہیں، یہ اس کا وہم ہے۔" اس نے یہ خیال اپنے ذہن سے جھٹک دیا۔ اس نے محسوس کیا کہ اس کی داڑھی اور مونچھوں کے بال کھڑے ہوگئے ہیں۔ وہ آئینے کے سامنے جاکر کھڑا ہوگیا، اس نے دیکھا کہ صرف داڑھی اور مونچھ ہی نہیں بلکہ سر کے سارے بال تنے ہوئے ہیں۔
اس نے دوڑ کر اندر سے دروازہ بند کردیا کہ مبادا کوئی دفتر میں کسی ضرورت سے اچانک آ دھمکے۔ پھر اس کے دل میں کیا آئی کہ اس نے دراز سے چابک نکال لیا اور اس کو فضا میں لہرانے لگا۔ اس کی حیرت کی انتہا نہیں رہی کہ جیسے ہی اس نےچابک لہرانا شروع کیا اس نے اپنی طبیعت میں فوری افاقہ محسوس کیا۔ نصف ساعت کی ورزش کے بعد اس نے اپنے ناخنوں اور بالوں کا دوبارہ جائزہ لیا، اسے یہ دیکھ کر اطمینان ہوا کہ اب اس کے ناخن بڑھے ہوئے نہیں تھے اور بال بھی اپنی جگہ پر بیٹھ گئے تھے، تاہم ابھی نشہ ہرن نہیں ہوا تھا۔
دارش شام تک اپنے دفتر میں مقید رہا، جب اسے یقین ہوگیا کہ سارے لوگ گھر جاچکے ہیں تو وہ چپکے سے اپنے دفتر سے نکلا۔ راستے میں اسے ایک بڑا درخت نظر آیا جس کی شاخیں دور دور تک پھیلی ہوئی تھیں۔ حالانکہ وہ بچپن سے بلندی سے خوف کھاتا آیا تھا اور شایدہی زندگی میں کبھی درخت پر چڑھنے کی کوشش کی ہو مگر اس کو پتہ نہیں کیا سوجھی کہ وہ دوڑتا ہوا درخت پر چڑھتا چلا گیا، وہ کافی دیر تک ایک شاخ سے دوسری شاخ پر پُھدکتا رہا ۔ پھر اسے ایک شاخ پر ایک گھونسلہ نظر آیا، گھونسلہ کسی پرندے کے انڈوں سے بھرا ہواتھا۔ دارش نے ایک ایک کرکے انڈے توڑ کر کھانے شروع کیے اور تھوڑی دیر میں وہ سارے انڈے چٹ کرگیا، پھر اسی شاخ سے زمین پر جست لگا کر نیچے اتر آیا۔
دارش نے محسوس کیا سُرور والی کیفیت ختم ہوچکی ہے، اسے اپنی انڈے کھانے والی غیر انسانی حرکت پر پچھتاوا ہورہا تھا۔ اس کی طبیعت پر اضمحلال طاری ہونے لگا اور اسی حالت میں وہ اپنے گھر میں داخل ہوا۔ اس کی حالت دیکھ کر زمیرا کو حیرت کا جھٹکا لگا، وہ پوچھنے لگی
"کیا تم کہیں راستے میں گرپڑے تھے؟ تمھارےسارے کپڑے گرد آلود کیوں ہیں؟"
"ہاں میں راستے میں ٹھوکر کھاکر گرپڑا تھا، میری طبیعت کافی خراب ہے۔ میں آج شام کا کھانا نہیں کھاؤں گا، دوپہر کا کھانا ابھی تک ہضم نہیں ہوا ہے۔" دارش نے جواب دیا اور اپنے بستر میں دراز ہوگیا۔
اگلے روز دارش دفتر میں کاغذات کا جائزہ لے رہا تھا کہ اس پر پھر سُرور کی کیفیت طاری ہونے لگی، اس کے بال کھڑے ہونے لگے اور اب اسے کوئی شبہ نہیں رہ گیا تھا اس کے ناخن لمبے ہورہے تھے۔ وہ ایک جھٹکے سے اٹھ کھڑا ہوا ، دراز سے چابک نکالی اور تیزی سے کارخانے کا جائزہ لینے چل پڑا۔ اس نے دیکھا کہ چند مزدور کام سے وقفہ کر رہے ہیں، اس نے آؤ دیکھا نہ تاؤ، ان پر چابک برسانا شروع کیا۔ مزدور چیخنے لگے، ان کی چیخیں سن کر ان کا نگراں بھاگتا ہوا آیا اور دارش سے کہنے لگا
"حضور آپ ان کی کیوں تادیب کررہے ہیں؟"
"اس لیے کہ کام کے وقت یہ حرام خوری کررہے ہیں۔" دارش غصے سے پھنکارتے ہوئے بولا۔
"جناب، کارخانے کے اصول و ضوابط کے مطابق وہ کام سے وقفہ کر رہے ہیں، آپ کو یقیناً کوئی غلط فہمی واقع ہوئی ہے۔ " نگراں نے عاجزی سے وضاحت کی۔
دارش کو حیرت ہوئی کہ جیسے ہی اس نے مزدوروں پر چابک برسانا شروع کیا تھا، اس کے بال فوری طور پر بیٹھنے لگے تھے، اس کے ناخن بھی اپنی اصلی حالت میں واپس آنے لگے تھے اور اس کے جسم میں سُرور نے بھی رینگنا بند کردیا تھا۔ دارش نے نگراں کے ساتھ مزید حجت کرنا مناسب نہیں جانا اور واپس اپنے دفتر کی طرف چل پڑا۔
پھر ایسا ہوا کہ دارش کا یہ روز کا معمول ہوگیا کہ جب بھی اس پر نشہ طاری ہونے لگتا اور اس میں جسمانی تبدیلیاں ہونے لگتیں وہ چابک لے کر مزدوروں کی طرف نکل جاتا اور ان کی معمولی خطاؤں پر ان کی کھال ادھیڑ دیتا۔ اس کو تو فوری افاقہ حاصل ہوجاتا مگر پورے کارخانے میں ایک خوف و ہراس کا ماحول طاری رہنے لگا۔ سالہاسال سے جن دوستوں کے ساتھ اس کارخانے میں کام کرتا آیا تھا، ان کے ساتھ اس کے لیے اٹھنا بیٹھنا مشکل ہوگیا، جب بھی ان کے ساتھ بے تکلفی سے بیٹھتا اس پر سرور طاری ہونے لگتا، اس میں جسمانی تغیرات ظاہر ہونے لگتے ، وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس کے واقف کار اس کے اندراس قسم کی جسمانی تبدیلیوں کا مشاہدہ کریں۔ بالآخر اس نے کارخانے سے باہر بڑے لوگوں سے دوستیاں بنانی شروع کردیں اور چھٹی کے لمحات انھی کے ساتھ گزارنے لگا، اس کے لیے یہ بات قابلِ اطمینان تھی کہ اپنے ہم رتبہ لوگوں کی مجلس میں اس کی طبیعت میں اعتدال رہتا تھا۔
گھر میں ہمیشہ سے یہ معمول تھا کہ سبھی شام کا کھانا ایک ساتھ کھاتے تھے۔ اپنی ماں نیشم، بیوی زمیرا اور بیٹی قلزم کی معیت میں اس کی کیفیت متوازن رہتی مگر جیسے ہی اس کا سامنا اپنے باپ طلموش سے ہوتا اس پر سُرور کا حملہ پوری قوت سے ہوتا، اس کے ناخن بڑھ کر نوکیلے ہوجاتے اور جسم کے سارے بال کھڑے ہوجاتے۔ اس نے اس کا علاج بس یہی سوچا کہ باپ کا سامنا کرنے سے اجتناب برتے ، وہ اپنے کمرے میں تنہا کھانا کھانے لگا، ہفتوں پر ہفتے گزر جاتے اور باپ بیٹے میں علیک سلیک تک نہیں ہوتی تھی۔
دارش کی چیرہ دستی کی کہانیاں شہر میں زبان زد ِ عام ہونے لگیں ۔ کارخانے کے کئی ملازمین نے چپکے سے رورو کر طلموش کو اپنا دکھڑا سنایا۔ ماں اور بیوی تک پہلے ہی خبریں پہنچ چکی تھیں۔ بالآخر ایک شام جب طلموش کھانا کھانے بیٹھا، اس نے دارش کو آواز دی کہ وہ بھی اپنے کمرے سے باہر نکلے اور ساتھ میں کھانا تناول کرے۔
"آپ کھانا کھالیں، میں بعد میں کھالوں گا۔" دارش نے کمرے کے اندر سے جواب دیا۔
"ٹھیک ہے تم نہ کھاؤ، پر باہر آکر میرے ساتھ بھی ایک دو گھڑی بیٹھو ، میں تمھارا باپ ہوں۔" طلموش نے شفقت سے کہا۔
"میرے ساتھ بیٹھنے سے کیا آپ کی خوراک بڑھ جائے گی؟" دارش نے تمسخر سے کہا۔
"میں دیکھ رہا ہوں جب سے تم کو نیا عہدہ ملا ہے، تمھارے اندر بڑی رعونت آگئی ہے۔ تم جو کارخانے کے ملازمین پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ رہے ہو، مجھے سب کی خبر ہے۔" طلموش نے حقارت بھرے لہجے میں کہا۔
یہ سننا تھا کہ دارش اپنے کمرے سے جھپٹ کر باہر نکلا اور تن کر کھڑا ہوگیا۔ چشمِ زدن میں اس کے جسم کے سارے بال کھڑے ہوگئے، ہاتھ اور پاؤں کے ناخن بڑے ہوکر نوکیلے ہوگئے۔ اس کی پیشانی سکڑ گئی، جبڑا پھیل گیا ، آنکھیں اندر کو دھنس گئیں ، ناک چپک کر چہرے سے جالگی، شکاری دانت لمبے ہوگئے ۔ اس کے منہ سے جھاگ بہہ رہا تھا اور حلق سے غراہٹ کی آواز نکل رہی تھی۔ دارش کی یہ حالت دیکھ کر طلموش کے اوسان خطا ہوگئے۔ وہ ہاتھ جوڑ کر کھڑا ہوگیا اور گھگیاتے ہوئے کہنے لگا
" بیٹا، مجھے معاف کردو، مجھ سے بھول ہوگئی۔ تمھیں مدد کی سخت ضرورت ہے۔"
دارش اپنے باپ کو خونخوار نظروں سے دیکھے جارہا تھا، اچانک اس نے طلموش پر چھلانگ لگائی اور اس کے نرخرے میں اپنے دانت گاڑ دیے۔ خوف و دہشت سے عورتوں کی گھگی بندھی ہوئی تھی۔ انھوں نے دیکھا کہ طلموش کا خون فرش پر پھیل رہا ہے۔ طلموش کے حلق سے خرخراہٹ کی آواز نکل رہی تھی، اس کا جسم کچھ دیر تک پھڑپھڑاتارہا ، پھر ساکت ہوگیا۔ دارش اپنے باپ کی لاش کو چھوڑ کر اٹھ کھڑا ہوا، اس کی باچھوں سے خون ٹپک رہا تھا۔ اچانک ایسے لگا جیسے نیشم کو ہوش آگیا ہو، وہ دارش سے بھڑ گئی
"او جنم جلے، تم نے اپنے باپ کے ساتھ کیا کیا؟ " دارش پر مکے برساتے ہوئے وہ چیخی۔
دارش کی کیفیت سرعت سے معتدل ہورہی تھی۔ نیشم واویلا کرتی رہی ، اس کی دل دہلانے والی چیخیں محلے والوں کو بھی سنائی دے رہی تھیں۔ بہت سارے پڑوسی ان کے گھر کے دروازے پر صورتِ حال سمجھنے کے لیے آگئے اور دستک دینے لگے۔ زمیرا نے نیشم اور قلزم کو سنبھالا اور دارش کو دھکیل کر کہا
"تو خود جا اور پڑوسیوں کو بتلا کہ تونے اپنے باپ کے ساتھ کیا کیا ہے۔"
دارش اپنی اصل کیفیت میں واپس آچکا تھا اور اپنے باپ کی لاش سے لپٹ کر رورہا تھا۔ کسی طرح سے اس نے اپنے آپ کو سنبھالا اور باہر آکر لوگوں کو روتے ہوئے بتانے لگا کہ عقبی دروازے سے کوئی درندہ گھس آیا تھا اور اس نے طلموش پر حملہ کرکے اس کو مار ڈالا۔ یہ سن کر لوگ درّانہ گھر کے اندر گھس آئے اور لاش کا جائزہ لینے لگے۔ عورتوں نے اپنے آپ کو ایک کمرے میں بند کرلیا تھا۔
بالآخراگلی صبح طلموش کی تجہیز و تکفین کردی گئی، عورتوں کا رو رو کر برا حال تھا۔ تیسرے دن زمیرا نے دارش سے کہا
"تمھیں کوئی خطرناک بیماری لاحق ہوگئی ہے ، تم کو مزید تاخیر کیے بغیر کسی حاذق طبیب سے رجوع کرنا چاہیے۔ "
"تم صحیح کہتی ہو، پر بہتر ہوتا اگر تم بھی میرے ساتھ چلتیں۔" دارش نے ملتجیانہ لہجے میں کہا۔ زمیرا فورا تیار ہوگئی، دونوں نے شہر کے سب سے نیک نام طبیب کی طرف قصد کیا۔ دارش نے طبیب کو اپنی علامات تفصیل سے بتائیں، البتہ طلموش کے قتل کا ذکر حذف کردیا۔ دارش کی باتیں سن کر طبیب سوچ میں پڑگیا اور کہنے لگا
"ہماری طب کی مروّجہ کتب میں کسی ایسی بیماری کا ذکر نہیں ملتا ہے۔ ہاں ایک بیماری ہے جسے فریبِ خیال کہتے ہیں، اس میں مریض کو وہ کچھ دکھائی دیتا ہے جو حقیقت میں نہیں ہوتا، ہوسکتا ہے کہ تمھیں فریبِ خیال لاحق ہوگیا ہو۔"
"اگر یہ محض دارش کا فریبِ خیال ہوتا تو مجھے اس کے بڑھے ہوئے ناخن اور اس کا بالوں سے بھرا ہو ا چہرہ کیوں دکھائی دیتا؟" زمیرا نے پہلی بار گفتگو میں حصہ لیتے ہوئے کہا۔
طبیب کچھ دیر تک غور و فکر کرتا رہا ، پھر کہنے لگا
"تم لوگ بہتر ہے دارالحکومت چلے جاؤ، وہاں ایک اپنے فن میں کامل حکیم رہتا ہے، میں اس کو ایک رقعہ لکھ دیتا ہوں، ہوسکتا ہے کہ وہ تمھارے مرض کی تشخیص کرسکے۔"
دو دن بعد دارش اور زمیرا عازمِ سفر ہوئے اورتین دن متواتر سفر جاری رکھتے ہوئے دارالحکومت پہنچ گئے۔ حکیم کے شفاخانے تک پہنچنے میں انھیں کوئی دشواری پیش نہیں آئی۔ حکیم نے ان دونوں کی باتیں بڑے غور اور توجہ سے سنیں ، کئی ایک سوالات کیے پھر دارش کو مخاطب کرکے کہنے لگا
"تمھاری کایا کلپ ہورہی ہے۔"
"یہ کایا کلپ کیا ہے؟" دارش نے خوف زدہ لہجے میں کہا۔
"قلبِ ماہیئت! تم آدمی کی جون تیاگ کرکے جانور کے جون میں داخل ہورہے ہو۔" حکیم نے مسکراتے ہوئے کہا۔
"پر کیوں ؟ دارش کو کس خطا کی ایسی بھیانک سزا مل رہی ہے؟" زمیرا ہذیانی انداز میں چیخی۔
"اگر تمھارا ظرف بس ایک چھوٹا سا پیالہ ہو" حکیم نے زمیرا کی طرف متوجہ ہوکر کہنا شروع کیا " اور اس میں تم ایک ڈول پانی بھرنے کی کوشش کرو تو کیا ہوگا؟"
"پیالہ چھلک پڑے گا۔" زمیرا بے ساختہ بولی۔
"تمھارا شوہر بھی ایک کم ظرف انسان ہے، اس کا پیالہ بھی چھلک پڑا ہے۔" حکیم نے تفہیمی انداز میں کہا۔
"کیا دنیا کے باقی لوگ جو بڑے عہدوں پر فائز ہیں، وہ بڑے عالی ظرف واقع ہوئے ہیں؟" زمیرا کے لہجے میں احتجاج تھا۔
"نہیں، جو لوگ صاحبِ اختیار ہیں ، ان کی اکثریت کم ظرفوں پر مشتمل ہے، کیا تم نہیں دیکھتیں دنیا ان کے ظلم و جور سے بھر گئی ہے۔" حکیم تحمل سے بولا۔
"پھر اس کا علاج کیا ہے؟" زمیرا نے بے بسی سے کہا۔
"اپنے عہدے سے استعفا، اس کے علاوہ اس کا اور کوئی علاج نہیں ہے۔ " یہ کہتے ہوئے حکیم اٹھ کھڑا ہوا اور الماری سے سیاہ دانوں والی ایک تسبیح نکالی اور اسے دارش کو پکڑاتے ہوئے اپنا سلسلۂ کلام جاری رکھا " اس کو رکھ لو۔ استعفا دینے سے پہلے اگر تمھارے اوپر سُرور کا حملہ ہو تو تیزی کے ساتھ اس تسبیح کے دانوں پر انگلیاں پھیرنی شروع کردو، اس کی وجہ سے تمھاری توجہ کہیں اور مبذول ہوجائے گی اور سرور تمھارے اوپر حاوی نہیں ہوسکے گا۔ مگریاد رہے تسبیح کوئی مستقل علاج نہیں ہے، اس کی افادیت ایک خاص حد تک ہے۔"
گھر واپس پہنچتے ہی زمیرا اصرار کرنے لگی کہ دارش فوری طور پر استعفا دے، دارش نے اس سے وعدہ کیا کہ وہ چند دنوں کے اندر مناسب موقع پر اپنا عہدہ چھوڑدے گا، مگر زمیرا کے پیہم اصرار اور تنبیہ کے باوجود اس نے وعدہ وفا نہیں کیا ، اس نے زمیرا سے کچھ اور دنوں کی مہلت مانگ لی، اسی ٹال مٹول میں کئی ہفتے گزر گئے۔ پھر ایک دن وہ کہنے لگا
"میں تسلیم کرتا ہوں کہ مجھے کوئی بیماری لاحق ہوگئی ہے، مگر یہ حکیم کی محض خام خیالی ہے کہ اس کا تعلق میرے عہدے سے ہے۔"
"تو کیا تم استعفا نہیں دو گے؟" زمیرا روتے ہوئے بولی۔
"یہ ایک غیر ضروری عمل اور محض کفرانِ نعمت ہے۔" دارش نے حتمی لہجے میں کہا۔
اس رات زمیرا پل بھر کے لیے نہیں سوئی اور پوری رات آنسو بہاتی رہی۔
شعبۂ خام مال کے مزدوروں کی اجرت کئی دنوں سے واجب الادا تھی، وہ روزانہ دارش سے ادائیگی کی التجا کرتے، وہ جب بھی ان کو ادا کرنے کی کوشش کرتا، سُرور پوری قوت سے حملہ کرتا۔ طلموش کے حادثے کے بعد وہ کافی چوکنا ہوگیا تھا، وہ نہیں چاہتا تھا دوبارہ ایسا کوئی حادثہ ہو، وہ فوراً سکّوں سے بھری چرمی تھیلیاں واپس الماری میں رکھ دیتا تھا۔ بالآخر مزدوروں نے دارش کے قدیم دوست غلیم سے درخواست کی کہ وہ ان کی سفارش کرے اور کسی طرح ان کی اجرتوں کی واگزاری کرائے۔
غلیم نے وقت لے کر دارش سے ملاقات کی اور خلوت میں اس کو سمجھانے لگا کہ ظلم و ستم کی انتہا ہوتی ہے، ایسی حرکتوں سے وہ باز رہے ورنہ اس کارخانے کی تباہی یقینی ہے۔ دارش نے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا
"بہتر ہے کہ تم اس معاملے میں دخل اندازی نہ کرو، تم میری مجبوریوں سے واقف نہیں ہو۔"
"مزدوروں کو وقت پر اجرت دینے میں تمھاری کیا مشکلات ہیں ؟ یہ تو خواہ مخواہ ان کو پریشان کرنے والی بات ہے۔" غلیم ہار ماننے والا نہیں تھا۔
دارش نے محسوس کیا کہ اس پر سرور کا حملہ ہورہا ہے۔ وہ چاہ رہا تھا کہ غلیم وہاں سے ہٹ جائے مگر وہ اپنی جگہ ڈٹا ہوا تھا۔ دارش نے جیب میں ہاتھ ڈالا، تسبیح موجود تھی، وہ تیزی سے اس کے دانوں پر ہاتھ پھیرنے لگا۔ اسے اطمینان ہوا کہ تسبیح کام کررہی تھی، اسے افاقہ محسوس ہورہا تھا، مگر وقفے وقفے سے دارش کے خدوخال لمحے بھر کے لیے تبدیل ہوجاتے تھے۔
"تم ذرا آئینے میں کبھی اپنی شکل دیکھو، تم جانور بنتے جارہے ہو؟ میں نہیں سمجھتا تھا کہ تم پر طاقت کا اتنا گہرا نشہ چڑھ جائے گا ورنہ کبھی بھی پسِ پردہ اس عہدے کے لیے تمھارے حق میں مہم نہ چلاتا۔" غلیم بولے جارہا تھا۔
"بس بہت ہوچکا، یہاں سے دفع ہوجاؤ۔ اب اگر تم مزید یہاں رکوگے تو میرے ہاتھوں تم کو گزند پہنچ جائے گا۔" دارش نے چیختے ہوئے کہا اور اپنی کرسی دھکیل کر کھڑا ہوگیا۔ شور سن کر کارخانے کے بہت سارے کارکن اکٹھا ہوگئے اور وہ کھینچ تان کر غلیم کو دفتر سے باہر لے گئے۔
غلیم کے جانے کے بعد دارش نے تسبیح پر انگلیاں پھیرنی بند کردیں اور سرور اس پر دوبارہ حاوی ہوگیا۔ اس نے اپنے دفتر کا دروازہ اندر سے بند کردیا اور زمین پر دراز ہوگیا۔ کئی ساعتیں وہ مدہوش پڑا رہا، جب شام پھیل گئی اور ہر طرف تاریکی کا راج ہوگیا تو وہ گھر کی طرف روانہ ہوا۔ نیشم اور قلزم اب خوف کی وجہ سے اس کے پاس بھی نہیں پھٹکتی تھیں، البتہ اس کی حالت دیکھ کر زمیرا چونکی اور کہنے لگی
"لگتا ہے تمھاری طبیعت پھر خراب ہے۔"
دارش نے اثبات میں سر ہلادیا اور کہنے لگا " مجھے بھوک نہیں ہے، میں بستر میں جارہا ہوں، تم میرے کمرے کو باہر سے مقفل کردو، ورنہ مجھے اندیشہ ہے کہ آج کی رات غلیم کو مجھ سے گزند پہنچ جائے گا۔"
زمیرا کو اس سے مزید کچھ پوچھنے کی جرأت نہیں ہوئی اور وہ فورا اس کا حکم بجالائی۔ تینوں عورتوں نے دوسرے کمرے میں خوف و دہشت کی حالت میں ساری رات گزاری۔ صبح ہوئی اور زمیرا کو یہ دیکھ کر اطمینان ہوا کہ دارش کا کمرہ اسی حالت میں مقفل تھا جیسا کہ اس نے گزشتہ شام کیا تھا۔ دارش کے کمرے سے اس کے خراٹوں کی آواز آرہی تھی، زمیرانے اس کو جگانا مناسب نہیں سمجھا۔ ابھی چند ہی لمحے گزرے تھے کہ صدر دروازے پر دستک ہوئی، اس نے جاکر دروازہ کھولا تو وہ اس کی پڑوسن تھی، وہ ہانپتے ہوئے بتلانے لگی
"تمھارے شوہر کے دوست غلیم کو رات میں کسی درندے نے بڑی بے دردی سے ہلاک کردیا ہے۔"
یہ سن کر زمیرا کاچہرہ تاریک ہوگیا، اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھاگیا اور پڑوسن اگر اس کو اپنے بازؤوں میں تھام نہ لیتی تو وہ یقینا چکراکر زمین پر گرجاتی۔ زمیرا کے جب اوسان بحال ہوئے تو وہ کہنے لگی کہ اس کا شوہر ابھی تک سورہا ہے، وہ اس کو بیدار کرکے غلیم کے گھر بھیجتی ہے۔
زمیرا نے دارش کے کمرے کا قفل کھول دیا اور دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی۔ وہ ابھی تک سوئے جارہاتھا، وہ متجسسانہ نظروں سے چاروں طرف دیکھے جارہی تھی۔ کھڑکی جنگلے سمیت اپنی جگہ نظر آئی ۔ اس کی نظر ناگاہ اوپر اٹھ گئی ، اس نے دیکھا روشن دان سے اینٹیں کھسکی ہوئی تھیں، تو کیا یہ بدبخت روشن دان سے باہر نکل گیا تھا۔ اس نے قریب جاکر اس کے پاؤں کا جائزہ لیا، اس کے وسوسوں کی تصدیق ہوگئی، دونوں پاؤں کیچڑ میں لتھڑے ہوئے تھے ، رات کافی دیر تک بارش ہوتی رہی تھی۔
زمیرا نے پاؤں کے ٹہوکے سے اس کو جگادیا، مگر زبان سے کچھ نہیں بولی۔ کچھ دیر میں تیار ہوکر دارش کارخانے روانہ ہوگیا۔ غلیم کی موت کے سوگ میں مالکان نے اس روز تعطیل کا اعلان کردیا تھا۔ دارش سارا دن غلیم کی تجہیز و تکفین میں مشغول رہا، شام کو جب گھر آیا تو گھر میں کوئی نہیں تھا، سارا گھر سائیں سائیں کررہا تھا۔ اس نے پڑوسیوں سے دریافت کیا تو پتہ چلا کہ تینوں عورتیں سازوسامان کے ساتھ کسی نامعلوم منزل کی طرف کوچ کرگئی ہیں۔
کارخانے کے ملازمین نے مالکان کو خبردار کردیا تھا کہ جس رات غلیم کا حادثہ ہوا اسی دن دارش اور غلیم میں حجت ہوئی تھی اور ہاتھا پائی تک نوبت آگئی تھی۔موقع غنیمت جان کر انھوں نے دارش کی چیرہ دستیوں کی بھی شکایت کرڈالی۔ مالکان کے لیے یہ بات بھی باعثِ حیرت تھی کہ غلیم کے جسم پر جس قسم کے زخموں کے نشانات تھے، بعینہ ویسے نشانات ان کے گھروالوں کی لاشوں پر ایک سال پہلے پائے گئے تھے۔ اگلے روز پانچوں مالکان بغیر کسی پیشگی اطلاع کے کارخانے پہنچ گئے اور دارش کے دفتر میں داخل ہوئے۔ ان کو ایک ساتھ دیکھ کر دارش حواس باختہ ہوگیا اور دریافت کرنے لگا کہ وہ کس سلسلے میں تشریف لائے ہیں۔ ایک مالک نے دفتر کا دروازہ اندر سے بند کردیا تاکہ کوئی دخل درمعقولات نہ کرسکے ، دوسرا بولا
"ہمیں اطلاع ملی ہے کہ حادثے والے دن غلیم اور تمھارے درمیان لڑائی ہوئی تھی۔"
"جناب، آپ اسے لڑائی نہیں کہہ سکتے، یہ دو دوستوں کے درمیان ایک معمولی سی تکرار تھی۔" دارش نے ہنستے ہوئے کہا۔
"تکرار کی وجہ کیا تھی؟" تیسرے مالک نے پوچھا۔
"یہ خالص ہمارے ذاتی مسائل تھے، کارخانے سے اس کا کوئی لینا دینا نہیں۔" دارش نے صفائی دی۔
"ہماری اطلاعات یہ ہیں کہ کئی ہفتوں سے تم نے بہت سارے مزدروں کی اجرت نہیں ادا کی ہے، غلیم انھی کی وکالت کرنے آیا تھا۔" چوتھے مالک نے گفتگو میں شریک ہوتے ہوئے کہا۔
دارش نے محسوس کیا کہ سُرور اس پر حملہ آور ہوچکا ہے۔ اس نے اپنے ہاتھ جیب میں ڈال لیے ، وہ نہیں چاہتا تھا کہ مالکان اس کے بڑھے ہوئے ناخن دیکھیں۔ داہنی جیب میں تسبیح تھی، وہ ان پر انگلیاں پھیرے جارہا تھا، وہ طبیعت میں افاقہ محسوس کرتا تھا مگر کبھی کبھی لمحے بھر کے لیے اس کی طبیعت متغیر ہوجایا کرتی تھی۔ ایک مالک نے اسے ٹوکا کہ وہ اپنے ہاتھ جیبوں میں سے کیوں نہیں نکالتا؟
دارش کہنے لگا "آپ کو اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ میرے ہاتھ کہاں ہیں؟"
"فرق پڑتا ہے، میں دیکھنا چاہتا ہوں کہیں تمھاری جیب میں کوئی ہتھیار تونہیں ہے۔ " اسی مالک نے درشت لہجے میں کہا۔
مجبور ہوکر دارش نے دونوں ہاتھ جیب میں سے نکال کر میز پر رکھ دیے، تسبیح جیب میں رہ گئی تھی۔ لمبے لمبے نوکیلے ناخن دیکھ کر سارے مالکان خوف زدہ ہوگئے۔ دارش کی پیشانی سکڑ رہی تھی اور شکاری دانت لمبے ہورہے تھے، چہرہ بالوں سے بھر گیا تھا، مالکان کی دہشت سے چیخیں نکل رہی تھیں۔ ایک مالک نے دوڑ کر دروازہ کھولنے کی کوشش کی مگر دارش نے دروازے پر ایک جست لگائی اور راستے میں تن کر کھڑا ہوگیا۔ پانچواں مالک جو اُن میں جہاندیدہ لگتا تھا وہ آگے بڑھا اور کہنے لگا
"دارش، یہ تمھیں کیا ہوگیا ہے؟ ہمیں بتاؤ ہم تمھاری بھر پور مدد کریں گے۔"
"میں نے پہلے اپنے باپ کو کھویا ، پھر اپنے جگری دوست کو کھویا، میری ماں، میری بیوی اور میری بچی سبھی روٹھ کر چلی گئیں۔ میرے پاس کھونے کے لیے اب کچھ نہیں رہ گیا ہے۔ آج میری کایا کلپ کی تکمیل کا دن ہے، اب تم لوگ میری کوئی مدد نہیں کرسکتے۔" دارش کے حلق سے غراہٹ نکل رہی تھی۔
تیسرا مالک جو اُن میں جوان اور تنومند تھا اس نے دارش کو دھکا دیا اور دروازے کی چٹخنی گرانے کی کوشش کی مگر دارش سرعت سے پلٹا اورچشمِ زدن میں اپنے دانت اس کے نرخرے میں پیوست کردیے۔ بقیہ مالکان خوف و دہشت سے دفتر کے دوسرے کونوں میں دبک کر بیٹھ گئے۔ دارش کے لیے ان کو شکار کرنا بڑا آسان ثابت ہوا، ان کی فلک شگاف چیخیں بلند ہوتی رہیں اور وہ اپنے پنجوں سے ان کے پیٹ پھاڑتا رہا۔ باہر سے لوگ کافی دیر سے دروازہ پیٹ رہے تھے، اس نے محسوس کیا کہ اب وہ دروازہ توڑنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اسے بخوبی احساس تھا کہ اس کے پاس وقت کم رہ گیا ہے، اس نے پوری قوت سے کھڑکی کو دھکا دیا اور اس کو جنگلے سمیت اکھاڑ کر باہر پھینک دیا۔
دارش کا نیا جسم اس کی کھال میں نہیں سمارہا تھا، اس کی کھال جگہ جگہ سے شکستہ ہورہی تھی، اس نے اپنی گردن میں ہاتھ ڈالا اور پوری قوت سے اپنی کھال کو اپنے جسم سے باہر کھینچ لیااور اس کو لاشوں کی طرف اچھال کر پھینک دیا۔ وہ آدمی کا جون تیاگ کرکے جانور کے جون میں داخل ہو چکا تھا۔ دروازہ ٹوٹ رہا تھا، اس نے کھڑکی کے راستے سے باہر چھلانگ لگائی اور زقندیں بھرتا ہوا شہر سے باہر غیر آباد علاقے کی طرف بھاگنے لگا۔ وہ سب کچھ بھول چکا تھا ، پَر اسے جنگل کا راستہ بخوبی یاد تھا۔


© 2024. Al Qalam Academy, Glasgow, UK. All rights reserved.