Al Qalam Logo

آبگینہ

ڈاکٹر محفوظ جاوید ندوی
سابق استاذ، شعبۂ اردو، گلاسگو یونیورسٹی، برطانیہ

Image

دریسہ نے جیسے ہی دہلیز کے اندر قدم رکھا ، گھر کے اندر سے ایک چٹاک کی آواز آئی، جیسے کوئی آبگینہ ٹوٹا ہو۔ اس سے چند قدم پیچھے اس کا خاوند مازن، اور دونوں بچے، زائر اور میکاس، بھی چلے آرہے تھے۔ آواز اتنی گونج دار تھی کہ سبھی چونک پڑے۔ گھر میں داخل ہوتے ہی مشعل کی مدھم روشنی میں انھوں نے چاروں طرف جائزہ لینا شروع کیا ، ہرطرف خاموشی طاری تھی۔ بالآخر مازن اور دریسہ کی خواب گاہ میں انھیں شیشے کی وہ دیوار نظر آگئی جس میں درز پڑ ی ہوئی تھی ، شاید اسی کی آواز انھیں سنائی دی تھی۔
مازن نے مشعل قریب کی، اس کے چہرے پر خوف و حیرت کے ملے جلے آثار نظر آئے، درز سے قطرہ قطرہ سرخ لہو رس رہا تھا۔ دریسہ بھی قریب آگئی، اس کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں، پھر وہ کہنے لگی
"لگتا ہے دیوار کے پیچھے کوئی جانور مرگیا ہے۔"
"سوال یہ ہے کہ شیشےکی اس دیوار میں شگاف کیسے پیدا ہوا؟" مازن کے چہرے پر خوف کے آثار گہرے ہوتے گئے۔
"آبگینے کی فطرت ہی نازک ہے، ایک ذرا سی ٹھیس اسے ریزہ ریزہ کرسکتی ہے۔ " دریسہ نے اپنا خیال ظاہر کیا۔
مازن نے دیوار سے کان لگادیے، پھر دریسہ سے کہنے لگا
" یہ دیوار گریہ کررہی ہے، مجھے اس کی سسکیاں سنائی دے رہی ہیں۔"
دریسہ نے بھی دیوار سے کان لگادیے ، کچھ دیر تک آنکتی رہی، پھر ایک جھٹکے سے دیوار سے الگ ہوتے ہوئے اس نے کہا
"جب سے ہم اس گھر میں منتقل ہوئے ہیں، تم دن بہ دن وہمی ہوتے جارہے ہو۔"
پھر وہ زائر اور میکاس کو ان کی خواب گاہ میں سلانے چلی گئی۔ مازن نے صافی سے خون خشک کیا، پھر دیوار کو پانی سے دھویا۔ خون کا رسنا تو بند ہوگیا مگر درز اپنی جگہ قائم تھی۔ دریسہ جب خواب گاہ میں واپس آئی تو اس نے مازن کو گم صم درز کی طرف ٹکٹکی باندھے کھڑا ہوا پایا۔ دریسہ مازن کو سمجھانے لگی
"رات کافی ہوگئی ہے، اب سو جاؤ۔ معمولی سا نقصان ہوا ہے، صبح کاریگر کو بلاکر دیوار کی مرمت کرالینا۔"
" کہاگیا تھا کہ یہ گھر ناقابلِ شکست ہے، ہر آفت سے محفوظ۔" مازن کچھ سوچتے ہوئے بولا۔
"پھر تو یہ پیش گوئی غلط ثابت ہوئی۔" دریسہ سپاٹ لہجے میں بولی۔
" ساتھ میں یہ بتایا گیا تھا کہ اس مثالی گھر کی ایک کمزوری بھی ہے۔" مازن نے سنی ان سنی کرتے ہوئے کہا۔
"وہ کیا؟" دریسہ کے چہرے پر تجسس تھا۔
" وہ یہ کہ پوری دنیا میں بس ایک شخص کو اس میں شگاف ڈالنے کا اختیار حاصل ہے۔ " مازن زیرِ لب بڑبڑایا۔
"اور وہ واحد شخص کون ہے؟" دریسہ کے لہجے میں تضحیک تھی۔
"وہ تم ہو۔" یہ کہہ کر مازن نے زمین پر پڑی ہوئی موگری اٹھائی اور پوری قوت سے شیشے کی دیوار پر دے مارا۔ "دیکھو، دیوار پر تمھیں کوئی خراش نظر آتی ہے؟"
" اگر تم کو پیش گوئیوں کا بہانہ بناکر خواہ مخوہ مجھ پر الزام لگانا ہے ، تو پھر موگری کیوں؟ اس کا تجربہ کسی موزوں ہتھیار سے کرلیتے ہیں۔" یہ کہہ کر دریسہ طیش میں اٹھی اور حجرے سے باہر نکل گئی۔ جب واپس آئی تو اس کے ہاتھ میں ایک بھاری تیشہ تھا، جسے مازن کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا
"لو، یہ رہا ہتھیار۔ اب کرکے دکھاؤ زور آزمائی اپنے شیش محل پر۔"
مازن نے جھپٹ کر تیشہ پکڑا اور پوری قوت سے شیشے کی دیوار پر وار کرنے لگا، شور سن کر زائر اور میکاس بھی اپنی خوابگاہ سے باہر آگئے۔ کسی نے اس کو روکنےکی کوشش نہیں کی۔ اسی جوش کے عالم میں وہ آنگن میں چلا گیا اور اس کی دیواروں پر بھی ضربیں لگاتا رہا۔ پورا گھر شفاف شیشے کا بنا ہوا تھا، کوئی گوشہ مازن کے تیشے کی زد سے نہیں بچ سکا ۔ مگر حیرت کی بات تھی کہ کسی دیوار کا شیشہ ٹوٹنا تو کجا، کہیں کوئی خراش بھی نہیں آسکی تھی، بالآخر وہ تھک ہار کر بیٹھ گیا۔ دریسہ خاموشی سے اندر چلی گئی، حیرت کی تصویر بنے بچے بھی اپنے حجرے میں واپس چلے گئے ۔ مازن کافی دیر تک چپ چاپ فرش پر بیٹھا رہا، بالآخر اٹھا، اور خواب گاہ میں جانے کے بجائے گھر کی چھت پر چلا گیا۔
مازن نے رات چھت ہی پر گزاری، اس نے سونے کی کوشش کی مگر بے چینی کی وجہ سے رات گئے دیر تک کروٹیں بدلتا رہا، قریبِ سحر ہی اسے نیند آسکی۔ دن چڑھے تک وہ سوتا رہا ، اس کی آنکھ آفتاب کی تمازت سے کھلی۔ جب وہ چھت سے نیچے اتر کر آیا تو دیکھا کہ دریسہ نے پہلے ہی ایک کاریگر کو بلارکھا تھا جو شیشے کی دیوار کے شگاف کو درست کرنے میں جٹا ہوا تھا۔ ناشتے سے فارغ ہونے کے بعد وہ کاریگر کے پاس چلا آیا۔ ماز ن کو دیکھ کر کاریگر کہنے لگا
"اس درز کو درست کرنا کسی انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔ یہ بستی کیا، میرا نہیں خیال ہے کہ اس پورے علاقے میں اتنا خالص اور شفاف شیشے کا گھر کسی اور کا ہوگا!"
"تم صحیح کہتے ہو، اس علاقے کا کوئی نوجوان میری محبت اور وفاشعاری کا مقابلہ نہیں کرسکا تھا۔ اس گھر کو بنانے کے لیے مجھے سخت ریاضت کرنی پڑی تھی۔ آج بھی بستی کے لوگ اس گھر کو رشک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ " مازن نے مسکراکر جواب دیا۔
"مجھے حیرت ہے کہ تمھارا پورا گھر شیشے کا ہے۔ میں نے آج سے پہلے اتنا مکمل گھر کہیں اور نہیں دیکھا، حالانکہ دور دراز کی بستیوں میں مجھے مرمت کے لیے بلایا جاتا ہے۔زیادہ سے زیادہ کسی کا ایک حجرہ شیشے کا ہے، بہت ہوا تو دو حجرے، ورنہ اکثریت کے گھر پتھروں کے ہیں۔" کاریگر نے ستائشی نظروں سے چاروں طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
"تمھاری باتوں میں صداقت ہے، کاریگر! میری بیوی جس کی بستی پانچ کوس کے فاصلے پر ہے، وہاں سارے گھر پتھر کے ہیں۔ یہاں آنے سے پہلے وہ شیشے کے گھر سے ناواقف تھی۔" مازن نے اپنی آواز پست کرلی تھی، وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس کی باتوں سے گھر میں مزید بدمزگی پیدا ہو۔
کاریگر جب ناکام ہوکر واپس چلاگیا، تو دریسہ کہنے لگی
"بہتر ہے کہ تم اپنے آزمودہ طریقے سے اس شگاف کی مرمت کرڈالو، میں دیکھ رہی ہوں کہ رات کے مقابلے میں یہ درز کافی لمبی ہوگئی ہے۔ اگر پوری دیوار چٹخ گئی تو پھر یہ حجرہ ناقابلِ رہائش ہو جائے گا۔ "
مازن تشویش بھری نظروں سے دیوار کی طرف دیکھتا رہا، زبان سے کچھ نہ بولا۔
سہ پہر کو دریسہ نے مازن کے لیے زادِ سفر تیار کردیا اور وہ بستی کے مشرق میں چل پڑا، شام تک وہ اس پہاڑی تک پہنچ گیا جس پر اسے سہ روزہ ریاضت کرنی تھی۔ پہاڑی کی چوٹی پر واقع غار میں پہنچ کر اس نے اپنی زنبیل کھولی، اس میں سے مشعل نکالی اور اسے جلاکر غار کو روشن کیا۔ پھر چادر نکالی، اس کو بچھایا اور اس پر بیٹھ کر ریاضت میں مشغول ہوگیا۔ تین دن کی سخت ریاضت کے بعد وہ پہاڑی سے نیچے اترا اور اپنی بستی کی طرف واپس چل پڑا۔ گھر پہنچ کر اسے انتہائی مسرت ہوئی کہ اس کی ریاضت بارآور ہوئی تھی ، اس کی خواب گاہ کی دیوار کا شگاف غائب ہوگیا تھا۔
چند دن سکون سے گزرے۔ ایک شام جب مازن اپنی خواب گاہ میں لیٹا تھا، دریسہ گھر میں داخل ہوئی، جیسے ہی اس نے دہلیز کے اندر قدم رکھا، ایک چٹاک کی آواز سے پورا گھر گونج گیا۔ مازن نے دیکھا کہ اس کے سامنے کی دیوار میں نئی درز پڑگئی تھی۔ سرخ لہو شگاف سے نکل کر دیوار پر پھیل رہا تھا۔ دیوار سے فاصلہ ہونے کے باجود اس کی سسکیاں مازن کو صاف سنائی دے رہی تھیں۔
دریسہ بھاگتی ہوئی خواب گاہ میں داخل ہوئی ، داخل ہوتے ہی اس کی نگاہ نئے شگاف پر پڑی، اس کے چہرے پر ہوائیاں اڑنے لگیں۔ مازن ٹکٹکی باندھے درز کو دیکھے جارہا تھا۔ دریسہ نے کپڑے سے خون کو صاف کیا اور پھر دیوار کو پانی سے دھویا۔ خون کا رسنا بند ہوگیا مگر شگاف اپنی جگہ قائم تھا۔ اگلے روز مازن کی طبیعت پر اضمحلال طاری تھا، تاہم اس نے اپنے آپ پر جبر کرکے پہاڑی کا رخ کیا اور تین دن کی سخت ریاضت کرکے واپس لوٹا۔ اسے یک گونہ خوشی تھی کہ اس بار بھی شگاف درست ہوگیا تھا، لیکن اس کی طبیعت کی پژمردگی میں کوئی فرق نہیں آیا ۔
اگلا ہفتہ سکون سے گزرا، مگر مازن کی افسردگی بڑھتی گئی۔ جب کسی طرح اس نے افاقہ نہیں محسوس کیا ، تو وہ طبیب سے ملنے چلا گیا۔ طبیب نے اسے کچھ مسکّن مفردات دیے کہ وہ انھیں پانی میں جوش دے کر ان کا عرق پیے، امید ہے کہ اس کی بے چینی رفع ہوجائے گی۔ مازن جب واپس لوٹا تو دونوں بچے گھر کے باہر کھیل رہے تھے اور دریسہ باورچی خانے میں کھانا پکارہی تھی۔ وہ سیدھے اپنی خواب گاہ میں چلا گیا۔ جیسے ہی اس نے بستر پر لیٹ کر اپنی گردن سیدھی کی، اس کی نظراو پر پڑی، اس نے دیکھا کہ شیشے کی چھت میں درز پڑی ہوئی ہے اور اس سے سرخ لہو ٹپک ٹپک کر بستر کو گندہ کررہا ہے۔ اسے چھت کی سسکیاں صاف سنائی دے رہی تھیں، اس نے محسوس کیا کہ سسکیوں کی آواز اونچی ہوتی جارہی ہے۔ کیا یہ چھت، یہ دیواریں اس سےکوئی فریاد کررہی تھیں؟ اس نے اٹھنے کا ارادہ کیا تاکہ کسی کپڑے سے ٹپکتے ہوئے خون کو پونچھ سکے، مگر اس نے محسوس کیا کہ اس کے جسم سے جان نکل گئی ہے، اس کے ہاتھ پاؤں میں سکت نہیں رہ گئی تھی۔
کافی دیر تک مازن بے حس و حرکت پڑا رہا، پھر اس نے محسوس کیا سسکیوں کی آواز مدھم پڑتی جارہی ہے۔ نقاہت سے اس کے پپوٹے بھاری ہونے لگے اور وہ نیند کی آغوش میں چلا گیا۔ اس کی آنکھ دریسہ کی آواز سے کھلی
"تم خون میں لت پت اس بستر میں کیسے سورہے ہو؟ " مازن کو اس کی آواز دور سے آتی ہوئی محسوس ہوئی۔
مازن نے بمشکل اپنے آپ کو بستر سے اٹھایا اور خواب گاہ سے باہر نکل کر آنگن میں ایک مونڈھے پر چپ چاپ بیٹھ گیا۔ دونوں بچے ابھی تک گھر کے باہر کھیل رہے تھے۔
"یہ گھر ہمارے لیے مخدوش ہوتا جارہا ہے، بہتر ہے کہ ہم کسی پتھر کے مکان میں منتقل ہوجائیں۔" دریسہ نے مازن کو صلاح دی۔
مازن نے ایک گہری سانس لی اور خالی نظروں سے آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے بولا
"یہ گھر میرے خوابوں کی تعبیر ہے، میری وفاشعاری کا مظہر ہے۔ یہیں میرے اقدار جنم لیتے ہیں اور یہیں میرے اجداد کی خوابیدہ روحیں بستی ہیں۔ اگر اس کو چھوڑ دیا تو میں مرگیا، ایک لاش کی زندگی کیا معنی؟"
"اگر میں پتھر کے مکان میں منتقل ہوگیا، تو اس کی دیواریں میری روح کا گلا گھونٹ دیں گی، اور میں سنگسار ہو جاؤں گا۔ وہاں نہ محبت کی گرمی ہوگی، نہ یادوں کی خوشبو۔ پتھر کا مکان میرے لیے صرف ایک قید خانہ بن کر رہ جائے گا، جہاں نہ سانس لینے کی گنجائش ہوگی اور نہ خواب دیکھنے کی۔" مازن خود کلامی کے انداز میں بولتا رہا۔
دریسہ کے چہرے پر لحظے بھر کے لیے ہمدردی اور پشیمانی کی جھلک نظر آئی، مگر پھر سرعت سے غائب ہوگئی۔
"میری بلا سے، اگر تمھیں ضد ہی دکھانی ہے، تو صبح پہاڑی پر جاؤ اور اپنی جاں گسل ریاضت کرو۔ " ۔ دریسہ نے مونڈھے سے اٹھتے ہوئے کہا۔
مازن نے کوئی جواب نہیں دیا، وہ خاموشی سے خلا میں گھورتا رہا۔
اگلی صبح مازن کےلیے اپنے بستر سے اٹھنا محال ہوگیا، جیسے اس کے جسم سے زندگی کی آخری رمق چھین لی گئی ہو۔ پہاڑی کا سفر اس نے مؤخر کردیا، اور سارا دن بستر میں گزارا۔ سہ پہر کو دریسہ خریداری کرنے باہر نکل گئی ، واپسی میں جیسے ہی اس نے گھر کی دہلیز کے اندر قدم رکھا، ایک چٹاک کی آواز کے ساتھ مازن کی خواب گاہ میں بازو کی دیوار پرشگاف پڑگیا اور اس میں سے خون رسنے لگا۔ مازن کو دیوار کی کراہیں صاف سنائی دے رہی تھیں، مگر اس نے سنی ان سنی کرکے چادر تان لی۔
مازن کی نقاہت میں دن بہ دن اضافہ ہوتا گیا اور پہاڑی کا سفر مزید مؤخر ہوتا گیا۔ اس دوران جب جب دریسہ باہر سے آتی اور گھر کی دہلیز کے اندر قدم رکھتی، خواب گاہ کی کسی نہ کسی دیوار میں درز پڑجاتی۔ ایک دن دریسہ کہنے لگی
"کم از کم تم مہمان خانے میں منتقل ہوجاؤ، مجھے خدشہ ہے کہ کہیں خواب گاہ کی چھت اور اس کی دیواریں تمھارے اوپر نہ ڈھے پڑیں۔"
دریسہ پہلے ہی بچوں کی خواب گاہ میں رہنے لگی تھی۔
"کبھی سوچا ہے کہ جب بھی تم دہلیزپار کرتی ہو، دیوار میں شگاف پڑتا ہے؟ بچوں یا میرے ساتھ ایسا کیوں نہیں ہوتا؟ " مازن نے دریسہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا۔
دریسہ نے کچھ کہنے کے لیے لب کھولے، مگر اس کے چہرے پر تاریکی چھاگئی ۔ وہ خاموشی سے باورچی خانے کی طرف چل دی۔
اگلی صبح جب ابھی گھر کے سارے افراد سورہے تھے، تیز چھناکے کی آواز کے ساتھ پورا گھر لرز اٹھا۔ دریسہ اور دونوں بچے ہڑبڑاکر اٹھ بیٹھے اور مازن کی خواب گاہ کی طرف دوڑے۔ وہاں پہنچ کر کیا دیکھتے ہیں کہ خواب گاہ کی چھت ٹوٹ کرمازن کے اوپر گرگئی ہے، پورا کمرہ خون سے بھرا ہو اہے۔ دریسہ نے سرعت سے بلورکے ٹکڑوں کو ہٹاکر مازن کو بڑی مشکل سے ملبے سے باہر نکالا، وہ سخت زخمی ہوا تھا اور درد سے کراہے جا رہا تھا۔ زائر اور میکاس اصرار کرکے مازن کو مہمان خانے میں لے گئے اور بستر پر لٹادیا، پھر دریسہ نے اس کے زخموں کو صاف کیا اور مرہم پٹی کی۔ کچھ دیر میں مازن دوبارہ سوگیا۔
روز کے معمولات سے فارغ ہوکر دریسہ بازار کی طرف نکل گئی، اس کا رخ بقال کی طرف تھا۔ اتفاق سے اس وقت دکان میں کوئی دوسرا گاہک نہیں تھا۔
"میں یہ کتاب واپس کرنے آئی ہوں، اس میں بیان کیے گئے نسخے زندگی کی یکسانیت سے میری اکتاہٹ ختم نہ کرسکے۔" دریسہ نے اپنا تھیلا کھولتے ہوئے کہا۔
"اس دکان میں جو شے ایک بار بِک جائے، وہ لوٹائی نہیں جاسکتی۔ اسی کے تجویز کردہ نسخوں کے مطابق اب تمھیں اپنی بقیہ زندگی گزارنی ہوگی۔" بقال کے چہرے پر طنزیہ مسکراہٹ تھی۔
"مجھےلگتا ہے کہ میں اپنے راستے سے بھٹک گئی ہوں۔" دریسہ کی آنکھوں میں نمی اتر آئی۔
" یہ ایک بے نام و نشان ، بے منزل سفر ہے، جہاں راستے اپنی شناخت کھو دیتے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ بھٹک جانے کا احساس معدوم ہوجائے گا۔" بقال نے دریسہ کو دلاسا دینے کی کوشش کی۔
" آج صبح مازن سخت زخمی ہوگیا ، اسے شک ہے کہ اس کے شیش محل میں دراڑیں میں ڈال رہی ہوں۔" دریسہ نے دھیمی مگر بے چین آواز میں کہا۔
"شک؟ دراڑیں پڑنے کے بعد حقیقت اور وہم میں فرق مٹ جاتا ہے۔" یہ کہہ کر بقال دوسرے گاہک کی طرف متوجہ ہوگیا جو ابھی ابھی دکان میں داخل ہوا تھا۔
وقت گزرنے کے ساتھ مہمان خانے کی دیواروں میں بھی درزیں پڑنے لگیں اور ایک دن اس کی چھت بھی ڈھے گئی۔ یہ تو خیر ہوئی کہ مازن اس وقت آنگن میں تھا، ورنہ اس دن اس کا مرنا یقینی تھا، کیوں کہ اس بار صرف چھت ہی نہیں گری تھی بلکہ مہمان خانے کی دیواریں بھی مسمسا کر بیٹھ گئی تھیں۔
مازن کی نقاہت میں کمی آنے کے بجائے، اس میں اضافہ ہوتا جارہا تھا۔ بچوں کے اصرار پر اس نے ان کی خواب گاہ میں اپنا بستر ڈال لیا، مگرچند دنوں میں اس کا بھی وہی حشر ہوا جو پہلے دو حجروں کا ہوا تھا۔ اب گھر کے سارے افراد اندرونی برآمدے میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئے۔ یہ جگہ بھی زیادہ دیر محفوظ نہ رہ سکی، برآمدے کے ستونوں میں بھی دراڑیں پڑنے لگیں۔ دریسہ کا اصرار تھا کہ وہ فوری طور پر کسی پتھر کےمکان میں منتقل ہوجائیں، ورنہ کسی روز سبھی کا ہلاک ہوجانا یقینی تھا۔ لیکن مازن نے مکمل خاموشی اختیار کرلی تھی، وہ ہر وقت اپنی سوچوں میں گم رہتا ، اور چادر تانے بستر پر پڑا رہتا۔
پھر ایک نصف شب جب سبھی بے خبر سورہے تھے، گھر کی دیواریں اور برآمدے کے ستون جواب دے گئے، پورا شیش محل زمین بوس ہوگیا۔ اس عمارت کے گرنے کی آواز بستی میں دور دور تک سنی گئی۔ بستی کے لوگ خوف زدہ ہوگئے، دہشت کی وجہ سے کسی نے اپنے گھر سے باہر نکلنے کی ہمت نہیں کی۔ حیرت انگیز طور پر دریسہ کو کوئی چوٹ نہیں آئی تھی، وہ ملبے سے بآسانی باہر نکل آئی۔ اس نے بلور کی بڑی بڑی چٹانوں کو ہٹاکر زائر اور میکاس کی جانیں بچائیں۔ دونوں شدید زخمی ہوئے تھے، سہارا دے کر دریسہ انھیں پائیں باغ میں لے گئی اور گھاس پر لٹادیا۔
واپس آکر وہ شیشے کا ملبہ ہٹاتی رہی، ہٹاتے ہٹاتے صبح ہوگئی ، پھر کہیں جاکر مازن تک رسائی مل سکی۔ دریسہ کو ملال ہوا کہ شاید مازن ملبے کے نیچے دب کر مر گیا ہے، مگر اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب اس نے دیکھا کہ مازن کی سانسیں اب تک چل رہی تھیں۔ مازن خون میں لت پت تھا اور اس پر غشی طاری تھی۔ ملبے سے اس کو نکالنے کے لیے دریسہ کو اس کاجسم پوری قوت سے کھینچنا پڑا، جس کے باعث مازن کے جسم کو مزید چوٹیں آئیں۔
جب آفتاب طلوع ہوگیا، تو بستی کے لوگوں نے حقیقتِ حال جاننے کے لیے آنا شروع کردیا۔ سبھی انگشت بدنداں تھے کہ مازن کا شیش محل اچانک کیسے چکنا چور ہوگیا۔ بستی کے لوگوں کا اعتقاد تھا کہ اس علاقے کی کوئی بھی عمارت منہدم ہوسکتی ہے مگر مازن کے خالص اور شفاف شیشوں میں کبھی بال تک نہیں آسکتا، مسمار ہوجانا تو ایک انتہائی بعید از عقل و فہم بات تھی۔مگر یہ انہونی ہوگئی تھی، پر کسی کو پتہ نہیں تھا کہ اس عمارت کی تعمیر دوبارہ کیسے ہوگی ، پتھروں سے یا شیشے سے؟ پتھر تو ہر جگہ وافر موجود تھے، مگر یہ خالص شیشے اب کون فراہم کرے گا؟ کیا کوئی دوبارہ خالص شیشے اکٹھا کرسکتا ہے؟ بستی میں کسی کے پاس بھی ان سوالوں کا جواب نہیں تھا۔
مازن کو ہوش آنے میں کئی ساعتیں لگ گئیں ۔ جب وہ کسی طور پر سمجھنے اور بولنے کے قابل ہوا، تو بستی کے لوگوں نے اسے مشورہ دیا کہ وہ اپنے گھرانے کے ساتھ عارضی طور پر کسی رشتے دار کے مکان میں منتقل ہوجائے مگر اس نے نفی میں سر ہلادیا ۔ دریسہ اور دونوں بچے مازن کی منت سماجت کرتے رہے کہ لوگوں کے تعاون سے بستی کے کنارے وقتی طور پر وہ کوئی جھونپڑا تعمیر کرلیں اور جب وہ صحت مند ہوجائے تو پھر اِس گھر کی تعمیرِ نو کی طرف توجہ دیں، مگر ایسا لگتا تھا کہ مازن گونگا اور بہرا ہوچکا ہے، اس نے وہاں سے ٹلنے سے صاف انکار کردیا۔ مجبورا لوگوں نے اس کے پائیں باغ میں ایک خیمہ نصب کردیا تاکہ یہ لوگ کم از کم دھوپ اور بارش سے محفوظ رہ سکیں۔
مازن کو صحت یاب ہونے میں کافی وقت لگ گیا، مگر جسم کی نقاہت دور نہ ہوسکی۔ تاہم ایک دن اس نے اپنی ہمت مجتمع کی اور بستی والوں کی مدد سے شیشے کے ملبے کو اٹھاکر بستی کے باہر ایک بڑے گڑھے میں منتقل کرنے کا منصوبہ بنایا۔ بستی کے لوگ برضا و رغبت اس کا ہاتھ بٹانے کو تیار ہوگئے، مگر وقت مقررہ پر جب لوگ اپنے اوزار اور باربرداری کے جانوروں سمیت پہنچ گئے تو انھیں ایک نئی افتاد کا سامنا کرنا پڑا، بستی کے کسی شخص سے بلور کی کوئی چٹان نہ اٹھ سکی۔ انھوں نے طرح طرح کے اوزاروں سے ان چٹانوں کو توڑنے کی کوشش کی، مگر ٹوٹنا تو دور کی بات ہے، ان پر خراش تک نہ آسکی۔ شیشے کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے جو بآسانی کفِ دست میں آجاتے تھے، اتنے وزنی ہوگئے کہ بستی کا طاقت ور ترین شخص بھی انھیں اٹھانے سے قاصر تھا۔ مایوس ہوکر لوگ اپنے اپنے گھروں کو واپس چلے گئے۔
بستی والوں کے جانے کے بعد مازن اور دونوں بچوں نے بھی اپنی سی کوشش کی، مگر بلور کی یہ چٹانیں ان سے بھی نہ ہل سکیں۔ ایسا لگتا تھا کہ یہ زمین میں گہرائی تک دھنسی ہوئی ہیں۔ زائر نے کوشش کی کہ شیشے کے ریزے جو اِدھر اُدھر بکھرے پڑے تھے، ان کوجھاڑو سے سمیٹ کر ایک گوشے میں کردے کہ مبادا وہ کسی کے پیر کے نیچے آکر اسے زخمی کردیں، مگر یہ ریزے اپنی جگہ سے ٹس سے مس نہ ہوئے۔ دریسہ جو دور بیٹھی ہوئی کافی دیر سے یہ تماشا دیکھ رہی تھی، آگے بڑھ کر اس نے زائر کے ہاتھ سے جھاڑو پکڑ لی اور ریزوں کو بہارنے لگی۔ مازن، زائر اور میکاس کی آنکھیں یہ دیکھ کر حیرت سے پھیل گئیں کہ سارے ریزے انتہائی آسانی سے ایک کونے میں سمٹ گئے۔ اس کے بعد دریسہ نے اپنے ہاتھوں سے شیشے کے بہت سارے چھوٹے چھوٹےٹکڑوں کو ایک ٹوکرے میں بھرا ۔ پھر ایک اوزار سے بلور کی ایک چٹان پر ضربیں لگانی شروع کردیں، چند کوششوں کے بعد وہ چٹان ٹوٹ گئی،جس کی قلموں کو اس نے ایک دوسرے ٹوکرے میں بھر دیا۔ پھر وہ فخریہ انداز میں مازن اور بچوں کی طرف مڑی، دونوں بچے ستائشی نظروں سے اپنی ماں کی طرف دیکھ رہے تھے، مگر مازن واپس خیمے میں جاچکا تھا۔
کچھ دیر کے بعد دریسہ اور دونوں بچے خیمے میں داخل ہوئے، مازن چادر تانے فرش پر لیٹا تھا۔ دریسہ اس کے اوپر سے چادر ہٹاتے ہوئے کہنے لگی
"تم فکر نہ کرو، اگر تم سے یا بستی والوں سے یہ ملبہ نہیں اٹھتا، تو کوئی بات نہیں ہے۔ میں دھیرے دھیرے ان بلوری چٹانوں کو توڑ کر بستی کے باہر منتقل کردوں گی۔ بس ایک باربردار جانور کی ضرورت ہے، میں اپنے زیورات بیچ کر کل ہی ایک توانا اور تندرست گدھا خرید لیتی ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ چند ہفتوں میں یہ سارا ملبہ ہٹ جائے گا۔"
مازن خاموشی سے دریسہ کی طرف دیکھتا رہا، اس کی آنکھیں آنسؤوں سے ڈبڈبائی ہوئی تھیں،پر زبان سے وہ کچھ نہ بولا۔
نصف شب کو جب سبھی خیمے میں سورہے تھے، مازن کی سسکیاں ابھریں، پھر وہ تیز آواز سے رونے لگا۔ دریسہ اور دونوں بچوں کی آنکھیں کھل گئیں، انھوں نے اسے چپ کرانے کی کوشش کی، مگروہ خاموش نہ ہوا، لگتا تھا کہ اسے ان کی آواز سنائی نہیں دے رہی ہے۔ ایک ساعت تک وہ روتا رہا، پھر خود ہی چپ ہوکر سوگیا۔
اگلے روز دریسہ نےبآسانی ایک گدھے کا انتظام کرلیا ، پھر اس پر کاٹھی کسی ، دونوں طرف بڑے بڑے تھیلے لٹکائے اور تنِ تنہا اپنے کام جٹ گئی۔ دن بھر میں اس نے ان گنت بار گڑھے کے پھیرے لگائے ۔ شام ہوتے ہوتے اس نے اچھا خاصا ملبہ منتقل کرلیا مگر وہ تھکاوٹ سے چور ہوچکی تھی۔ نصف شب ہوئی اور مازن نے پھر رونا شروع کیا، سبھی جھنجھلاکر بیدار ہوگئے، جب تک وہ روتا رہا، کسی کو سکون سے نیند نہیں نصیب ہوئی۔
دریسہ کا خیال غلط نکلا، ملبہ چند ہفتوں میں نہیں منتقل ہوسکا۔ جب موٹی موٹی دیواروں کی بلوری چٹانیں توڑنے کی باری آئی تو اسے اندازہ ہوا کہ ملبہ کے مقدار کا اندازہ لگانے میں اس سے غلطی ہوئی تھی۔ آغاز میں اس نے بڑے جوش و خروش سے کام کا بیڑا اٹھایا تھا، مگر مستقل تیشے اور گرز کے استعمال سے اس کے ہاتھوں میں آبلے پڑگئے، شیشے کی نوکیلی قلموں سے اس کے ہاتھ اور پاؤں زخمی بھی ہوتے رہتے، اس پر مستزاد یہ کہ روزانہ نصف شب کو مازن رونا شروع کردیتا، جس سے اس کی نیند اچاٹ ہوجاتی اور سارا دن اس پر تھکاوٹ طاری رہتی۔ ہفتوں کا کام مہینوں پر پھیل گیا۔
مازن کے رونے کا دورانیہ بڑھتا رہا، بسا اوقات ایسا ہوتا کہ پوری رات دونوں بچے نہ سوپاتے، پھر وہ اپنی نیند دن میں پوری کرتے۔ بچوں نے خیمے سے باہر نکلنا اور دوسرے بچوں کے ساتھ کھیلنا چھوڑ دیا۔ وہ بھی چپ چپ رہنے لگے اور ان پر بھی دائمی افسردگی طاری رہنے لگی۔
دریسہ نے پھر بھی ہمت نہیں ہاری، وہ اپنی مہم میں لگی رہی اور ایک برس سے زائد محنت شاقہ کے بعد اپنے مقصد میں کامیاب ہوگئی۔ بالآخر ایک دن جب اس نے گڑھے کا آخری پھیرا لگالیا تواس کی درخواست پر بستی کے لوگ اکٹھا ہوئے اور ستائشی نظروں سے کھلے میدان کا جائزہ لیا جہاں اب شیشے کا کوئی ٹکڑا نظر نہیں آتا تھا اور وہ جگہ تعمیرِ نو کے لیے تیار ہوچکی تھی۔ مازن پر ایک جذب کی کیفیت طاری تھی، لوگوں کو نہیں پتہ تھا کہ وہ خوش ہے یا کسی انجانے خوف میں مبتلا ہے۔
شام کو مازن، دریسہ اور بچے جب سونے کی تیاری کررہے تھے، تو مازن کو خیمے سے باہر ایک سایہ نظر آیا۔ اس نے دریسہ سے کہا
"لگتا ہے بستی کا کوئی آدمی باہر کھڑا ہے، جاکر پتہ کرو اسے کیا چاہیے۔"
دریسہ باہر نکلی تو کیا دیکھتی ہے کہ بقال آہستہ روی سے اس حصے کی طرف بڑھ رہا ہے جو ملبہ ہٹائے جانے کے بعد ایک کھلا میدان بن چکا تھا۔ وہ تیزی سے اس کی طرف لپکی اور غصیلی آواز میں کہنے لگی
"تم یہاں کیا کررہے ہو؟"
"لگتا ہے کہ ملبہ پھینکتے وقت تم نے غلطی سے اس کو بھی پھینک دیا تھا۔" بقال نے اپنی جیب سے کتاب نکالی "یہ ایک راہ گیر کو ملی تھی، اس نے اس پر میری دکان کی مہر دیکھی اورمجھ تک پہنچادیا۔ یہ تمھاری امانت ہے، اسی کو لوٹانے تمھارے پاس آیا ہوں۔" بقال نے کتاب دریسہ کی طرف بڑھادی۔
دریسہ نے جھپٹ کر کتاب پکڑنے کی کوشش کی کہ اچانک ہوا کا ایک تیز جھونکا آیا اور کتاب اس کے ہاتھ سے نکل کر دور جاگری ، مگر دریسہ نے دوڑ کر کتاب کو قابو میں کرلیا۔ ہواکے تیز جھونکوں کی وجہ سے اس کے لیے سیدھے کھڑا ہونا مشکل ہورہا تھا۔ پھر بقال کی طرف دیکھے بغیر وہ خیمے کی طرف مڑگئی۔ خیمے میں داخل ہونے سے پہلے اس نے اپنے دوپٹے کے پلو میں کتاب کو چھپالیا۔ مازن کے استفسار پر وہ بولی
"معمار نے اپنے کارندے کو بھیجا تھا، وہ لوگ صبح کام کا جائزہ لینے آرہے ہیں۔"
ہوا کے جھونکوں میں شدت آرہی تھی، پھر بجلی کی کڑک اور چمک شروع ہوگئی۔ دریسہ کا خیال تھا کہ یہ معمولی آندھی ہے مگر اس نے طوفان کی شکل اختیار کرلی۔ ایک ساعت گزری تھی کہ تیز بارش اور ہوا کے شدید جھکڑ سے ایسا محسوس ہونے لگاکہ ان کاخیمہ اکھڑ جائے گا۔ ان کے خیمے کا پردہ ٹوٹ گیا اور ان کا جو معمولی اثاثہ ملبے سے بازیاب ہوسکا تھا، وہ آندھی کے زورمیں خیمے سے باہر اڑنے لگا۔دریسہ، مازن اور دونوں بچے خیمے کی طنابیں مضبوطی سے پکڑکر بیٹھ گئے، اگروہ ایسا نہ کرتے تو خیمے کا اکھڑ کر اڑجانا یقینی تھا۔ باہر ہوا چنگھاڑرہی تھی اورنیچے زمین لرزرہی تھی، ایسی آوازیں آرہی تھیں جیسے بڑی بڑی دیواریں گررہی ہوں۔ ان چاروں کو کچھ بھی اندازہ نہیں تھا کہ لوگوں کے گھر منہدم ہورہے ہیں ، یا درخت ٹوٹ کر گر رہے ہیں۔نصف شب ہوگئی اور مازن نے رونا شروع کردیا۔ آج مازن کی آواز میں درد تھا، کراہ تھی۔ گھر والوں کے لیے باہر اور اندر کی آواز میں فرق کرنا مشکل تھا۔
طوفان کا زور کہیں صبح جاکر ٹوٹ سکا۔ رات کے تھکے ماندے وہ چاروں سوگئے، ان کی نیندبستی کے لوگوں کی آواز سے ٹوٹی۔ دریسہ آنکھ ملتے ہوئے باہر نکلی، اس کے پیچھے دونوں بچے اور ان کے پیچھے مازن تھا۔ دریسہ نے دیکھا کہ باہر پوری بستی اکٹھا ہے اور میدان جس کو اس نے ایک برس سے زائد کی محنت سے صاف کیا تھا، اس میں سارا ملبہ رات کے طوفان میں اڑ اڑ کر واپس آگیا ہے۔ بلوری چٹانیں اپنی اصل شکل میں ہیں اور اس بار ان کا حجم دوگنا ہوچکا ہے۔
وہ ہذیانی انداز میں چیختی ہوئی آگے بڑھی، اس کی آنکھیں دھندلاگئیں۔ وہ اوندھے منھ گرپڑی، پھر گھٹنوں کے بل اٹھنے کی کوشش کی، اس سے اٹھانہ گیا۔ مازن نے اس کو سہارا دینے کےلیے اپنا ہاتھ بڑھایا، دریسہ کی آنکھوں میں تشکر کے آنسو آگئے۔ اس نے اپنا ہاتھ مازن کے ہاتھ میں دینا چاہا، مگر یہ کیا ؟ اس نے دریسہ کو ایک کتاب تھمادی۔ دریسہ نے غور سے دیکھا اور اسے پہچان لیا، یہ بقال تھا۔ مازن کہیں پیچھے رہ گیا تھا۔ بقال اس سے کہہ رہا تھا
"لگتا ہے کہ رات کے طوفان میں تمھاری یہ کتاب اڑ گئی تھی، بستی کے ایک آدمی کو یہ ملی ، اس نےمہر دیکھ کر اس کو مجھ تک پہنچادیا۔ یہ تمھاری امانت ہے اور میں اسے تم کو لوٹانے آیا ہوں۔"
دریسہ ساکت و صامت اپنے گھٹنوں کے بل جھکی ہوئی تھی۔


© 2024. Al Qalam Academy, Glasgow, UK. All rights reserved.