ڈاکٹر محفوظ جاوید ندوی
سابق استاذ، شعبۂ اردو، گلاسگو یونیورسٹی، برطانیہ
سلیان ٹھیک پانچ سال بعد ایک بار پھر نیلوما کے دروازے پر کھڑا تھا۔ دستک دیتے ہوئے اسے جھجک محسوس ہورہی تھی، پتہ نہیں نیلوما کا رویہ اس کےساتھ کیسا ہوگا! بستی کا رواج تھا کہ لڑکے خاندان کے بڑوں کی موجودگی میں لڑکیوں سے شادی کی درخواست کرتے تھے، یہ لڑکیوں کا اختیار تھا کہ وہ درخواست قبول کریں یا اسے رد کردیں۔ نیلوما اس روایت کی باغی نکلی ، پانچ سال پہلے اس نے اپنے خاندان سے چھپ کر سلیان کو اپنا ہاتھ پیش کیا تھا مگر سلیان نے اس پیش کش کو ٹھکرادیا تھا۔ آج سلیان اپنے اس گناہ کا کفارہ ادا کرنے آیا تھا۔
سلیان کے پاس وقت کم تھا، تھوڑے سے توقف کے بعد اس نے دروازے پر دستک دے دی، دروازہ کھلنے میں دیر نہیں لگی۔ خود نیلوما نے ہی دروازہ کھولا تھا۔ "وہی تازگی اور معصومیت سے بھر پور نکھرا نکھرا حسن، جس لڑکی کو حاصل کرنے کے لیے بستی کا ہر نوجوان سر دھڑ کی بازی لگانے کو تیار تھا،کیا میری عقل پر پردہ پڑگیا تھا کہ اس کا رشتہ میں نے ٹھکرادیا تھا؟" سلیان نے اپنے دل میں سوچا۔
سلیان کو دروازے پر دیکھ کر نیلوما کے چہرے پر ایک خوشگوار حیرت پھیل گئی،مگر اس نے اپنے چہرے پر مصنوعی خفگی طاری کرتے ہوئے کہا
"تم نے صبح میری کافی توہین کی تھی، مجھے توقع نہیں تھی کہ اتنی جلدی تم میرے گھر دوبارہ آؤ گے۔"
"نیلوما، میں پورے پانچ سال بعد تمھارے گھر آیا ہوں۔" سلیان کے لہجے میں پشیمانی تھی۔
"میں آج سارا دن روتی رہی ہوں، سلیان۔ کم از کم میر ا تمسخر تو نہ کرو۔" نیلوما روہانسی ہوکر بولی۔
"تم آج دن کی بات کررہی ہو، گزشتہ پانچ سال سے کوئی دن ایسا نہیں گزرا ہے جب میں نے تمھاری یاد میں آنسو نہ بہائے ہوں۔ " سلیان نے گلوگیر آواز میں کہا ، پھر اپنی بات جاری رکھتے ہوئے بولا " میرے پاس وقت نہیں، نیلوما! آؤ، پائیں باغ میں بیٹھ کر بات کریں۔ تمھیں سب کچھ بتانا ہے۔"
نیلوما کے چہرے پر الجھن کے آثار تھے، وہ بے اعتباری سے سلیان کو دیکھے جارہی تھی مگر اس کے اصرار پر وہ دروازے سے باہر نکل آئی ، پھر وہ دونوں پائیں باغ کی ایک لمبی چوبی نشست پر جا کر بیٹھ گئے۔
"تم غور سے دیکھو، کیا تمھیں میرے خدوخال میں کوئی تبدیلی محسوس نہیں ہوتی؟" سلیان نے اپنے چہرے اور جسم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھا۔
"کچھ تھکے ہوئے ضرور لگتے ہو، مگر تمھاری پہیلیاں بوجھنے کی میرے اندر صلاحیت نہیں ہے۔ تمھیں نہیں پتہ صبح سے میں کتنی اذیت میں مبتلا ہوں۔" نیلوما عاجز ہوکر بولی۔
"تم تک پہنچنے کے لیے میں نے اپنے مستقبل کا سودا کیا ہے۔" سلیان نے جذباتی لہجے میں کہا۔
"میری محبت ٹھکراکر تم نے اپنا مستقبل سنوار لیا ہے، تم میری خاطر اس کا سودا کیوں کرنے لگے؟" نیلوما کے لہجے میں درد پنہاں تھا۔
"تم میری بات نہیں سمجھ رہیں۔ تم میرا ماضی ہو، اور تم تک پہنچنے کے لیے مجھے اپنے مستقبل کا ایک حصہ قربان کرنا پڑا ہے۔" سلیان نے نیلوما کو سمجھانے کی کوشش کی۔
"اگر میں تمھارا ماضی ہوں، تو تمھارے حال میں میرا کیا مقام ہے؟" نیلوما نے کھردرے لہجے میں کہا۔
"ایک شادی شدہ عورت اور ایک بچے کی ماں۔" سلیان نے جواب دیا۔
"اور تم اس بچے کے باپ ہو ۔" نیلوما نے کھلکھلاکر ہنستے ہوئے کہا۔ "لگتا ہے کہ صبح میری اہانت کرکے تمھاری تشفی نہیں ہوئی تھی اور اب مجھ پر کوئی ناروا الزام دھرنے آئے ہو۔" یہ کہہ کر نیلوما کھڑی ہوگئی۔
نیلوما کے ساتھ سلیان بھی کھڑا ہوگیا اور منت سماجت کرکے نیلوما کو دوبارہ چوبی نشست پر بٹھا یا۔نیلوما کہنے لگی
"سلیان! میرا خیال ہے کہ تمھیں آرام اور طبی مدد کی ضرورت ہے۔ اب مجھے یقین ہوچلا ہے کہ صبح تم نے دانستہ میری توہین نہیں کی تھی، شاید طبیعت کی خرابی کی وجہ سے تم نے اپنے معیار سے فروتر باتیں کردی تھیں۔ "
"تم صحیح کہتی ہو، وہ باتیں میرے معیار سے فروتر تھیں۔ مجھے اپنی حرکت پر پشیمانی ہے اور اسی کی معذرت کرنے میں تمھارے پاس آیا ہوں۔"
"تو کیا تم نے اپنی پہلی رائے پر نظرِ ثانی کرلی ہے۔" نیلوما نے پر امید لہجے میں کہا۔
"یقینا، میں تمھارے علاوہ کسی اور کو اپنی شریکِ حیات بنانے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ پانچ سال ہوگئے اور میں نے اب تک شادی نہیں کی ہے۔" سلیان نے مسکراکر کہا۔
"اچھا، تم کہتے ہو کہ میری شادی ہوچکی ہے اور میرا ایک بچہ بھی ہے۔ یہ بتاؤ، میری شادی کہاں ہوئی ہے اور میرا خاوند کون ہے؟" نیلوما نے سپاٹ لہجے میں پوچھا۔
"تمھاری شادی رمیدا بستی کے سردار شریم کے بیٹے یازیر سے آج سے چار سال پہلے ہوئی تھی، تمھارا بچہ تین سال کا ہے۔ تمھارا رشتہ ٹھکراکر میں شہر چلا گیا تھا، مگر میں ہرآن حالتِ اضطراب میں رہتا تھا۔ پھر بستی واپس چلا آیا ، یہاں آکر پتہ چلا کہ تمھاری شادی ہوچکی ہے۔" سلیان کی آنکھوں میں نمی اتر آئی تھی۔
"اگر تمھاری باتوں میں سچائی ہے، تو آخر مجھے اس حقیقت کا ادراک کیوں نہیں ہے؟" نیلوما نے تحمل سے پوچھا۔
" اس لیے کہ سوداگر سے میں نے محض آج کی شام خریدی تھی۔ میں نے آج کی صبح تمھارا دل توڑا تھا، پھر میرے لیے ضروری تھا کہ آج ہی تم سے معذرت کروں۔ ابھی تمھاری شادی ہونے میں ایک سال باقی ہے۔" سلیان نے وضاحت کی۔
"یہ سوداگر کیا بلا ہے۔" نیلوما کے لہجے میں تجسس تھا۔
"یہ سوداگر ماضی کے لمحے بیچتا ہے، اگر کسی شخص کو اپنی کسی غلطی کا پچھتاوا ہے تو وہ ماضی میں جاکر اس کی اصلاح کرسکتا ہے، مگر خریدار کو اس کی بڑی بھاری قیمت دینی پڑتی ہے۔" سلیان کے لہجے میں مایوسی در آئی تھی۔
"بھاری قیمت؟ وہ کیا ہے؟" نیلوما کا تجسس برقرار تھا۔
"ماضی کا ایک لمحہ پانے کے لیے خریدار کو اپنے مستقبل کا ایک دن قربان کرنا پڑتا ہے۔" سلیان کے لہجے میں بے بسی تھی۔
نیلوما سر جھکائے کچھ دیر تک سوچتی رہی، پھر سلیان سے اجازت لے کر اپنے گھر کے اندر چلی گئی۔ کافی دیر کے بعد باہر نکلی اور سلیان سے کہنے لگی
"میں نے تمھاری کہانی اپنی ماں کوسنائی ہے۔ وہ کہتی ہے کہ تم بچپن سے احمقانہ باتیں کرتے آئے ہو۔ اگر یہ واقعی ماضی ہے، تو ہم نے اسے جیا ہوگا۔ پھر ہمیں کچھ کیوں یاد نہیں؟"
سلیان نے کچھ کہنا چاہا مگر نیلوما نے ہاتھ کے اشارے سے اسے روکتے ہوئے اپنی بات جاری رکھی "میں نے تمھاری معذرت قبول کرلی ہے، مگر بہتر ہے کہ تم اس وقت اپنے گھر جاؤ، دو چار دن آرام کرنے کے بعد دوبارہ آنا، پھر ہم اس موضوع پر تفصیل سے بات کریں گے۔" یہ کہہ کر نیلوما مڑی اور سلیان کا جواب سنے بغیر اپنے گھر کے دروازے کی طرف چل دی۔
سلیان اس کوجاتا دیکھتا رہا اور جب اس نے نیلوما کو اندر سے دروازہ بند کرتے دیکھ لیا تو سوداگر کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق اپنے ماضی سے اپنے حال میں واپس آگیا۔ سلیان نے اپنے آپ کو بستی کے بازار میں پایا، آفتاب غروب ہوچکا تھا مگر شفق کی روشنی ابھی مدھم نہیں پڑی تھی اور فضا روشن تھی۔ اسے یک گونہ اطمینان ہوا کہ اس نے تقریبا اسی وقت ماضی کا سفر کیا تھا، ایسا لگتا تھا کہ ماضی میں اس کا بہت زیادہ وقت صرف نہیں ہوا تھا۔ البتہ سلیان پر ایک ناقابلِ بیان تکان طاری تھی، اس سے چلا نہیں جارہا تھا، تاہم سوداگر سے ملنا اس کے لیے ضروری تھا۔اس جگہ سے وہ خستہ حال قدیم عمارت زیادہ دور نہیں تھی جہاں سوداگر سے اس کی پہلی ملاقات ہوئی تھی۔ سوداگر اس بستی میں اجنبی تھا، چند ہفتے پہلے ہی وہ یہاں وارد ہوا تھا اور بستی کی ایک شکستہ غیر آباد عمارت کو اپنا مسکن بنالیا تھا۔ سوداگر کی شہرت بستی اور اس کے اکناف میں تیزی کے ساتھ پھیل گئی تھی۔ سلیان کے دوستوں نے اسے مشورہ دیا تھا کہ وہ جاکر سوداگر سے ملے، اس کے دکھوں کا درماں ضرور سوداگر کے پاس ہوگا۔
کچھ دیر چلنے کے بعد سلیان سوداگر کے حجرے میں داخل ہوا، حجرہ دروازے سے عاری تھا، محض ایک پردہ لٹک رہا تھا۔ سوداگر اپنی مخصوص نشست پر براجمان تھا۔ سر اور داڑھی مونچھ کی شاید کبھی مرمت نہیں ہوئی تھی، سارا چہرہ بالوں سے ڈھکا ہوا تھا۔ کمرے میں کوئی مشعل نہیں تھی، سوداگر کی نشست سے قریب ایک الاؤ جل رہا تھا، جس کی روشنی میں سوداگر کی مدوّر آنکھیں کسی جھاڑی میں دو دہکتے انگاروں کا منظر پیش کررہی تھیں۔
سلیان سوداگر کے سامنے پڑے مونڈھے پر جاکر بیٹھ گیا اور گویا ہوا
"نیلوما کو میں قائل نہیں کرسکا، اسے کچھ بھی یاد نہیں ہے۔"
"نیلوما کو کیسے یاد ہوسکتا ہے! اس نے اپنے ماضی کا سفر نہیں کیا تھا۔ جس نقطے پر تم داخل ہوئے تھے، وہ اس کا حال ہے۔" سوداگر کھرکھراتی ہوئی آواز میں بولا۔
"میری آج کی عمر بھی اس کو نظر نہ آسکی۔ میرے خدوخال حیرت انگیز طور پر وہی ہوگئے تھے جو آج سے پانچ سال پہلے ہوتے تھے۔ " سلیان نے شکایتی لہجے میں کہا۔
"اس میں حیرت کی کیا بات ہے، تم اپنے مستقبل کی عمر ماضی میں کیسے لے جاسکتے ہو؟" سوداگر کے چہرے پر پہلی بار مسکراہٹ ابھری۔
"البتہ مجھے ایک بات کی خوشی ہے، ماضی میں میرا زیادہ وقت صرف نہیں ہوا۔ میں جس وقت ماضی میں داخل ہوا تھا، تقریبا اسی وقت حال میں واپس آگیا۔" سلیان نے اطمینان بھرے لہجے میں کہا۔
"یہ تمھاری خوش فہمی ہے برخوردار، تم پورے ایک سو بیس دن بعد واپس آئے ہو۔" سوداگر نے فلک شگاف قہقہہ لگاتے ہوئے کہا۔
"ہرگز ایسا نہیں ہوسکتا ہے، میں نے اپنے ماضی میں محض ایک دو ساعتیں گزاری ہیں!" سلیان ہذیانی انداز میں چیخا۔
"ماضی کی اسیری وقت کے احساس کو مٹا دیتی ہے، اس میں تمھارا کوئی قصور نہیں ہے۔ " یہ کہہ کر سوداگر اپنی عبادت میں مشغول ہوگیا۔
سلیان بوجھل قدموں سے اپنے گھر کی طرف چل پڑا۔ گھر پہنچ کر پتہ چلا کہ اس کے خاندان پر ایک قیامت گزررہی ہے۔ گزشتہ چار ماہ سے اس کے گھر میں چولہا تک نہیں جلا تھا، اس کے گھر والے اس کی تلاش میں دور دراز کی بستیوں میں دربہ در کی ٹھوکریں کھارہےتھے۔ بعض لوگوں کا خیال تھاکہ شاید وہ کہیں پانی میں ڈوب کر مرگیا ہے یا اسے کوئی درندہ چٹ کرگیا ہے۔ سلیان کو دیکھ کر لوگوں کی جان میں جان آئی مگر ان کے لاتعداد سوالوں کا اس کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ ہر سوال کا وہ ایک ہی سکہ بند جواب دیتا "مجھے کچھ یاد نہیں ہے۔"
تین دن آرام کرنے کے بعد وہ خاموشی سے رمیدا بستی چل پڑا۔ رمیدا پہنچ کر وہ بستی کے سردار شریم سے اس توقع پر ملاقات کرنےچلا گیا کہ ہوسکتا ہے نیلوما نظر آجائے۔ نیلوما نظر آئی مگر سلیان پر نظر پڑتے ہی اس نے انتہائی ناگواری سے اپنا منھ دوسری طرف پھیر کر اپنے گھر کے اندر چلی گئی۔ وہاں سے مایوس ہوکر وہ واپس لوٹا مگر گھر جانے کے بجائے سیدھا سوداگر کی خدمت میں حاضرہوا۔ اس کو دیکھ کر سوداگر کہنے لگا
"اب کیا لینے آئے ہو؟"
"میں یہ جاننا چاہتا ہوں سوداگر، کہ اگر دوبارہ میں اپنے ماضی میں جاؤں تو کیا نیلوما کو میری پشیمانی اور معذرت یاد ہوگی۔" سلیان نے اپنا مدعا بیان کیا۔
"اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ تم کس نقطے پر اپنے ماضی میں داخل ہوتے ہو، اگر تم معذرت پیش کرنے سے پہلے کے کسی نقطے پر داخل ہوگے تو اسے کیسے یاد ہوسکتا ہے؟ ہاں، بعد کے کسی بھی مرحلے میں داخل ہوگے تو اسے یقینا یاد ہوگا۔" سوداگر نے تفصیل سے وضاحت کی۔
"بہتر ہے، مجھے ایسے مرحلے پر میرے ماضی میں بھیج دو جب نیلوما کی شادی کی تیاریاں ہورہی ہوں۔ میں دوبارہ ماضی کا سفر کرکے اس شادی کو منسوخ کرانے کی کوشش کرتا ہوں۔" سلیان نے اپنی خواہش کا اظہار کیا۔
سلیان کی زبان سے یہ الفاظ نکلنے تھے کہ اس نے اپنے آپ کو ماضی میں پایا۔ ڈھولک کی تھاپ پر بچیاں شادی کے گیت گارہی تھیں اور نیلوما کے گھر مہمانوں کا تانتا بندھا ہوا تھا۔ شاید مائیوں کی رسم چل رہی تھی۔ سلیان نے اپنی ہمت مجتمع کی اور نیلوما کے گھر میں داخل ہوگیا۔ مردان خانے میں بیٹھے ہوئے مہمان اسے حیرت سے تک رہے تھے، وہ انھیں نظر انداز کرتا ہوا زنان خانے کی طرف بڑھتا چلا گیا، کچھ لوگوں نے اسے روکنے کی کوشش کی مگر اس نے پراوہ نہ کی۔ وہ سیدھے جاکر نیلوما کے سامنے کھڑا ہوگیا اور فریاد کی
"نیلوما، یہ شادی نہیں ہوسکتی ہے۔ تم نے مجھ سے عہد کیا تھا، اس عہد کو نہ توڑو۔۔۔۔"
ابھی اس کی بات پوری نہیں ہوئی تھی کہ پیچھے سے کسی نے اسے گریبان سے پکڑ کر کھینچا، کسی دوسرے نے اس کے سر پر شدید ضرب لگائی، وہ تیوراکر گر پڑا۔ اس کے بعد لاتوں اور مکوں سے اس کی درگت بناتے ہوئے، کئی لوگ اس کی ٹانگ پکڑ کراسے گھسیٹتے ہوئے زنان خانے سے باہر کھینچ لائے۔ اس نے پس منظر میں نیلوما کی چیخ سنی، وہ لوگوں سے التجا کررہی تھی کہ سلیان کو نہ ماریں مگر لوگوں پر اس کی التجا کا کوئی اثر نہیں ہورہا تھا۔ نیلوما اس سے کہہ رہی تھی
"احمق انسان، تم نے آنے میں بہت دیر کردی۔" سلیان نے نیلوما کی سسکیاں سنیں، اور پھر اس کا ذہن تاریکیوں میں ڈوبتا چلا گیا۔
سلیان کی آنکھ مزدوروں کی ایک چھوٹی سی بستی میں کھلی، شاید نیلوما کے مہمانوں نے مردہ سمجھ کر اسے اس دور دراز بستی میں لا پھینکا تھا۔ ایک مزدور سے پتہ چلا کہ وہ دو روز بعد ہوش میں آیا ہے۔ سلیان زخموں سے چور تھا اور پورا جسم کسی پھوڑے کے مانند دکھ رہا تھا۔ ماضی میں ٹھہرنے کا اب کوئی جواز باقی نہیں رہ گیا تھا، اس نے سوداگر کے بتائے ہوئے منتر کے مطابق فوری طور پر واپس حال میں آنے میں عافیت جانی۔ حال میں واپس آنے کے بعد زخموں سے فوری طور پر نجات مل گئی ، مگر پہلے سفر سے واپسی میں جس تکان کا تلخ تجربہ ہوا تھا، وہ اس سفر میں کئی گنا شدت اختیار کر گیا۔ چند راہگیروں کی مدد سے وہ اپنے گھر پہنچا اور بستر پر پڑ گیا۔ گھر والوں نے اس کی حالت دیکھ کر مزید کریدنا مناسب نہیں سمجھا، البتہ ان سے یہ ضرور پتہ چلا کہ وہ دو سال بعد واپس آیا ہے۔ لوگوں نے اپنا یہ مشاہدہ بھی بیان کیا کہ اس کی عمر تیزی سے ڈھل رہی ہے، حالانکہ اٹھائیس سال پہنچنے پر جوانی میں پختگی آتی ہے۔
سلیان کو صحت یاب ہونے میں کئی ہفتے لگ گئے۔ اس نے اس بار تہیہ کرلیا تھا کہ سوداگر سے اب کبھی نہیں ملے گا اور اپنی زندگی کی از سرِ نو تعمیر کرے گا مگر جیسے جیسے اس کی طبیعت میں سدھار آتا گیا، سوداگر سے ملنے کی خواہش اس کے دل و دماغ پر غالب آتی گئی اور بالآخر ایک دن سوداگر کے مسکن کی طرف اس کے قدم خود بخود اٹھ گئے۔
سلیان کو دیکھ کر سوداگر نے اپنا روایتی جملہ دہرایا
"اب کیا لینے آئے ہو۔"
"سوداگر! پہلے مجھے یہ بتاؤ کہ جب تم ماضی کے ایک لمحے کے عوض تم میرے مستقبل کا ایک دن وضع کرلیتے ہو، پھر میری عمر کیوں اتنی تیزی سے ڈھلتی جارہی ہے؟" سلیان نے شکایت کی۔
"یہ ڈھلتی عمر دراصل سود ہے جسے ماضی پرستوں کو الگ سے دینا پڑتا ہے۔ مجھے بتلاؤ کہ اب تمھیں کیا چاہیے؟ مجھے دوسرے مریضوں کو بھی دیکھنا ہے۔" سوداگر کے لہجے میں جھنجھلاہٹ تھی۔
"میں تو اب تک اپنے آپ کو تمھارا گاہک سمجھتا تھا، مجھے آج پتہ چلا ہے کہ تم ہمیں مریض سمجھتے ہو۔" سلیان کے لہجے میں احتجاج تھا۔
"مریض بھی دراصل ایک گاہک ہی ہوتا ہے، تم کو اپنا دل چھوٹا کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔" سوداگر نے سلیان کو دلاسا دینے کی کوشش کی۔
"میرا خیال ہے کہ گزشتہ بار میں نے جس نقطے پر ماضی کا سفر کیا تھا، وہ ایک غلط انتخاب تھا۔ اگر میں پہلے سفر کے نقطۂ معذرت کے چند دن بعد ماضی میں جاؤں تو مجھے یقین ہے میں اپنی کھوئی ہوئی محبت حاصل کرلوں گا۔" سلیان کچھ سوچتے ہوئے بولا۔ "البتہ مجھے کوئی ایسا طریقہ بتاؤ کہ میں جس سے نیلوما کو قائل کرلوں کہ میں اس کے مستقبل سے آیا ہوں۔" سلیان کے لہجے میں التجا تھی۔
"یہ کوئی اتنا مشکل کام نہیں ہے۔ یہ بتلاؤ کہ نیلوما کو کون سا پھل پسند ہے؟" سوداگر کے لہجے میں ہمدردی تھی۔
"سیب۔" سلیان بے ساختہ بولا۔
سوداگر نے اپنی زنبیل سے دو سیب نکال کر سلیان کو پکڑادیے، پھر بولا "نیلوما کا کوئی خاص شوق جو تمھیں یاد ہو؟"
"اسے پڑھنے لکھنے کا کافی شوق ہے۔" سلیان فخریہ بولا۔
سوداگر نے اپنی زنبیل میں دو بارہ ہاتھ ڈالا اوراس سے ایک قلم نکال کر سلیان کو تھماتے ہوئے کہا "ایک سیب خود کھانا، دوسرا نیلوما کو کھلانا اور اس سے کہنا کہ اس قلم سے کچھ لکھنے کی کوشش کرے۔" یہ کہہ کر سوداگر نے منتر پڑھنا شروع کیا اور پلک جھپکتے سلیان ماضی میں وارد ہو گیا۔ اس بار نیلوما پائیں باغ میں ٹہلتی ہوئی مل گئی۔ سلیان کو دیکھ کر اس کا چہرہ کھل اٹھا، پھر شرارتی لہجے میں گویا ہوئی
"ماضی اور مستقبل کا بھوت تمھارے اوپر اب بھی طاری ہے یا کچھ افاقہ ہوا؟ "
سلیان نے کوئی جواب نہیں دیا ، چپ چاپ جاکر لمبی چوبی نشست پر بیٹھ گیا۔ اس کو افسردہ خاطر دیکھ کر نیلوما بھی اس کے پہلو میں آکر بیٹھ گئی پھر تسلی دینے کے انداز میں کہنے لگی
"سلیان، تم ہی میرا ماضی ہو اور تم ہی میرا مستقبل۔ جس مستقبل کا تم ذکر کرتے ہو، میرے لیے کوئی معنی نہیں رکھتا۔ اگر تمھارے ذہن میں یہ بات بیٹھ گئی ہے کہ میری کہیں شادی ہوچکی ہے تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟ میرا حال تو تمھارے ساتھ ہے۔"
"تم صحیح کہتی ہو، میں تمھارے والدین سے فوری طور پر ملنا چاہوں گا۔ میں چاہتا ہوں کہ ہماری شادی جلد از جلد ہوجائے۔" سلیان نے مفاہمتی انداز میں کہا۔
"آج میرے والد باہر گئے ہوئے ہیں، کل شام کو آجاؤ اور براہِ راست ان سے بات کرلو۔" نیلوما نے صلاح دی۔
"کیا آج ملنے کی کوئی سبیل نکل سکتی ہے؟ میرا ایک ایک لمحہ بہت قیمتی ہے۔" سلیان ملتجیانہ انداز میں بولا۔
"تم نے پھر احمقانہ باتیں شروع کردیں۔ کیا تم سمجھتے ہو کہ ہماری شادی ایک دو دن میں ہوجائے گی؟ محض شادی کی تیاری میں کئی مہینے لگ جائیں گے۔" نیلوما نے جھنجھلا کرکہا۔
"میں احمق نہیں ہوں نیلوما!" سلیان کے لہجے میں احتجاج تھا، پھر وہ اپنے بستے سے دونوں سیب نکالتے ہوئے بولا "یہ پھل میں مستقبل سے لایا ہوں، چلو انھیں کھاتے ہیں، تمھیں خود پتہ چل جائے گا کہ مجھے جنون لاحق ہے یا حقیقت آشنا ہوں۔" یہ کہہ کر سلیان نے ایک سیب کھانا شروع کیا مگرنیلوما نے جیسے ہی سیب کی طرف ہاتھ بڑھایا ایک غیر مرئی قوت نے اس کے دونوں ہاتھوں کو زنجیروں سے جکڑ دیا۔ خوف و دہشت سے نیلوما کی گھگی بندھ گئی۔ سلیان نے تیزی سے دونوں سیبوں کو اپنے بستے میں واپس ڈال دیا ، نیلوما کے ہاتھ زنجیروں سے آزاد ہوگئے۔
وہ کافی دیر تک اپنی کلائیوں کو سہلاتی رہی، اس کے حواس جب بحال ہوئے تو وہ کہنے لگی
"تم نے یہ شعبدے بازی کہاں سے سیکھی ہے؟ تم بھی تو میرے ساتھ ماضی میں بیٹھے ہو، تم نے کیسے اتنی آسانی سے سیب کھالیا؟"
"تم اس بات کو کیوں بھول جاتی ہو کہ میں مستقبل سے آیا ہوں؟ یہ پھل بھی مستقبل سے آئے ہیں، جیسے یہ کپڑے اور جوتے جنھیں میں پہنے ہوئے ہوں۔ تم ابھی ماضی میں ہو، پانچ سال بعد پیدا ہونے والا پھل ابھی کیسے کھاسکتی ہو؟" سلیان نے محسوس کیا کہ اسے سوداگر کی رہنمائی کی سخت ضرورت ہے، پھر بھی اس نے اپنی فہم کے مطابق وضاحت کرنے کی کوشش کی۔
"میں تمھاری بات نہیں مان سکتی، تم نے ضرور میرے ساتھ کوئی فریب کیا ہے۔ چلو گھر کے اندر چلتے ہیں، میں اپنی ماں سے کہتی ہوں کہ وہ سیب کھائے۔ شرط یہ ہے کہ تم دور کھڑے رہوگے۔" یہ کہہ کر نیلوما کھڑی ہوگئی اور گھر کی طرف قدم بڑھادیے، سلیان کی سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ کیا کرے ، وہ بھی غیر ارادی طور پر اس کے پیچھے چل پڑا۔
نیلوما کی ماں کورین نے سلیان کا بڑی خندہ پیشانی سے استقبال کیا۔ نیلوما نے کورین کو مختصرا بتلایا کہ پائیں باغ میں کیا پیش آیا تھا۔ کورین نے دونوں کو یہ کہہ کر جھڑک دیا کہ اسے ان بچکانہ حرکتوں سے کوئی دلچسپی نہیں ہے مگر جب نیلوما کا اصرار بڑھتا گیا تو وہ محض اپنی بچی کو خوش کرنے کے لیے ایک بار تجربہ کرنے کو تیار ہوگئی۔ سلیان نے میز کے ایک گوشے پر سیب رکھ دیا اور نیلوما کی ہدایت کے مطابق، دور جاکر کمرے کےایک کونے میں کھڑا ہوگیا۔ کورین نے جیسے ہی سیب کی طرف ہاتھ بڑھایا ایک غیر مرئی قوت نے اس کے دونوں ہاتھوں کو زنجیروں سے جکڑ دیا۔ یہ سب کچھ اتنی تیزی سے پیش آیا کہ کورین اپنا توازن قائم نہ رکھ سکی اور زمین پر گر گئی۔ اسے کافی چوٹیں آئیں اور خوف و دہشت سےاس کی چیخیں نکل گئیں۔ انتہائی سرعت سے سلیان سیب کی طرف جھپٹا اور اس کو اپنے بستے میں چھپالیا، پھر کہیں جاکر کورین کو زنجیروں سے آزادی ملی۔ کورین اتنی زیادہ خوف زدہ ہوگئی کہ زنجیروں سےآزاد ہوتے ہی وہ اپنے حجرے کی طرف بھاگی اور اپنے آپ کو اندر سے مقفل کرلیا۔ نیلوما کہنے لگی
"سلیان، مجھے اب تم سے خوف آنے لگا ہے۔ بہتر ہے کہ تم اب اپنے گھر جاؤ، کل شام کو آنا اور میرے بابا سے شادی کے موضوع پر بات کرنا۔"
سلیان نے کوئی جواب نہیں دیا اور نیلوما کے گھر سے نکل آیا۔ اگلے روز جب شام ہوئی تو پھر وہ نیلوما کے گھر جا پہنچا ، مگر پتہ چلاکہ اس کا باپ ابھی گھر واپس نہیں آیا ہے۔ کئی دنوں تک یہی سلسلہ جاری رہا، بالآخر ساتویں روز نیلوما کے باپ نوسیر سے اس کی ملاقات ہوسکی۔ گھر کی خواتین سے ساری داستان سن کر نوسیر بڑی دیر تک تمسخرانہ ہنسی ہنستا رہا، پھر کہنے لگا
"سلیان، ذرا وہ سیب مجھے دو، میں بھی اس کو کھانے کی اپنی سی سعی کرکے دیکھوں۔"
"ان سیبوں کو میں نے اسی روز تلف کردیا تھا، جناب۔ البتہ مستقبل سے میں ایک قلم بھی لے کر آیا ہوں۔ آپ اس کو استعمال کرنے کی کوشش کریں ، آپ کو خود پتہ چل جائے گا کہ میں آپ لوگوں کو من گھڑت کہانیاں نہیں سنارہا ہوں۔" سلیان نے متانت سے جواب دیا۔
"ضرور، کہاں ہے وہ قلم؟" نوسیر پُراشتیاق لہجے میں بولا۔
سلیان نے اپنے بستے میں ہاتھ ڈالا اور قلم نکال کر نوسیر کو پیش کیا مگر جیسے ہی نوسیر نے قلم کی طرف اپنا ہاتھ بڑھایا ایک غیر مرئی قوت نے اس کے دونوں ہاتھوں کو زنجیروں سے جکڑ دیا۔ نوسیر گھبراکر اپنی نشست سے کھڑے ہونے کی کوشش میں سلیان سے آٹکرایا۔ قلم سلیان کے ہاتھ سے فرش پر گرگیا اور لڑھک کر نشست کے ایک پائے کے پیچھے چلا گیا۔ سلیان کو اندازہ نہ ہوسکا کہ اس کا قلم کس طرف گرا ہے ، دوسری طرف نوسیر نے چیخ چلا کر پورا گھر سر پر اٹھا رکھا تھا۔ اس افراتفری میں قلم کو تلاش کرنے میں کافی وقت لگ گیا اور جب نوسیر بالآخر زنجیروں سے آزاد ہوا تو اس نے نیلوما سے خشمگیں لہجے میں کہا
"اپنے ساتھی سے کہو کہ فورا میرے گھر سے نکل جائے، ورنہ میرے ہاتھوں اس کو کوئی گزند پہنچ جائے گا۔"
نیلوما سلیان کا ہاتھ پکڑ کر گھر سے باہر نکل آئی اور اس کو پائیں باغ میں لے جاکر کہنے لگی
"اگر تم نے کہیں سے شعبدے بازی میں مہارت حاصل کرلی ہے اور اپنی چالبازیوں سے اپنا مقام بنانا چاہتے ہو، تو میں اپنی شادی کی پیش کش واپس لیتی ہوں ۔ اور اگر تم سچ مچ مستقبل سے آئے ہو اور تمھارا یہ دعوی صحیح ہے کہ میری شادی کسی اور سے ہوچکی ہے اور میں ایک بچے کی ماں بھی ہوں، تو پھر قدرت کے اس فیصلے کو تبدیل کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ ماضی سے سبق سیکھا جاسکتا ہے، مگر اس میں جینا محض نادانی ہے۔" نیلوما کی آنکھیں آنسؤوں سے جھلملارہی تھیں۔ کچھ دیر تک سر جھکائے وہ بیٹھی رہی اور پھر اٹھ کر اپنے گھر کی طرف چل پڑی۔
سلیان نے کسی ردعمل کا مظاہرہ نہیں کیا۔ کافی دیر تک وہ خالی فضا میں گھورتا رہا اور پھر سوداگر کے بتائے ہوئے منتر کو پڑھ کر ماضی سے حال میں آگیا۔ اس کی خوش قسمتی تھی کہ اس کی واپسی اپنے بستر پر ہوئی تھی، اس لیے کہ اس بار اس پر ایسی تکان طاری ہوئی تھی کہ بستر سے بغیر کسی انسانی سہارے کے وہ اٹھ نہیں سکتا تھا۔ گھر والوں سے پتہ چلا کہ وہ سات سال بعد واپس آیا ہے۔ سات سال کی وہ قربانی دے سکتا تھا مگر اس نے دیکھا کہ اس کی جوانی ڈھل چکی تھی ، وہ بڑھاپے میں قدم رکھ چکا تھا اور چہرے اور ہاتھوں پر جھریاں پڑ چکی تھیں۔ پینتیس سال کی عمر میں وہ ستر سال کا بوڑھا دکھائی دیتا تھا۔
کئی مہینے سلیان نے بستر میں گزار دیے، بالآخر جب وہ بستر سے اٹھا تو بغیر عصا اس کے لیے چلنا پھرنا محال تھا۔ ایک دن وہ گھسٹتے ہوئے بازار کی طرف چل نکلا، اس کے قدم خود بخود سوداگر کے مسکن کی طرف اٹھ گئے۔ سوداگر نے اسے دیکھ کر فلک شگاف قہقہہ لگاتے ہوئے اپنا روایتی جملہ دہرایا
"اب کیا لینے آئے ہو؟"
"میں آخری سودا کرنے آیا ہوں۔ " سلیان نے سوداگر کے سامنے پڑے مونڈھے پر بیٹھتے ہوئے کہا۔
"سودا کرنے کے لیے تمھارے پاس کچھ نہیں رہ گیا ہے۔" سوداگر کے چہرے پر ایک سفاک مسکراہٹ ابھری۔
"کیوں نہیں ؟ میرے پاس اب بھی میری آخری سانسیں ہیں، میں نیلوما کے قدموں میں جان دینا چاہتا ہوں۔ میری یہ آخری خواہش پوری کردو، میں نے جس دن اپنی محبت ٹھکرائی تھی، مجھے اس سے چند روز پہلےماضی میں بھیج دو۔" سلیان کے لہجے میں التجا تھی۔
سوداگر نے اپنی آنکھیں بند کرلیں اور منتر پڑھنا شروع کیا، پلک جھپکتے ہی سلیان ماضی میں پہنچ چکا تھا۔ نصف النہار کا وقت تھا مگر بستی میں ہر طرف ویرانی چھائی ہوئی تھی۔ دور دور تک کسی آدم زاد کا پتہ نہیں تھا۔ سلیان نے غور سے دیکھا بستی میں کوئی گھر صحیح سالم نہیں بچا تھا، سارے گھر ٹوٹ پھوٹ کر ملبے کا ڈھیر بن چکے تھے۔ اس کا رخ نیلوما کے گھر کی طرف تھا، اس کے دل میں ایک ہوک سی اٹھی، نیلوما کا گھر بھی کھنڈر بن چکا تھا۔
سلیان کو قدرے تعجب ہوا، اسے محسوس ہوا کہ نیلوما کا کھنڈر نما گھر مستقبل میں سوداگر کے مسکن سے مشابہ ہے۔ کچھ دیر کے لیے وہ ٹھٹکا ، مگر پھرگھر میں داخل ہو گیا، حجرے کا پردہ ہٹاتے ہی اسے حیرت کا جھٹکا لگا، سوداگر اپنی مخصوص نشست پر براجمان تھا۔ سلیان کو دیکھتے ہی سوداگر نے فلک شگاف قہقہہ لگاتے ہوئے اپنا روایتی جملہ دہرایا
"اب کیا لینے آئے ہو؟"
© 2024. Al Qalam Academy, Glasgow, UK. All rights reserved.