Al Qalam Logo

نوشتۂ دیوار

ڈاکٹر محفوظ جاوید ندوی
سابق استاذ، شعبۂ اردو، گلاسگو یونیورسٹی، برطانیہ

Image

بستی میں ایک عجیب و غریب شور اٹھا، لوگ گھروں سے باہر نکل آئے ، پھر وہ سراسیمگی کی حالت میں تیز تیز قدموں سے ایک طرف چل پڑے، ان کا رخ بستی کے قبرستان کی طرف تھا۔ رات تاریک ہوچلی تھی ، کچھ لوگوں نے اپنے ہاتھوں میں مشعلیں اٹھا رکھی تھیں ، مشعلوں کی روشنی انھیں ٹھوکریں کھانے اور کسی کھائی میں گرنے سے بچارہی تھی۔ بستی کا ایک سردار یشکور بھی اپنی بیوی تمینا کا ہاتھ تھامے بھیڑ کے ساتھ آگے بڑھا چلا جارہا تھا۔دیکھتے ہی دیکھتے بستی کے سارے لوگ قبرستان کی شمالی دیوار کے سامنے کچھ فاصلے پر ساکت و صامت کھڑے ہوگئے۔ دیوار پر روشنی کی آڑی ترچھی لکیریں نمودار ہونی شروع ہوئیں، یہ لکیریں کافی دیر تک کہنگی اور بوسیدگی کا شکار دیوار پر چکر کاٹتی رہیں ، پھر وہ ایک جگہ ٹھہر گئیں۔ لکیروں نے حروف کی شکل اختیار کی ، یہ حروف جلی اور روشن تھے ۔ لوگوں نے انھیں پڑھا اور سمجھا ، بہتوں کے چہروں پر حیرت کے آثار ہویدا ہوئے، مگر جو اُن میں جہاں دیدہ تھے، انھوں نے محض تاسف کا اظہار کیا اور سر جھکالیا اور پھر لوگ اپنے گھروں کی طرف بوجھل قدموں سے واپس چل پڑے۔
بھیڑ میں بستی کے دو حکمراں سردار، فینور اور شرمان، بھی تھے، ان کے تاثرات اوروں سے مختلف تھے، ان کے چہروں پر جھنجھلاہٹ تھی۔ انھیں جھنجھلاہٹ اس بات پر تھی کہ جب آڑی ترچھی لکیروں نے حروف کی شکل ہی نہیں اختیار کی تو اس کو لوگوں نے پڑھ کیسے لیا؟ پھر ان کے چہروں پر حیرت و تاسف کے جذبات کیوں کرابھرے؟ انھوں نے اپنے ملازمین سے بھی پوچھا کہ کیا دیوار پر لکھی تحریر انھیں سمجھ میں آئی۔ ملازمین کے چہروں سے خوف عیاں تھا، انھوں نے نفی میں سر ہلادیا۔
فینور اور شرمان کی دشمنی جدی پشتینی تھی مگر گزشتہ کئی ماہ سے اس میں بڑی شدت آگئی تھی، وہ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیتے تھے۔ دریں اثنا ، یشکور اور بستی کے کئی دیگر جہاندیدہ سرداروں نے ان کے درمیان مصالحت کرانے کی کوشش کی تھی مگر وہ بھی ناکام رہے تھے۔ تین دن مزید گزرگئے، بستی کے لوگ آپس میں سرگوشیاں کرتے رہے، انھیں حیرت تھی کہ بستی کے ہر عاقل و بالغ نے نوشتۂ دیوار کو دیکھا اور سمجھا مگر فینور اور شرمان جیسے دیدہ ور دیکھنے سے قاصر رہے۔
چوتھے روز یشکور گریہ کرتے ہوئے اپنے گھر میں داخل ہوا، اس کی بیوی تمینا آگے بڑھی اور یشکور کو سہارا دینے کی کوشش کی۔ یشکور اپنی بیوی کے گلے لگ کر رونے لگا۔ تمینا کو اس سے کچھ دریافت کرنے کی ہمت نہیں پڑی، اس نے بھی نوشتۂ دیوار پڑھ رکھا تھا۔ جب یشکور کی طبیعت قدرے سنبھلی تو خود ہی بتلانے لگا
"فینور نے شرمان کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔"
"پر انھوں نے دیوار پر لکھی تحریر سے سبق سیکھنے کی کوشش کیوں نہیں کی؟" تمینا نے سوال بھرے لہجے میں کہا۔
"یہی تو مسئلہ ہے کہ بستی کے ہر فرد کو دیوار پر لکھی تحریر سمجھ میں آگئی تھی، مگر یہ دونوں اندھے ہوگئے تھے۔ ان کو محض آڑی ترچھی لکیریں نظر آتی رہیں، ان کا مفہوم کیسے سمجھتے؟" یشکور کی آنکھوں سے پھر آنسو جاری ہوگئے۔
کئی روز تک شرمان کے خاندان کے لوگ سوگ مناتے رہے، بستی کے لوگ ان سے تعزیت کرنے آتے رہے اور پھرآہستہ آہستہ کاروبارِ زندگی معمول پر آتاچلا گیا۔ اس دوران مکتب بھی بند رہا اور بستی کے بچے کھیل کود میں اپنا وقت ضائع کرتے رہے۔ ایک روز یشکور اپنے اکلوتے بچے ہاریس سے، جس کی عمر بمشکل دس گیارہ سال رہی ہوگی، کہنے لگا
"بیٹا، کھیل کود میں تمھارا کافی وقت ضائع ہورہا ہے، آؤ میرے ساتھ بیٹھو اور اپنا آموختہ پڑھ لو۔"
"مجھے پڑھائی لکھائی سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔" ہاریس کے لہجے میں لا پروائی تھی۔
" اگر آج دلچسپی نہیں لی تو پھرکل بڑے ہوکر نوشتۂ دیوار کیسے پڑھ سکو گے؟" یشکور نے مسکراکر کہا۔
"آپ کا دوست شرمان بستی کا سب سے بڑا عالم فاضل تھا، پھر وہ نوشتۂ دیوار کیوں نہیں پڑھ سکا؟" یہ کہہ کر ہاریس باہر بھاگا۔ یشکور نے اس کے پیچھے لپکنے کی کوشش کی، مگر کچھ سوچ کر اپنی جگہ کھڑا رہ گیا۔ شام کو ہاریس باہر سے کھیل کود کر گھر آیا تو کچھ دیر کے بعد یشکور نے پھراس کی فہمائش کرنے کی کوشش کی۔ ہاریس کے ہاتھ میں پیالہ تھا، اس نے طیش میں آکر پیالہ زمین پر دے مارا، چاروں طرف کرچیاں بکھر گئیں۔ غصے سے اس نے پھنکارتے ہوئے کہا
"اگر آئندہ آپ نے مجھے پڑھنے لکھنے کے لیے کہا تو میں گھر سے بھاگ جاؤں گا۔"
"گھر سے بھاگ جاؤ گے؟" یشکور کو حیرت کا جھٹکا لگا ۔ "بھاگ کر کہاں جاؤ گے؟" یشکور نے زبردستی مسکرانے کی کوشش کی۔
"بھاگ کر کہیں بھی جاؤں، پر آپ کے ساتھ نہیں رہوں گا۔" یہ کہہ کر ہاریس بالاخانے کی طرف چل پڑا۔
بالآخر مکتب دوبارہ کھل گیا، ہاریس نے دوسرے بچوں کے ساتھ مکتب جانا شروع کردیا۔ یشکور نے دیکھا کہ ہاریس نے پڑھائی میں دلچسپی لینی شروع کردی ہے، اس لیے اس کو مزید چھیڑنا مناسب نہیں خیال کیا۔
ایک دن جب یشکور جانوروں کو چارا دے رہا تھا ، ہاریس کو آتے دیکھ کر اس نے آواز لگائی
"بیٹا، ادھر آجاؤ، چارا دینے میں میری مدد کرو۔"
ہاریس اس کو نظر انداز کرتا ہوا چلا گیا۔ یشکور کے چہرے پر کرب کے آثار نظر آئے مگر اس نے اپنے دکھ کا اظہار نہیں کیا۔ کئی ماہ ایسے ہی گزر گئے۔ ہاریس یشکور کی باتیں سنی ان سنی کردیتا، پھر یشکور نے محسوس کیا کہ ہاریس کے رویے میں اس کے لیے بدتمیزی کا عنصر شامل ہوگیا ہے۔ عام حالات میں ہاریس معتدل رہتا مگر جیسے ہی یشکور کچھ بولنے کی کوشش کرتا، ہاریس چیخنے چلانے لگتا۔ یشکور کو تشویش ہوئی کہ اس نوعمری میں ہاریس کے مزاج میں ایسی تبدیلی کیوں کر آگئی۔ اس نے ایک روز تمینا سے اپنی تشویش کا اظہار کیا۔
"یہ تمھارا وہم ہے، اس عمر میں سارے بچے ایسے ہوتے ہیں۔" تمینا ہنس کر بولی۔
" گویا تم یہ کہہ رہی ہو کہ اس عمر میں سارے بچے بدتمیز ہوجاتے ہیں۔" یشکور نے شکایتی لہجے میں کہا۔
"نہیں، میں یہ نہیں کہہ رہی ہوں اور نہ ہی ہمارا بیٹا بدتمیز ہے۔" یہ کہہ کر تمینا اپنے کام میں مصروف ہوگئی۔
اگلی صبح کھیتوں پر جانے سے پہلے یشکور نے دانستہ تمینا کے سامنے ہاریس کو آواز دی، مگر وہ بالاخانے سے اتر کر نہیں آیا۔ بالآخر تمینا زینے چڑھ کر اوپر گئی اور منت سماجت کرکے ہاریس کو نیچے لائی۔ یشکور کہنے لگا
"بیٹا، آج مکتب بند ہے، میرے ساتھ کھیتوں پر چلو، اس سے میری کچھ مدد ہوجائے گی۔"
"مجھے کہیں نہیں جانا ہے، آج میری چھٹی کا دن ہے، میں دوستوں کے ساتھ اپنا وقت گزاروں گا۔ " ہاریس یہ کہہ کر مڑا اور زینوں کی طرف بڑھنے کی کوشش کی۔
"میرے لعل، چند ساعتوں کے لیے میرے ساتھ چلو، باقی سارا دن اپنے دوستوں میں گزار لینا۔" یشکور نے شفقت سے ہاریس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا۔
"اگر آپ نے مجھ پر سختی کی، تو میں پہلے ہی آ پ کو بتا چکا ہوں میں کہیں دور چلا جاؤں گا۔" ہاریس یشکور کا ہاتھ اپنے کندھے سے جھٹک کر بولا۔
یشکور کی آنکھیں پُر نم ہوگئیں، وہ شکایتی انداز میں تمینا کی طرف مڑا مگر وہ پہلے ہی باورچی خانے کی طرف جاچکی تھی۔
اسی روز رات کو بستی میں پھر وہی عجیب و غریب شور اٹھا، لوگ بستی سے نکل کر سراسیمگی کی حالت میں قبرستان کی طرف چل پڑے ۔ یشکور خوف میں مبتلا تھا کہ دیوار پر کہیں آج اس کے بیٹے ہاریس کے بارے میں کوئی پیش گوئی نہ ہو، اس کے پاؤں من من بھر کے ہورہے تھے، اس سے قبرستان کی طرف چلا نہیں جارہا تھا۔ کچھ ہی دیر میں بستی کے لوگ شمالی دیوار کے سامنے جاکر کچھ فاصلے پر ساکت و صامت کھڑے ہوگئے ۔ دیوار پر روشنی کی آڑی ترچھی لکیریں نمودار ہونی شروع ہوئیں، لکیروں نے حروف کی شکل اختیار کی ، یہ حروف جلی اور روشن تھے۔ یشکور کو قدرے اطمینان محسوس ہوا کہ ہاریس کے بارے میں کوئی خبر نہیں تھی بلکہ اگلے چند روز میں سملون کی موت کی اطلاع تھی، جو کئی ماہ سے سرطان کے مرض میں مبتلا چلا آرہا تھا۔ بستی کے لوگوں نے اظہارِ تاسف کیا اور بوجھل قدموں سے اپنے اپنے گھروں کو واپس چل پڑے۔
یشکور نے مکتب جاکر ہاریس کے معلمین اور اتالیق سے وقت لے کر ملاقات کی اور ان سے اپنے بیٹے کے رویے اور اپنی تکلیف کی شکایت کی۔ یشکور کی باتیں سن کر سبھی نے حیرت کا اظہار کیا اور اس کی توقع کے برعکس ہاریس کی محنت، قابلیت اور تمیز داری کی تعریف کی۔ وہاں سے مایوس ہوکر وہ ہاریس کے دوستوں سے فرداً فرداً ملا، انھیں بڑی دیر تک کریدتا رہا مگر ان سے بھی کوئی ایسا اشارہ نہیں مل سکا جس سے اسے شک ہوتا کہ ہاریس غلط ساتھیوں کی صحبت میں اٹھتا بیٹھتا ہے۔
تمینا نے ایک روز اپنے خاوند کو بٹھایا اورسمجھانے لگی
"تم کب تک اپنے آپ کو ہلکان کرتے رہو گے۔ بچے جب مراہقت کے مرحلے میں داخل ہوتے ہیں تو ان کے مزاج میں اس طرح کی تبدیلیاں آجاتی ہیں۔ جیسے جیسے ہمارا بیٹا بڑا ہوتا جائے گا اس میں جذباتی شعور پیدا ہوتا جائے گا۔ کچھ چیزوں کی درستگی میں وقت لگتا ہے اور تم وقت کا مقابلہ نہیں کرسکتے ۔"
"شاید تم ٹھیک کہتی ہو۔ میرا بھی یہی خیال ہے کہ صبر و شکر کے ساتھ زندگی گزارنا سیکھ لوں، ورنہ پھر میرے بارے میں نوشتۂ دیوار کے ظاہر ہونے میں دیر نہیں لگے گی۔ " بولتے بولتے یشکور کا چہرہ تاریک ہوگیا ۔
تمینا اس کی طرف جھکی اور کہنے لگی "تمھاری طبیعت تو ٹھیک ہے نا؟"
"ہاں میں بالکل ٹھیک ہوں، کچھ دیر کے لیے سر چکراگیا تھا۔" یشکور نے بستر پر دراز ہوتے ہوئے کہا۔ تمینا نے اس پر چادر ڈالی اور حجرے سے باہر نکل گئی ۔
آج یشکور کے گھر جشن کا سماں تھا، ہاریس کی چودہویں سال گرہ تھی ، عنفوانِ شباب میں اس کے داخلے کا پہلا دن تھا۔ بستی کے دستور کےمطابق شام کوان کے گھر خاندان اور بستی کے لوگوں کی کھانے پر دعوت تھی۔ یشکور اور تمینا صبح سے ہی مہمانوں کی ضیافت کی تیاریاں کررہے تھے۔ خاندان کے کچھ دوسرے لوگ بھی مدد کو آگئے تھے مگر ہاریس کا کوئی پتہ نہیں تھا۔ مہمانوں کے آنے میں جب دو تین ساعتیں رہ گئیں تو وہ گھر میں داخل ہوا۔ یشکور اس سے شکایتی لہجے میں کہنے لگا
"بیٹا، آج تمھاری زندگی کا اتنا اہم دن ہے ، غروبِ آفتاب کے ساتھ ہی تم نوجوان شمار کیے جاؤ گے ۔ گھر ، خاندان اور بستی کی بے شمار ذمےداریاں تمھارے سرآجائیں گی اور تمھارا حال یہ ہے کہ تم ہماراہاتھ بٹانے کے بجائے اطلاع دیے بغیرصبح سے غائب ہو۔"
"مجھے آپ کے جشن اور آپ کی ضیافت سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ اگر آپ نے مجھ سے تکرار کی تو میں ابھی فوراً گھر چھوڑ دوں گا۔" یہ کہہ کر ہاریس باورچی خانے میں چلا گیا۔
یشکور کو اپنا سر گھومتا ہوا محسوس ہوا، اس نے برآمدے کے ستون کا سہارا لیا اور پاس پڑے ہوئے مونڈھے پر بیٹھ گیا۔ جب کچھ دیر میں اس کے حواس بحال ہوئے تو وہ باقی لوگوں کے ساتھ ضیافت کے اہتمام میں دوبارہ جُٹ گیا۔ بالآخر جب آفتاب غروب ہونے لگا اورمہمانوں کی آمد شروع ہوگئی تو یشکور نے تمینا سے کہا کہ وہ اندرجاکر ہاریس کواس خاص تقریب کے لیے سِلا ہوا لباس پہنائے اور گھر کے باہر آنگن میں تیار کی گئی مخصوص مسند پر اسے مہمانوں کے درمیان بٹھا دے۔ تمینا گئی اور چند ہی لمحوں میں حواس باختہ الٹے پاؤں واپس آکر کہنے لگی
"ہاریس اپنے حجرے میں نہیں ہے۔"
"اگر اپنے حجرے میں نہیں ہے تو ہوسکتا ہے کہ ہمارے حجرے میں ہو۔" یشکور تیزی سے گھر کے اندر داخل ہوتے ہوئے بولا۔
"نہیں، وہ ہمارے حجرے میں بھی نہیں ہے۔" تمینا بھی قدم بہ قدم یشکور کے ساتھ چل رہی تھی۔
وہ دونوں مکان کے عقبی صحن میں نکل آئے اور پائیں باغ کا کونا کونا چھان مارا مگر ہاریس کا کوئی پتہ نہیں تھا۔ جب خاندان کے دوسرے لوگوں کو ہاریس کی گمشدگی کا پتہ چلا تو وہ بھی اس کی تلاش میں شریک ہوگئے مگر جلد ہی اندازہ ہوگیا کہ جب گھر کے لوگ ضیافت کی تیاریوں میں مصروف تھے، تو وہ خاموشی سے گھر سے کہیں باہر نکل گیا تھا۔ یشکور مہمانوں کے استقبال میں مشغول تھا، اس نے خاندان کے لوگوں سے التجا کی کہ وہ بستی میں جاکر اسے تلاش کریں، ہوسکتا ہے کہ وہ ناراض ہوکر اپنے کسی دوست کے گھر جاکر بیٹھ گیا ہو۔ ایک ساعت کے بعد لوگ واپس آئے، ان کے چہرے پر عیاں مایوسی دیکھ کر یشکور کا دل بیٹھ گیا۔ رات ہوچلی تھی، اس نے خاندان کے کچھ لوگوں سے درخواست کی کہ وہ مہمانوں کو کھانا کھلائیں، خود اس نے مشعل اٹھائی اور چند دیگر لوگوں کے ساتھ ہاریس کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا۔
یشکور نے بھی ہاریس کے دوستوں کے گھر سے اس کی تلاش شروع کی۔ پھر بستی کا چپہ چپہ چھان مارا۔ بستی کے مغرب میں ایک بہت بڑا باغ تھا، اس کے ایک ایک درخت کی شاخیں ٹٹول ڈالیں۔ بستی کے جنوب میں ایک دریا بہتا تھا، اس کے کنارے اس نے دونوں سمتوں میں دو دو میل کا سفر کیا ، مگر دور دور تک ہاریس کا نام و نشان نہیں تھا۔ یشکور کی پریشانی دیکھ کر ہاریس کے دوست بھی اس کی تلاش میں شریک ہوگئے تھے۔ بستی کے مشرق میں کھیت تھے اور کھیتوں کےساتھ ایک بڑا کھلیان بھی تھا۔ کھلیان میں بھی ہاریس نظر نہیں آیا، پھر اس کے دوست کھیتوں میں دور دور تک گھس گئے اور ہاریس کا نام لے کر اسے چیخ چیخ کر پکارتے رہے، مگر کچھ نہ پتہ چلتا تھا کہ ہاریس کو زمین کھاگئی یا آسمان۔ بالآخر تھک ہار کر سارے لوگ سستانے کے لیے کھلیان میں آکر بیٹھ گئے۔
نصف شب ہو چکی تھی، اور اب تک کسی نے بھی کھانا نہیں کھایا تھا۔ ابھی وہ یہی غور و فکر کررہے تھے کہ قریب کی بستی میں جاکر اسے تلاش کیا جائے یا صبح ہونے کا انتظار کیا جائے کہ اچانک انھوں نے ساتھ میں پڑے پیال کے ڈھیر میں کوئی حرکت محسوس کی۔ انھیں حیرت کا جھٹکا لگا، پیال کے ڈھیر کی طرف انھوں نے جست لگائی اور تیزی سے پیال کو ایک طرف ہٹانا شروع کیا، وہ کیا دیکھتے ہیں کہ ڈھیر کے نیچے ہاریس بڑے آرام سے سو رہا ہے۔ البتہ اس نے دانستہ اپنے چہرے پر پیال نہیں ڈالی تھی تاکہ سانس لینے میں کوئی دشواری نہ ہو۔ یشکور دم بخود کھڑا تھا، فرطِ جذبات سے اس کے ہونٹ کانپ رہے تھے، لیکن زبان سے اس نے کچھ نہیں کہا۔ ہاریس کے دوستوں نے اس کو زمین سے اٹھایا اور پھر مشعل کی روشنی میں سبھی لوگ گھر کی طرف روانہ ہوئے۔
گھر پہنچ کر یشکور نے دیکھا کہ تمام مہمان کھانا کھاکر اپنے اپنے گھروں کو لوٹ چکے ہیں اور تمینا ایک گوشے میں بیٹھی برتنوں کو سمیٹ رہی ہے۔ یشکورنے زبان سے کچھ نہیں کہا اور سیدھے اپنے حجرے میں داخل ہوگیا۔ اندر جاکر اس نے کنڈی لگائی، اپنے تخت پر جاکر بیٹھ گیا، پھراپنے پاؤں سمیٹے اور گھٹنوں میں اپنا سر دے کر سسکیاں لینے لگا۔ گریہ کی شدت بڑھتی گئی اور کچھ دیر میں وہ دھاڑیں مار مار کر رونے لگا۔ باہر سے تمینا دروازہ پیٹتی رہی، مگر اس نے سنی ان سنی کردی، وہ بس روتا رہا اور روتے روتے سو گیا۔
اگلی صبح یشکور کی آنکھ دیر سے کھلی، جب وہ اپنے حجرے سے باہر نکلا تو سورج سوا نیزے پر آچکا تھا۔ اس نے دیکھا کہ تمینا اور ہاریس ایک ساتھ بیٹھے ناشتہ کررہے ہیں، وہ بھی ان کی طرف بڑھتا چلا گیا۔ تمینا نے یشکور کو بھی شرکت کی دعوت دی مگر یشکور نے توجہ نہیں دی۔ جب ہاریس اپنا ناشتہ ختم کرکے کھڑا ہوگیا تو یشکور نے اس کو مخاطب کرکے کہا
"ہاریس، تم مجھ سے نفرت کرتے ہو، مجھے اس کا پتہ ہے۔ کیوں نفرت کرتے ہو، مجھے نہیں معلوم۔ اگر تمھیں یہ بات پسند نہیں ہے کہ میں تم کو کبھی مخاطب کروں، تو آج تم سے وعدہ کرتا ہوں کہ اب تم سے کبھی نہیں بولوں گا۔ لیکن بیٹا، ہاتھ جوڑ کر استدعا کرتا ہوں کہ مجھے اتنی بڑی سزا اب کبھی مت دینا جسے برداشت کرنے کی میرے اندر سکت نہ ہو۔"
یشکور نے یہ کہہ ہاریس کا پاؤں پکڑنے کی کوشش کی مگر وہ دو قدم پیچھے ہٹ گیا، کچھ دیر تک خاموش کھڑا رہا اور پھر باہر نکل گیا۔
وقت گزرنے کے ساتھ یشکور اور ہاریس میں اجنبیت کی دیواریں حائل ہونے لگیں۔ بہ وقتِ ضرورت، یشکور اپنے بیٹے سے بات کرنے کی کوشش کرتا ، مگر ہاریس کھنچا کھنچا اور الگ تھلگ رہتا۔ گھر میں وہ محض کھانا کھانے یا سونے آتا ، باقی سارا وقت دوستوں کے ساتھ آوارہ گردی میں گزارتا۔
ایک رات جب شدید بارش ہورہی تھی ، بستی میں وہی عجیب و غریب شور اٹھا۔ لوگ سراسیمگی کی حالت میں اپنے گھروں سے نکل کر قبرستان کی طرف چل پڑے۔ یہ پہلی بار ایسا ہوا تھا کہ حالتِ بارش میں نوشتۂ دیوار نمودار ہوا ہو۔ ہاریس گھر میں موجود نہیں تھا، یشکور بارش میں بھیگتا اور ایک انجانے خوف سے لرزتا، تمینا کا ہاتھ پکڑے قبرستان کی طرف لڑھکتا جا رہا تھا۔ کچھ دیر میں بستی کے لوگ شمالی دیوار کے سامنے جاکر کچھ فاصلے پر ساکت و صامت کھڑے ہوگئے ۔ دیوار پر روشنی کی آڑی ترچھی لکیریں نمودار ہونی شروع ہوئیں، لکیروں نے حروف کی شکل اختیار کی ، یہ حروف جلی اور روشن تھے۔ یشکور نے تحریر کو پڑھا اور سمجھا، اسے محسوس ہوا کہ اس کے پاؤں سے جان نکل گئی ہو اور اس کے لیے اپنا توازن قائم رکھنا مشکل ہورہا ہو۔ اگر تمینا نے اسے بروقت سنبھال نہ لیا ہوتا تو وہ زمین پرڈھے جاتا۔ تمینا کہنے لگی
"تم کیوں اتنے حواس باختہ ہورہے ہو؟ یہ پیش گوئی روفس کے بیٹے کیفان کے بارے میں ہے۔"
"تم سمجھتی ہو کہ اس پیش گوئی کا کیا مطلب ہے؟" یشکور نے دیوار کی طرف ہاتھ اٹھا کر کہا۔
"یہی کہ کیفان کچھ دنوں میں اپنے باپ کو چھوڑ کر بھاگ جائے گا۔" تمینا نے تاسف بھرے لہجے میں کہا اور یشکور کا ہاتھ پکڑ کربستی کی طرف واپس چل پڑی۔ گھر پہنچ کر، مشعل کی روشنی میں، تمینا نے دیکھا کہ یشکور کا چہرہ آنسؤوں سے بھیگا ہوا ہے۔
دو سال مزید گزر گئے، ہاریس سولہ سال کا ہوچکا تھا مگر اس کے طرزِ عمل میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ۔ یشکور اندر ہی اندر کڑھتا رہتا، پر کسی طرح اپنے آپ پر قابو رکھتا۔ ایک دن جب تمینا بیمار تھی اور کھیتوں پر یشکور کا جانا بھی ضروری تھا، اس نے ہاریس سے شفقت بھرے لہجے میں کہا کہ وہ اپنی ماں کو لے جاکر طبیب کو دکھادے۔ ہاریس حسب معمول سنی ان سنی کرکے باہر جانے لگا۔ یشکور کی قوتِ برداشت جواب دے گئی، اس نے چیخ کر کہا
"تمھاری ہٹ دھرمی اب ناقابلِ برداشت ہوگئی ہے، اب اس طرح سے کام نہیں چل سکتا۔"
"آپ بالکل صحیح کہتے ہیں، اب اس طرح سے کام نہیں چلے گا، میں یہی سننا چاہتا تھا۔" ہاریس کے چہرے پر تمسخرانہ مسکراہٹ تھی۔
"تمھارا کیا مطلب ہے، تم کیا سننا چاہتے تھے؟ " یشکور نے خوف زدہ لہجے میں کہا۔
ہاریس نے کوئی جواب نہیں دیا ، بلکہ سرعت سے دروازے سے باہر نکل گیا ۔
تین دن گزر گئے اورہاریس گھر واپس نہیں آیا تو یشکور کو تشویش ہوئی۔ اس سے پہلے بھی وہ باہر رات گزارنے کا عادی تھا مگر عام طور پر ایک دو راتوں کے بعد گھر واپس آجاتا۔ اس نے ہاریس کے دوستوں سے ملاقات کرکے پتہ کرنے کی کوشش کی مگر سبھی لاعلم نکلے۔ یشکور کے ایک رشتے دار نے بتایا کہ تین دن قبل ہاریس اس سے کچھ قرض مانگنے آیا تھا، پھر پتہ چلا کہ اسی روز قریبی بستی میں کسی خردہ فروش سے کچھ خریدتا ہوا دیکھا گیا تھا۔ یشکور اور تمینا فورا قریبی بستی کی طرف بھاگے، سارا دن وہ بستی کی گلیوں کا چکر کاٹتے رہے اور فردا فردا دریافت کرتے رہے مگر بجز اس کے اور کچھ نہیں معلوم ہوسکا کہ چند روز قبل وہ اس بستی سے گزرا تھا۔
یشکور کی بستی سے چند کوس کے فاصلے پر ایک قصبہ واقع تھا، ہر شنبہ کو یہاں مویشیوں کا بازار لگتا تھا۔ قرب و جوار کے لوگ مویشیوں کی خرید و فروخت کے لیے اسی بازار کا رخ کرتے تھے۔ اگلے ہفتے کچھ لوگوں نے یشکور کو آکر بتایا کہ شنبہ کے روز ہاریس مویشیوں کے بازار میں گھومتا ہوا دکھائی دیا تھا۔ تمینا نے یشکور کے لیے زادِ راہ تیار کیا اور وہ تنہا ہاریس کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا۔ تمینا کا خیال تھا کہ یشکور دو تین دنوں میں واپس آجائے گا، مگروہ واپس نہ آیا ، تمینا کی پریشانی اور اضطراب میں اضافہ ہوتا گیا۔ بالآخر دسویں روز یشکور کی واپسی ہوئی۔ یشکور کے چہرے پر پھیلی مایوسی اور تھکن دیکھ کر تمینا کو کچھ پوچھنے کی ہمت نہیں پڑی۔
بستی کے لوگوں کو اب یہ یقین ہوگیا تھا کہ ہاریس اپنا گھر چھوڑ کر بھاگ گیا ہے مگر انھیں حیرت تھی ، انھیں حیرت تھی اس بات پر کہ اتنا بڑا سانحہ ہونے والا تھا پھر نوشتۂ دیوار کیوں نہیں ظاہر ہوا تھا؟ یہ حادثہ اتنی خاموشی سے کیوں کر پیش آگیا؟ قبرستان کی شمالی دیوار بر وقت اس کی پیش گوئی کیوں نہ کرسکی؟ بستی کی تاریخ میں ایسا عجوبہ کبھی بھی پیش نہیں آیا تھا۔
یشکور اب خاموش رہنے لگا تھا، دوستوں سے ملنا جلنا بھی چھوڑ دیا۔ کھیتوں سے واپسی کے بعد وہ اپنے حجرے میں گھس جاتا، تمینا جو کچھ سامنے رکھ دیتی، اسے چپ چاپ کھالیتا، پھرطویل سوچوں میں گم ہوجاتا۔ چند ماہ یونہی گزرگئے، پھر ایک دن بستی کا ایک شخص ، جو شہر میں کام کرتا تھا، یشکور سے ملنے آیا۔ اس نے بتایا کہ اس نے ہاریس کو شہر کے ایک کارخانے میں کام کرتے دیکھا ہے۔ یہ سننا تھا کہ گویا یشکور کی قوتِ گویائی واپس آگئی ہو، اس نے ملاقاتی سے کرید کرید کر بے شمار سوالات کیے اور کارخانے کے بارے میں بہت ساری معلومات اکٹھا کرلیں۔ اگلی صبح اس نے شہر جانے کی تیاری شروع کردی۔ بستی سے یہ شہر بیس کوس کے فاصلے پر واقع تھا، روانگی کے دن تمینا پھوٹ پھوٹ کرروئی اور یشکور سے جلد واپس آنے کی التجا کی۔
یشکور نے تمینا سے وعدہ کیا تھا کہ وہ پانچ چھ ہفتوں میں واپس آجائے گا، مگر وہ وعدہ وفا نہ کرسکا، یشکور سال بھر بعد لوٹا۔ اس بار بھی وہ تنہا واپس آیا تھا مگر گھر میں داخل ہوتے ہی کہنے لگا
"مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے، مجھے قابلِ اعتماد ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ سمندر کے کنارے جو بڑا شہر واقع ہے ، ہمارا ہاریس اسی شہر میں دیکھا گیا ہے۔ میں محض تمھاری خیریت دریافت کرنے وطن واپس آگیا ہوں۔ چند دنوں بعد میں بڑے شہر کے لیے روانہ ہوجاؤں گا، مجھے قوی امید ہے اس بار تنہا واپس نہیں آؤں گا۔ "
تمینا چپ چاپ یشکور کی باتیں سنتی رہی، زبان سے کچھ نہیں بولی۔
یشکور نے اس بار اپنے ساتھ کافی اسباب لیا، کئی خچروں پر غلے کی بوریاں لادیں اورگدھے پر سوار ہوکر بڑے شہر کی طرف چل پڑا۔ تمینا بے بسی سے اس کو جاتے ہوئے دیکھتی رہی، اس کی آنکھیں آنسؤوں سے جھلملارہی تھیں۔
تمینا یشکور کا انتظار کرتی رہی، مگر وہ حسبِ وعدہ واپس نہیں آیا، دن ماہ اور ماہ سال میں تبدیل ہوتے گئے ، تمینا انتظار کرتے کرتے تھک گئی اوربالآخر ایک دن اس نے اپنی آنکھیں موند لیں، بستی کے لوگوں نے اس کی تجہیز و تکفین کا انتظام کیا۔
تین سال بعد یشکور کی واپسی ہوئی، بستی کے لوگوں سے اسے پتہ چلا کہ تمینا کو فوت ہوئے چار ماہ ہوچکے ہیں۔ یشکور اپنے گھر میں داخل ہوا اور اندر سے اپنے آپ کو مقفل کرلیا۔ کئی ہفتوں کے بعد، جب وہ گھر سے باہر نکلا ، تو بستی والوں کو بتلانے لگا کہ دراصل وہ تمینا کی خیریت دریافت کرنے آیا تھا ورنہ اسے اطلاع ملی تھی کہ جنوب کے ایک شہر میں اس کا پیارا دیکھا گیا ہے۔ وہ اپنے روٹھے ہوئے کو منانے جنوب کے شہر جانے کی تیاری کررہا ہے۔ لوگوں نے اسے ترحم کی نظر وں سے دیکھا ، لیکن زبان سے کچھ نہ بولے۔ چند دنوں میں وہ عازمِ سفر ہوا، مگر اس بار کوئی بھی اسے بستی سے رخصت کرنے نہیں آیا۔
یہ سفر بھی خاصا طویل ثابت ہوا، یشکور کی واپسی میں پانچ سال لگ گئے۔ اس نے واضح طور پر محسوس کیا کہ بستی کے لوگ اب اس سے گریز کرنے لگے ہیں، یشکور کو اس کی کوئی خاص پروا بھی نہیں تھی۔ چند ہفتے بستی میں قیام کرکے وہ اپنے پیارے کی تلاش میں پھر نکل کھڑا ہوا۔ یہ سلسلہ برسوں تک ایسے ہی چلتا رہا، پھر ایک بار یشکور ایسا نکلا کہ دوبارہ گھر واپس نہیں آیا۔ بستی کے لوگوں نے سمجھا کہ وہ کہیں مرکھپ چکا ہے۔
یشکور کے بچپن کا دوست فہزور بحری راستے سے تجارت کیا کرتا تھا۔ ایک بار بہ غرض تجارت جب وہ ایک دور دراز کی اقلیم کی بندرگاہ پر سفینے سے اترا تو اسے حیرت کا جھٹکا لگا، حمالین کی قطار میں اس نے یشکور کو کھڑے دیکھا۔ فہزور خود بھی اب بوڑھا ہوچلا تھا، مگر اس نے دیکھا کہ یشکور بڑھاپے کے ساتھ ساتھ ہڈیوں کا ڈھانچہ بن چکا ہے۔ یہ خیال کرتے ہوئے کہ ہوسکتا ہے اسے کوئی مغالطہ ہوا ہو، وہ یشکور کی طرف بڑھا اور اسے مخاطب کرکے کہنے لگا
"تم میرے بچپن کے دوست یشکور ہو، نا؟
یشکور کی آنکھوں میں شناسائی کی جھلکیاں نظر آئیں اور وہ دونوں ایک دوسرے سے لپٹ کر رونے لگے۔
"تم بستی سے دور دراز اس اقلیم میں کیا کرتے پھررہے ہو؟" فہزور نے یشکور کے گلے سے الگ ہوتے ہوئے دریافت کیا۔
"مجھے پتہ چلا تھا کہ میرا پیارا اس اقلیم میں دیکھا گیا ہے، اس توقع پر اس بندرگاہ کی گودی میں کام کرتا ہوں کہ یہ ایک مرکزی جگہ ہے، ہوسکتا کسی دن اس کا ادھر سے گزر ہوجائے۔" یشکور کی آواز میں نقاہت تھی۔
فہزور کے چہرے پر ایک بے ساختہ مسکراہٹ ابھری، مگر اس نے فورا اس پر قابو پالیا اور پھر کہنے لگا
"تمھاری صحت ایسی نہیں ہے کہ تم حمالی کرسکو۔ ویسے بھی اگر اس اقلیم میں تمھارا پیارا موجود ہوتا تو اب تک تم کو مل چکا ہوتا۔ آج سے تم میرے ساتھ قیام کرو، ایک ہفتے بعد ہمیں وطن واپس جانا ہے اور تم ہمارے ساتھ چلو گے۔" یہ کہہ کر فہزور اپنے ملازمین کی طرف بڑھ گیا جو سفینے سے اس کا تجارتی سامان اتارنے میں حمالین کی مدد کررہے تھے۔
یشکور زبان سے کچھ نہ بولا، فہزور کے ساتھ وہ خاموشی سے چلتا رہا۔
ہفتہ تیزی سے گزر گیا، اس دوران فہزور نے اپنے ملازمین کی مدد سے تجارتی سامان کی خرید و فروخت کی، اور پھر یشکور کو لے کر بحری راستے سے وطن روانہ ہوا۔ یشکور کو سمندر کا سفر راس نہیں آیا اور اس کی طبیعت خراب ہوگئی۔ سفینے میں موجود طبیب نے اس کا علاج کرنے کی کوشش کی مگر افاقہ ہونے کے بجائے ، اس کی طبیعت بگڑتی چلی گئی۔بالآخر ایک ماہ کے طویل بحری سفر کے بعد وہ اپنی اقلیم کی بندرگاہ پہنچ گئے۔ یشکور کا اصرار تھا کہ فہزور اپنے ملازمین کے ساتھ اپنا سفر جاری رکھے اور اس کے لیے خواہ مخواہ مشقت نہ اٹھائے، مگر فہزور نے اس کی ایک نہ سنی، اس کے لیے گھوڑا گاڑی کا انتظام کیا اور پھر ساحلی شہر میں چند دن آرام کرنے کے بعد انھوں نے خشکی کے راستے دوبارہ سفر کا آغاز کیا۔ مزید پندرہ دن کے بعد بالآخر وہ اپنی بستی میں وارد ہوئے۔
یشکور کی واپسی کی خبر بستی میں آنا فانا پھیل گئی۔ فہزور نے اپنے ملازمین کی مدد سے یشکور کو گھوڑا گاڑی سے نیچے اتارا اور چوپال میں لے جاکر ایک چارپائی پر لٹادیا۔ چوپال میں پہلے سے بستی کے بوڑھےسردار سمیت کئی لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔ یشکور کو دیکھنے کے لیے آنے والوں کا تانتا بندھ گیا۔ بیماری اور نقاہت کی وجہ سے یشکور پر نیم غشی طاری تھی۔ بوڑھے سردار نے یشکور کو آواز دی
"یشکور، آنکھیں کھولو، دیکھو کون تم سے ملنے آیا ہے۔"
یشکور نے اپنی آنکھیں کھول دیں، اس کے سامنے اس کا بیٹا ہاریس کھڑا ہوا تھا، اب تو وہ بھی ادھیڑ عمر کا ہوچکا تھا۔
"بابا، یہ میں ہوں، آپ کا لعل ہاریس۔" ہاریس کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ گرتے ہوئے آنسو یشکور کی جھریوں بھری ہتھیلی کو بھگورہے تھے۔ "میں تو دو سال بعد ہی گھر واپس آگیا تھا اور آپ کے پیروں پر گر کر معافی مانگی تھی۔ میں اس کے بعد آپ کی اجازت کے بغیر ایک دن کے لیے بھی اس بستی سے باہر نہیں گیا، آپ میری تلاش میں کیوں اور کہاں نکل جاتے ہیں؟"
یشکور کے چہرے پر ایک معنی خیز مسکراہٹ آگئی۔ اس نے ہاتھ کے اشارے سے پانی مانگا، ہاریس نے پانی کا کٹورا یشکور کے ہونٹوں سے لگادیا۔ پانی پینے کے بعد یشکور کافی دیر تک گہری گہری سانسیں لیتا رہا۔ پھر اس نے اپنی کمر کی طرف اشارہ کیا ، ہاریس سمجھ گیا اورفہزور کی مدد سے یشکور کی پشت کو گاؤ تکیے کا سہارا دے کر اسے نیم دراز حالت میں بٹھادیا۔
بستی کے لوگ یشکور کے چہرے کی طرف متجسسانہ نظروں سے دیکھے جا رہے تھے۔
" تمھیں کس نے بتایا کہ میں تمھاری تلاش میں باہر نکل جاتا ہوں؟" یشکور نے ہاریس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا، اس کی آوازنحیف مگر واضح تھی۔
"پھر تم نے کس کی تلاش میں اپنی پوری زندگی کا ستیاناس کرڈالا، احمق انسان؟" بستی کے بوڑھے سردار نے تیز آواز میں اپنی خفگی کا اظہار کیا۔
"یاد ہے تم لوگوں کو تجسس تھا کہ ہاریس کے گھر سے بھاگنے کی پیش گوئی قبرستان کی شمالی دیوار کیوں نہیں کرسکی تھی۔ تمھیں نہیں پتہ، یہ پیش گوئی ہوئی تھی مگر کافی پہلے۔" یشکور کی آواز میں غیر معمولی توانائی عود کر آئی تھی۔
چوپال میں لوگ دم سادھے یشکور کی باتیں سن رہے تھے۔
یشکور بولتا رہا "میں نے جب نوجوانی کی دہلیز پر قدم رکھا تو میں بھی اپنے باپ کو دھمکاتا تھا کہ میں گھر چھوڑ کر بھاگ جاؤں گا۔ میرے باپ نے کہا' اگر تو مجھے چھوڑ کر بھاگ جائے گا، اور کل کو تیرا بچہ پیدا ہوا تو وہ بھی تجھ کو چھوڑ کر بھاگ جائے گا'۔ میں نے اپنے باپ کا تمسخر کیا اور جس دن مجھے بھاگنا تھا، اسی دن قبرستان کی شمالی دیوار پر جاکر لکھ دیا کہ 'یشکور کا اگر کبھی بچہ ہوا تو وہ اسے چھوڑ کر بھاگ جائے گا'۔ مگر بستی سے نکلتے ہی مجھے اپنی اس حرکت پر پشیمانی ہوئی۔ میں واپس آیا اور ہاتھ سے اس تحریر کو مٹانے کی کوشش کی، مگر وہ نہ مٹ سکی۔ پھر پانی سے تحریر کی روشنائی دھونے کی کوشش کی، مگر وہ مزید نکھر آئی۔ اس پر مٹی کا گارا لیپا، پر تحریر نہ چھپ سکی، چونےسے سفیدی پھیری مگر ایسی تیز بارش ہوئی کہ ساری قلعی اتر گئی اور تحریر اپنی جگہ کندہ رہی۔"
یشکور کی آواز میں لرزش پیدا ہوچلی تھی، مگر اس نے اپنی بات جاری رکھی " پھر رات ہوگئی اور وہی عجیب و غریب شور اٹھا، میں ایک درخت کے پیچھے چھپ گیا تھا۔ بستی کے لوگ جب اکٹھا ہوگئے تو دیوار پر روشنی کی آڑی ترچھی لکیریں نمودار ہونی شروع ہوئیں، پھر وہ لکیریں ان حروف پر جاکر ٹھہر گئیں جنھیں میں نے دن کی روشنی میں لکھا تھا۔ اس رات نوشتۂ دیوار کو صرف میں نے دیکھا اور سمجھا تھا۔ "
بولتے بولتے یشکور نے خاموش ہوکر اپنا سر جھکا لیا۔ پھر خود کلامی کے انداز میں بولا "اپنے ہاتھ کا لکھا آخر کون نہیں پڑھ سکتا!"
کچھ دیر توقف کرکے، یشکور نے ہاریس کی طرف اپنا چہرہ اٹھایا اور کہنے لگا "اُس بھیڑ میں مجھے اپنا باپ نظر نہیں آیا۔ میں سراسیمگی کی حالت میں بھاگتا ہوا گھر آیا، وہ گھر میں بھی نہیں تھا۔ پھر میں نے بستی کا چپہ چپہ چھان مارا، وہ نہ ملا۔ اس دن سے آج تک میں اپنے روٹھے ہوئے باپ کو تلاش کیے چلا جارہا ہوں۔" یہ کہہ کر یشکور نے اپنی آنکھیں بند کرلیں۔
چوپال میں قبرستان کی سی خاموشی چھائی ہوئی تھی۔


© 2024. Al Qalam Academy, Glasgow, UK. All rights reserved.