ڈاکٹر محفوظ جاوید ندوی
سابق استاذ، شعبۂ اردو، گلاسگو یونیورسٹی، برطانیہ
حویلی میں آج جشن منایا جارہا تھا — حیا کی موت کا جشن۔ حیا ابھی مرنا نہیں چاہتی تھی، اس کی عمر ہی کیا تھی؟ پندرہ سال۔ اس نے ان گنت بار حویلی کے چوبارے سے بازار میں جھانک کر دیکھا تھا، اس کی عمر کی بچیاں ابھی چہلیں کرتی دکھائی دیتیں۔ آخراس کا کیا گناہ تھا کہ حویلی کے مکین اسے موت کے گھاٹ اتارنے پر تلے ہوئے تھے؟ چھت کی منڈیر پر کہنیاں ٹیکے جواب ڈھونڈنے میں اس نے کئی شامیں صرف کردیں، جگہ جگہ کی مٹی اس کے آنسؤوں سے بھیگ گئی، لیکن یہ گتھی وہ نہ سلجھا سکی۔ پریشان ہوکر حویلی کے مکینوں سے بار بار پوچھتی رہی مگر ان میں سے ہر ایک کا یہی جواب ہوتا کہ اس حویلی کا یہی رواج ہے، اس کی خاطر اس قدیم رسم کو توڑا نہیں جاسکتا۔
پھر ایک دن حیا نے حویلی سے فرار کا فیصلہ کرلیا۔ رات کے اندھیرے میں وہ چپکے سے بالاخانے سے نیچے اتری اور حویلی کے صدر دروازے کی طرف چل پڑی، وہ چلتی رہی، پر صدر دروازہ اسے نہ ملا، چلتے چلتے پوری رات گزر گئی مگر صدر دروازہ پتہ نہیں کہاں کھوگیا تھا۔ حیا نے ہمت نہ ہاری ، وہ دن کی روشنی میں آگے بڑھتی رہی، کئی دن اور رات مسلسل چلنے کے باوجود صدر دروازے تک رسائی نہ ہوسکی، بھوک و پیاس اور تھکاوٹ سے چور ہوکر جب وہ نیم بے ہوشی کی حالت میں زمین پر گرگئی تو اس نے حویلی کے محافظ کو اپنے اوپر سنگین تانے پایا۔
بالآخر، حیا کی موت کا دن آپہنچا، اس کی سکھیوں نے اسے رواج کے مطابق سجایا اور سنوارا، سرخ جوڑا پہنایا، زیورات سے لاد دیا، آنکھوں میں کاجل لگایا، ہونٹوں پر سرخی اور چہرے پر ڈھیر سارا غازہ مل دیا۔ حویلی کے مکینوں نے حیا کا سر تن سے جدا کرنے کے لیے شہر سے ایک مشاق جلاد کو کرائے پر بلارکھا تھا، جس نے مقررہ وقت پر انتہائی مہارت سے حیا کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔
اگلی صبح حیا کی آنکھ کھلی، وہ خوف و حیرت کے سمندر میں دیر تک غوطے کھاتی رہی، اسے حیرت تھی کہ وہ دوبارہ کیسے زندہ ہوگئی؟ کل شب وہ ابدی نیند سلادی گئی تھی، لیکن آج اس کی آنکھ کیوں کھل گئی؟ اسے خوف تھا کہ کیا آج کسی دوسرے جلاد کا انتظام کیا جائے گا ؟ کیا موت کے مرحلے سے اسے دوبارہ گزرنا پڑے گا؟ حویلی کی جہاندیدہ عورتوں نے اسے تسلی دی تھی کہ اسے اندیشہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے، یہ محض موت کا خوف ہے جو اسے ہلکان کیے جارہا ہے، مرنے کا عمل بہت سیدھا اوربے آزار ہوتا ہے۔ حویلی کی عورتیں غلط بیانی کرتی تھیں، مرنے کی اذیت بیان کرنے کے لیے الفاظ ایجاد نہیں ہوئے تھے ابھی۔ اس عذاب سے وہ دوبارہ نہیں گزرنا چاہتی تھی۔
حویلی میں حیا کے دوبارہ زندہ ہونے کی خبر تیزی سے پھیل گئی۔ حیا اتنی سخت جان نکلے گی، کسی کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا۔ حویلی کی عورتوں نے دانتوں تلے انگلیاں داب لیں۔
حیا کا خدشہ صحیح نکلا، آج حویلی کے مکینوں نے ایک نئے جلاد کا انتظام کیا تھا ، اس کی مہارت کی شہرت چار دانگ عالم میں پھیلی ہوئی تھی ، اس کی مشاقی پر کوئی حرف نہیں رکھ سکتا تھا۔ شام ہوتے ہی حیا کا سر دوبارہ قلم کردیا گیا مگر اگلی صبح وہ پھر جی اٹھی۔ پھر ایسا ہوا کہ ہر آنے والے دن شہر و بیرونِ شہر کے مستند ترین جلاد کرائے پر لائے جاتے رہے، لیکن حیا ایسی ڈھیٹ نکلی کہ حویلی کے مکینوں کے سارے جتن کے باوجود وہ دوبارہ زندہ ہوتی رہی۔
ایک دن اس نے سکھیوں کو روزانہ موت کے لیے سجانے سے منع کردیا۔ وہ اب خود سرِ شام آئینے کے سامنے بیٹھتی، بنتی اور سنورتی، پھر رسم کے مطابق خاموشی سے شمشان گھاٹ کی طرف روانہ ہوجاتی۔ حیا نے اپنی موت سے مصالحت کرلی اور پھرزندگی کے ماہ و سال یونہی گزرتے رہے۔
ایک صبح اس کی آنکھ حویلی میں لوگوں کی بھاگ دوڑ کے شور سے کھلی۔ اسے سمجھ میں نہیں آیا کہ حویلی میں بھگدڑ کیوں مچی ہے۔ کچھ دیر میں حیا کی ایک سہیلی ہانپتی کانپتی اس کے حجرے میں داخل ہوئی اور پھولتی سانسوں کے درمیان بولی
"حیا، تم ابھی تک اپنے بستر میں لیٹی ہو، فورا اٹھو اور اپنا اسباب اٹھاؤ۔ بھاگنے کے لیے ہمارے پاس زیادہ وقت نہیں ہے۔ حویلی کے اکثر مکین پہلے ہی راہِ فرار اختیار کرچکے ہیں۔"
"کیا مصیبت آن پڑی ہے کہ ہمیں اس طرح حویلی چھوڑنی پڑے؟ " حیا کے لہجے میں بے اعتنائی تھی۔
"پارساؤں کے ایک جتھے نے شہر کو چاروں طرف سے محصور کرلیا ہے۔ بازار پر وہ قبضہ کرچکے ہیں اور جنھوں نے مزاحمت کی کوشش کی ہے ان کا خون بہانے سے انھوں نے کوئی دریغ نہیں کیا ہے۔ بام کے اوپر سے خودجھانک کر دیکھ لو، اگر تم کو میری بات کا یقین نہیں ہے۔" سہیلی کی آواز میں گھبراہٹ تھی۔
"تم کو اگر جانا ہے تو جاؤ، مجھے بھاگنے کا کوئی شوق نہیں۔" یہ کہہ کر حیا نے دوسری طرف کروٹ لی اور چادر تان لی۔
سہیلی کچھ دیر تک تاسف بھری نظروں سے حیا کی طرف دیکھتی رہی، پھر یہ کہہ کر بھاگی "بازار کا راستہ بند ہے ، ہم لوگ خفیہ راستے سے شہر کے مغربی باغ میں اکٹھا ہورہے ہیں، اگراس دوران تم کو عقل آجائے تو تم بھی خفیہ راستہ ہی استعمال کرنا۔ "
سہیلی کے چلے جانے کے بعد حیا کچھ دیر تک بے حس و حرکت اپنے بستر میں پڑی رہی، پھر وہ اٹھی، غسل کیا اور لباس تبدیل کیا۔ رات کا بچا کھانا گرم کرکے کھایا اور اپنے حجرے میں بکھری ہوئی چیزوں کو سمیٹنے لگی۔ ابھی وہ روز کے معمولات سے فارغ نہیں ہوئی تھی کہ ایک پارسا نے پوری قوت سے اس کے حجرے کے دروازے کو لات مار کر کھول دیا۔ اس کے ہاتھ میں ننگی تلوار تھی اور اس سے سرخ خون ٹپک رہا تھا۔ لگ رہا تھا کہ پارسا نے ابھی ابھی کسی کو تہِ تیغ کیا ہے۔ حیا پر نظر پڑتے ہی وہ چیخا
"گنہ گار عورت! تو یہاں چھپی بیٹھی ہے۔ فورا یہاں سے باہر نکل۔ بازار میں شہر کے سارے گنہ گاروں کو اکٹھا کیا جارہا ہے، آج تم سب کے احتساب کا دن ہے۔"
حیا نے اس پر ایک اچٹتی نظر ڈالی اور اپنے کام میں دوبارہ مشغول ہوگئی۔
"احمق عورت، ابھی چند لمحے پہلے میں نے ایک قتل کیا ہے۔ اگر تو فورا میرے ساتھ نہیں چلی، تو میرے ہاتھوں ماری جائے گی۔" پارسا نے حیا کے کندھے پر تلوار کی نوک چبھوتے ہوئے کہا۔
"تم مجھے موت سے ڈراتے ہو، پارسا؟ مارڈالو مجھے، اگر میرے خون سے تمھاری پیاس بجھتی ہے۔ پہلی بار نہیں مروں گی، اس مرگھٹ پر میں برسوں سے روز مرتی آئی ہوں۔ " حیا کے چہرے پر ایک کرب ناک مسکراہٹ پھیل گئی۔
حیا کے کندھے سے تلوار کا دباؤ ڈھیلا پڑگیا، پارسا نے کہا "عورت، میں تیری بات نہیں سمجھ سکا۔ تیری بھلائی اسی میں ہے کہ چپ چاپ بازار میں سالار کے سامنے پیش ہوجا۔ ہوسکتا ہے کہ تیری خلاصی کی کوئی شکل نکل آئے۔"
حیا پارسا کی تلوار کے سائے میں چپ چاپ بازار کی طرف چل پڑی۔ حویلی سے باہر جا بہ جا انسانی لاشیں پڑی ہوئی تھیں ، انسانی لہوسے زمین سرخ ہوچکی تھی، کئی بار وہ خونی کیچڑ میں پھسلتے ہوئے بچی۔ پارساؤں کا جتھا شہر کے لوگوں کو ہانک ہانک کربازار کے مرکزی میدان میں اکٹھا کررہا تھا۔ پارسا نے حیا کو سالار کے سامنے پیش کردیا، ایک جوان عورت کو سامنے دیکھ کر سالار نے اپنی نگاہیں جھکا لیں اور پارسا کو مخاطب کرکے کہنے لگا
"دارون، یہ عورت تم کہاں سے پکڑ کر لائے ہو۔" حیا کو پہلی بار پارسا کے نام کا پتہ چلا۔
"سالار، یہ ایک گنہ گار عورت ہے، حویلی کے سارے مکین فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے، یہ بھی بھاگی جا رہی تھی، لیکن میں نے اسے راستے میں دبوچ لیا۔ " دارون فخریہ بولا۔
"حویلی میں یقینا بہت سارا مال ہوگا، تم اپنے ساتھ تین اور ہمرزم لے لو اور اس عورت کی خانہ تلاشی لو۔ ہمیں اپنی نئی بستی کے لیے زیادہ سے زیادہ اسباب و وسائل درکار ہیں، گنہ گاروں کی حویلیوں میں برسوں کا ذخیرہ کیا ہوا اندوختہ مل جاتا ہے۔ اگر یہ عورت تعاون کرتی ہے، تو اس کی جاں بخشی کرسکتے ہو۔" یہ کہہ کر سالار نے اپنی جھکی ہوئی نظریں اٹھائیں اور دوسرے پارسا کی طرف متوجہ ہوگیا۔
دارون حیا کو لے کر واپس ہوا، اب اس کے ساتھ تین اور پارسا تھے۔ حویلی میں پہنچ کر حیا نے مرکزی حجرے کی طرف ان چاروں کی رہنمائی کی، جہاں تھوڑی سی تلاش کے بعد ان کو آہنی تجوری کی چابی مل گئی۔ دارون کے ساتھی تامر نےتجوری کھولی، جواہرات کے ڈھیر دیکھ کر ان کی آنکھیں خیرہ ہوگئیں۔ لگتا تھا کہ حویلی کے مکین عجلت میں یہ خزانہ اپنے ساتھ نہیں لےجا پائے تھے۔ تامر نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر اپنے تھیلوں میں جواہرات بھرنا شروع کیا۔ حیا نے دیکھا کہ تامر نے چپکے سے سونے کے کنگن کا ایک جوڑا، جو قیمتی نگینوں سے مرصع تھا، اپنی جیب میں ڈال لیا۔
تھیلوں کو جواہرات سے بھرنے کے بعد انھوں نے غلہ خانے کا رخ کیا، یہاں انھیں اناج کا ایک بڑا ذخیرہ ملا۔ دارون نےدوسرے دونوں ساتھیوں کو سالار کے پاس اس درخواست کے ساتھ بھیجا کہ باربرداری کے جانور بھیج دیے جائیں ، تاکہ اناج کے ذخیرے کو آسانی سے لشکر گاہ میں منتقل کیا جاسکے۔ کچھ دیر میں دونوں ساتھی کئی خچروں کے ساتھ واپس آئے، پھر چاروں نے تھیلوں میں اناج بھر بھر کر خچروں پر لادنا شروع کیا، حیا نے دیکھا کہ تیسرا پارسا ، عیلان ، خاموشی سے اپنے ذاتی تھیلے میں بھی ا ناج بھرتا جارہا تھا ۔
جب انھوں نے جانوروں پر سارا اناج لاد دیا تو انھیں ستون سے باندھ دیا تاکہ خود کچھ دیر سستا سکیں۔ حویلی میں رات کا کھانا بچا رکھا تھا، ان کےحکم پر حیا نے ان کے لیے کھانا گرم کیا اور پارساؤں نے اپنا شکم بھرا۔ حیا نے محسوس کیا کہ دارون اسے غور سے دیکھے جارہا ہے، اس نے دارون کی آنکھوں میں جھانکا، کھانا کھانے کے بعد دارون کی بھوک میں کمی آنے کے بجائے اور اضافہ ہوگیا تھا۔ حیا نے دوسری طرف منھ پھیر لیا۔
پھر یہ چاروں پارسا خچروں کو ہانکتے ہوئے لشکر گاہ کی طرف چلے۔ انھوں نے حیا کی جاں بخشی نہیں کی ، اور اپنا عہد نبھانے کے بجائے، اسے ساتھ چلنے پر مجبور کیا۔پارساؤں نے جانوروں کی پشت پر ان کی قوت سے زیادہ اناج لاد دیا تھا، جس کی وجہ سے ان جانوروں سے چلا نہیں جارہا تھا، ان کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں اور بڑی مشقت سے وہ آگے بڑھ رہے تھے۔ اس کے باوجود چوتھا پارسا ، جس کو یہ لوگ یاغیل کے نام سے پکارتے تھے، ایک خچر پر سوار ہو گیا۔ خچر کی قوت جواب دے گئی، وہ وہیں زمین پر بیٹھ گیا۔ یاغیل نے اس پر بے تحاشا چابک برسانے شروع کردیے۔ حیا کی بھی قوت برداشت جواب دے گئی، وہ آگے بڑھی اور یاغیل کا چابک پوری قوت سے پکڑ لیا۔ یہ جسارت چاروں پارساؤں کو پسند نہیں آئی، وہ سبھی اپنا اپنا چابک لے کر حیا پر پل پڑے، وہ زمین پر اوندھی پڑی درد سے کراہتی رہی۔ چند لمحوں میں وہ لہولہان ہوگئی، اس کی پشت اور بازؤوں پر کوئی چیتھڑا باقی نہیں بچا تھا۔
اسی حالت میں وہ لشکر گاہ میں داخل ہوئے۔ شہر کی نصف آبادی کو تہِ تیغ کرنے کے بعد سالار آرام کرنے لشکر گاہ پہنچ چکا تھا۔ حیا کی جسارت کی کہانی سن کر وہ سیخ پا ہوگیا کہ اب تک وہ زندہ کیوں تھی۔ ان چاروں نے بہانہ بنایا کہ ابھی اس کی حویلی سے اور بھی مال برآمد ہونے کی توقع ہے ، اس لیے فوری طور پر اس کو موت کے گھاٹ اتار دینا دانشمندی نہ ہوگی۔ حیا کو قیدیوں کے خیمے میں منتقل کردیا گیا۔
لاشیں سڑنے لگی تھیں، ان کے تعفن سے شہر میں ایک لمحے کے لیے ٹھہرنا محال تھا۔ جولوگ پارساؤں کے احتساب سے بچ سکے تھے وہ دوسرے علاقوں کی طرف ہجرت کرگئے تھے۔ گنہ گاروں کی اکثریت تہِ تیغ ہوچکی تھی، جو کمتر گنہ گار تھے، وہ قیدیوں کے خیموں میں محصور تھے۔ ان کی جاں بخشی اس توقع پر کر دی گئی تھی کہ ممکن ہے وہ پارساؤں کی نئی بستی میں لے جانے والے پل کو عبور کرنے میں کامیاب ہوجائیں ، نئی بستی بسانے کے لیے مزدوروں کی ایک بڑی تعداد کی ضرورت تھی۔
پارساؤں کو ان کی خدمات کے عوض جنت ارضی میں ایک بڑا علاقہ انعام میں دیا گیا تھا، انھیں حکم ملا تھا کہ دنیاوی آلایشوں سے پاک ہوکر وہ اس نئے علاقے میں جلد از جلد منتقل ہوجائیں۔ پارساؤں نے اس سے پہلےجنت ارضی میں دوسرے گروہوں کے داخلے کی خبریں سنی تھیں، مگر ان کی زندگی میں یہ پہلا موقع تھا کہ وہ جنت ارضی میں خود داخل ہورہے تھے۔ وہ جوش اور ولولوں سے بھرے ہوئےتھے، ان کی خوشی دیدنی تھی، اگر ان کی راہ میں گنہ گاروں کی یہ بستی نہ حائل ہوجاتی تو اب تک وہ مادی دنیا سے پرے جنت ارضی میں لے جانے والے پل کو پار بھی کرچکے ہوتے۔
بالآخر کوچ کا وقت قریب آپہنچا۔ سالار کے سامنے حیا دوبارہ پیش کی گئی، محافظین کے لیے اس کو کمتر گنہ گاروں کے ساتھ رکھنے میں دقت پیش آرہی تھی۔ سالارنے دارون اور اس کے ساتھیوں کو بلابھیجا، جب وہ چاروں حاضر ہوگئے، تو اس نے ان کو مخاطب کرکے کہا
"اس بستی سے ہمیں جو مال اسباب ملنا تھا، وہ مل چکا۔ " پھر اس نے حیا کی طرف اشارہ کرکے کہا "بہتر ہے اس عورت کو یہیں قتل کردو، ورنہ ہمارے لیے بعد میں مشکلات کھڑی ہوسکتی ہیں۔"
"سالار، آپ اس بات کوکیوں بھول جاتے ہیں کہ اس عورت نے ہمارے ساتھ تعاون کیا تھا۔" دارون نے احتجاج کیا۔
"احمق! تم نہیں سمجھتے۔ یہ عورت گناہ کا سر چشمہ ہے۔ اس کا ناپاک وجودجنت ارضی کے مکینوں کو فتنے میں ڈال دے گا۔ جنت جزا کا مقام ہے، امتحان کا نہیں۔" سالار نے دارون کی سرزنش کی۔
"سالار، پھر تو یہ جنت ارضی کے پل پر خود ہی جل کر بھسم ہوجائے گی۔ ہمیں یہی بتایا گیا ہے کہ آلایش زدہ لوگ اس پل کو پار نہیں کر سکتے ہیں۔ کم از کم ہم لوگ بدعہدی کے الزام سے تو بچ جائیں گے۔" دارون کے تینوں ساتھیوں نے یک زبان ہوکر کہا۔
"مجھے تم چاروں کی نیتوں کا بخوبی پتہ ہے۔" سالار نے غراتے ہوئے کہا اور دوسرے قیدیوں کی طرف متوجہ ہوگیا۔
حیا لاتعلقی سے ان کی گفتگو سنتی رہی، زبان سے کچھ نہیں کہا۔
اگلی صبح پارساؤں کے جتھے نے کوچ کیا،ان کے ساتھ قیدی اور باربرداری کے جانور بھی۔ جنت ارضی سے ملانے والے پل تک پہنچتے پہنچتے شام ہوگئی مگرپارساؤں کا جتھا پل کو دیکھتے ہی اور پُرجوش ہوگیا۔ انھوں نے پڑاؤ ڈالنے کے بجائے اپنا سفر جاری رکھا۔ آسمان پرسیاہ بادل چھانے لگےتھے،طوفان کے آثار نمودار ہورہے تھے۔ اچانک تیز ہواؤں کے جھکڑ چلنے لگے اور موسلا دھار بارش شروع ہوگئی، ان کی مشعلیں بجھ گئیں، ہرطرف تاریکی کا راج ہوگیا۔ بجلی ایسے چمک اور کڑک رہی تھی گویا کہ سارے قافلے کو جلاکر خاکستر کردے گی۔ موت کے خوف سے پارساؤں نے اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس رکھی تھیں۔ اندھیرے میں راستہ نہیں سجھائی دیتا تھا، جب بجلی چمکتی تو اس کی روشنی میں کچھ دور چل لیتے اور جب اندھیرا چھا جاتا تو وہ رک جاتے۔
پل پار کرتے کرتے صبح ہوگئی، پارساؤں کے جتھے پر نفسا نفسی کا عالم طاری تھا۔ یہ سب اتنے بے حال اور بدحواس تھے کہ انھیں کچھ اندازہ نہیں تھا کہ کون پل عبور کرسکا اور کون بجلی کی زد میں آکر بھسم ہوگیا۔ حیا نے محسوس کیا کہ جتھا کہیں پیچھے رہ گیا ہے، وہ آگے بڑھتی رہی۔ اسے ایک خوب صورت، چھوٹا سا جھونپڑا نظر آیا، وہ اس میں داخل ہوگئی۔ جھونپڑا زندگی کے تمام بنیادی لوازمات سے آراستہ تھا ، اس کو اپنی ناپ کی پوشاکیں بھی نظر آئیں، اسے لگا جیسے یہ جھونپڑا خاص اسی کے لیے تیار کیا گیا ہو۔ اس نے اپنا لباس تبدیل کیا ، کھانا کھایا اور سوگئی۔ کئی دنوں سے اسے سونا نصیب نہیں ہوا تھا، سارا دن وہ سوتی رہی۔ شام کو آنکھ کھلی، وہ باہر نکلی، اسے کافی فاصلے پر کچھ لوگ چلتے پھرتے نظر آئے، لیکن اس نے ان کے پاس جانا مناسب نہیں سمجھا اور اپنے جھونپڑے میں واپس آگئی۔
اگلی صبح حیا کی آنکھ کسی کی آہٹ سے کھلی، یہ ایک مزدور عورت تھی، عورت تعظیم بجالائی۔ حیا کے استفسار پر اس نے بتایا کہ اس کا نام تالیہ ہے اور وہ حیا کی خدمت پر مامور کی گئی ہے۔
"کس نے تم کو مامور کیا ہے؟" حیا کے لہجے میں تجسس تھا۔
"مجھے نہیں پتہ۔" تالیہ نے مختصر سا جواب دیا اور جھونپڑے کی صفائی میں مصروف ہوگئی۔
ناشتہ کرنے کے بعد حیا اپنے جھونپڑے سے باہر نکلی ، اسے دور فاصلے پر کچھ لوگ نظر آئے ۔ اس نے انھیں پہچان لیا، یہ وہی پارسا تھے، جن کے قافلے کے ساتھ وہ اس نئی بستی میں ایک دن پیشتر وارد ہوئی تھی۔ وہ ان کی طرف بڑھتی چلی گئی۔ جوں جوں وہ قریب ہوتی گئی اس کی حیرت بڑھتی گئی۔ یہ لوگ تکلیف سے دوچار تھے، ان کی آہ و بکا کی صدا وہ دور سے سن رہی تھی۔ پاس پہنچ کر حیا نے دیکھا کہ وہ مختلف قسم کے عذاب میں مبتلا ہیں۔ ایک شخص کا پاؤں کٹا ہوا تھا ، اور ایک خونخوار کتا اس کے زخموں کو بے دردی سے بھنبھوڑ رہا تھا۔ ایک پارسا کے سینے پر ایک بڑی چٹان رکھی تھی ، جب وہ کافی جدوجہد کے بعد اس کو اپنے سینے سے اتارنے میں کامیاب ہوجاتا تو چٹان دوبارہ واپس لوٹ آتی۔ اس نے دیکھا کہ دو پارسا گرز سے ایک دوسرے کا سر پھاڑ تے، کچھ وقفے کے بعد سر ٹھیک ہوجاتا اور یہ اپنا عمل دوبارہ شروع کردیتے ۔
حیا کو اس انبوہ میں کوئی ایسا پارسا نظر نہیں آیا جو کسی نہ کسی نوعیت کے عذاب میں مبتلا نہ ہو۔ اس نے دارون اور اس کے ساتھیوں کو تلاش کرنے کی کوشش کی مگر وہ نظر نہیں آئے۔ وہ آگے بڑھتی رہی، جگہ جگہ اسے پارساؤں کی ٹولیاں نظر آتی رہیں مگر دارون یا اس کا کوئی ساتھی نظر نہیں آیا۔ اس نے ایک پارسا سے دارون کے بارے میں استفسار کیا، اس نے بڑی مشکل سے حیا کو بتایا کہ وہ پہاڑی کی دوسری طرف ہے اور پھر اپنے دائمی عذاب میں مبتلا ہوگیا۔
حیا پہاڑی پر چڑھ گئی، بلندی پر پہنچ کر اس نے وادی میں پارساؤں کی ایک ٹولی دیکھی، اس نے دور سے دارون کو پہچان لیا۔ وہ اس کی طرف بڑھتی چلی گئی، اس نے دیکھا کہ وہ دونوں آنکھوں سے اندھا ہوچکا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس نے تامر کو دیکھا، اس کے ہاتھوں میں کنگن تھے، وہ اتنے بڑے اوروزنی تھے کہ تامر کے دونوں ہاتھ زمین میں دھنسے ہوئے تھے، اس کو اپنے ہاتھوں کو ہلانے کی سکت بھی نہیں تھی۔ پھر اس نے دیکھا کہ ایک آدمی پر بے شمار اناج کی بوریاں رکھی ہوئی ہیں، بڑی مشکل سے وہ ایک بوری کو اپنے سے پرے کھسکاتا ہے کہ ایک نئی بوری اس پر آمسلط ہوتی ہے ۔ حیا نے اسے پہچان لیا، یہ عیلان تھا۔ اسی سے متصل اس نے یاغیل کو زمین پر پڑے دیکھا جس پر ایک بپھرا ہوا خچر لگاتار دولتی چلائے جارہا تھا اور اسے زمین سے اٹھنے نہیں دیتا تھا۔
حیرت سے حیا پر ایک سکتہ طاری تھا، یہ منظر جنت ارضی کا تھا یا دوزخ کا؟ اس کی عقل فیصلہ کرنے سے قاصر تھی ۔ وہ ایک چٹان کا سہارا لے کر بیٹھ گئی۔ کافی دیر کے بعد وہ اٹھی اور دارون کے پاس گئی ، اسے مخاطب کرکے کہا
"دارون، تمھاری آنکھوں کو کیا ہوگیا ہے؟ کیا تم مجھ کو دیکھ سکتے ہو؟"
دارون حیا کی آواز سن کر اسے پہچان گیا۔ وہ روتے ہوئے کہنے لگا
"میں نے تم پر نظر بد ڈالی تھی، میری آنکھیں چھن گئیں، تامر اور عیلان نے چوریاں کی تھیں، یاغیل نے ایک جانور پر ظلم کیا تھا، ہم سب اپنے اپنے انجام کو پہنچ گئے۔"
"اور تمھارا سالار کس حال میں ہے؟" حیا کے لہجے میں تجسس تھا۔
"اس کے جسم پر ایک قد آدم جونک چمٹ گئی ہے، وہ سامنے غار کے کسی تاریک گوشے میں پڑا ہوگا۔" دارون نے کراہ کر کہا۔
حیا کے لیے مزید وہاں ٹھہرنا ناقابلِ برداشت ہورہا تھا، وہ چپ چاپ اٹھی اور اپنے جھونپڑے کی طرف روانہ ہوگئی۔
جھونپڑے میں واپس پہنچنے پر اس نے دیکھا کہ تالیہ نہ صرف صفائی کر گئی تھی بلکہ تازہ کھانا بھی پکایا تھا۔ اسے دروازے پر کچھ آہٹ محسوس ہوئی، وہ تیزی سے باہر نکلی، حیا نے دیکھا کہ ایک مزدور شخص تازہ پھلوں سے بھری ٹوکری دروازے پر رکھ کر جارہا ہے۔ حیا نے اسے روکتے ہوئے کہا
"اے شریف انسان، کیا تم میری ایک بات کا جواب دے سکتے ہو؟"
مزدور رک گیا، جھک کر تعظیم بجالایا اور سوالیہ نظروں سے حیا کی طرف دیکھنے لگا۔
"کیا کل تم بھی ہمارے ساتھ قیدیوں کے گروہ میں شامل تھے؟" حیا نے پوچھا۔
مزدور نے نفی میں سر ہلادیا۔
"پھر قیدیوں کا گروہ کہاں گیا؟ اتنے سارے لوگ کہاں غائب ہوگئے؟ میں نے آج کسی قیدی کو دیکھا نہیں۔" حیا کے لہجے میں استعجاب تھا۔
"طوفان اور رات کے اندھیرے سے فائدہ اٹھاکر سارے قیدی واپس شہر کی طرف بھاگ گئے تھے، تمھارے علاوہ کسی دوسرے قیدی نے پل نہیں عبور کیا تھا۔" یہ کہہ کر مزدور مڑا اور تیز تیز قدموں سے وہاں سے چل دیا۔
اگلے روز حیا کو باہر جانے کی ہمت نہیں پڑی۔ پورا دن اس نے تالیہ کے ساتھ مل کر جھونپڑے کے باہر پھولوں کی کیاریاں درست کرنے میں گزاردیا۔جب شام ہوگئی اور ہر طرف تاریکی کا راج ہوگیا تو اسے باہر سے فریاد سنائی دی، اسے ایسا لگا کہ جیسے کئی بھکاری ایک ساتھ صدا لگارہے ہوں۔ وہ باہر نکلی تو کیا دیکھتی ہےکہ دارون اور اس کے ساتھی اس کے جھونپڑے کے باہر پڑے ہوئے ہیں، وہ اسی عذاب میں مبتلا ہیں جس میں وہ ان کو ایک روز پہلے دیکھ کر آئی تھی۔ اسے حیرت تھی کہ وہ لوگ اتنا طویل فاصلہ طے کرکے اس کے دروازے تک کیسے پہنچے۔ حیا کو دیکھ کر دارون نے گھگیاتے ہوئے کہا
"حیا، ہمیں اس عذاب سے نجات دلاؤ۔"
"میں گنہ گاروں کی بستی سے آئی ہوں، میری جیسی ناپاک عورت بھلا تمھارے عذاب کو کیسے مٹا سکتی ہے ؟" حیا کے چہرے پرمایوسی اور بے بسی کی جھلک تھی۔
" ایک بار اپنا دستِ شفا ہمارے سروں پر رکھ دو، شاید اس عذاب سےہم نکل آئیں۔ ہم نے تمھیں موت سے بچانے کی کوشش کی تھی، حیا! کیا اب وہ احسان چکانے کا وقت نہیں ہے؟ " کنگن کے بوجھ سے لدا تامر گڑگڑاتا ہوا بولا۔
"اگر تم نے مجھے بچانے کی کوشش نہ کی ہوتی، تو بھی میرے بس میں جو کچھ ہوتا، وہ میں تم لوگوں کے لیے کرتی۔ تمھیں پتہ ہے کہ میں ایک گنہ گار عورت ہوں، پر تم لوگ مجھے زبردستی مسیحا بنانے پر تلے ہوئے ہو۔" حیا نے ان کو سمجھانے کی کوشش کی۔
کچھ دیر بعد حیا جھونپڑے کے اندر چلی گئی اور پھر پھلوں کی ٹوکری لے کر نمودار ہوئی۔ ان کے پاس بیٹھ کرچھری سے پھلوں کو کاٹ کاٹ کر انھیں کھلانے لگی۔ وہ پھل کھاتے جاتے اوراس سے دستِ شفا رکھنے کی استدعا کرتے جاتے۔ حیا خاموشی سے ان کی باتیں سن رہی تھی۔
"یہ دوزخی صحیح کہتے ہیں، خاتون۔ " حیا کو اپنی پشت پر تالیہ کی آواز آئی۔ تالیہ نے سامنے آکر اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا "ہمیں چند دن پہلے بتایا گیا تھا کہ اس بار جنت ارضی میں صرف ایک پارسا کی آمد ہوگی ۔"
"مگر ہمارے ساتھ پارساؤں کا پورا جتھا تھا۔" حیا کے لہجے میں حیرت تھی۔
"وہ سب کے سب گناہوں میں لتھڑے ہوئے تھے۔" تالیہ نے حقارت سے کہا۔
"پھر وہ واحد پارسا کون ہو سکتا ہے؟ حیا کے چہرے پر معصومیت پھیلی ہوئی تھی۔
"ہمیں بتایا گیا تھا کہ پارسا کا قیام اِسی جھونپڑے میں ہوگا، اُس کی تعظیم جنت ارضی کے سارے مکینوں پر واجب ہوگی۔ " تالیہ کے لہجے میں طمانیت تھی۔
حیا اپنی جگہ سے چپ چاپ اٹھ کھڑی ہوئی، اس نے فضا میں اپنے دونوں ہاتھوں کو بلند کیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے دارون کی بینائی لوٹ آئی، تامر کے ہاتھ وزنی کنگنوں سے آزاد ہو گئے، اناج کی بھاری بوریاں غائب ہو گئیں، اور خچر کا وجود مٹ گیا ۔ خوشی سے حیا کے چہرے پر نور کی کرنیں پھوٹ رہی تھیں۔ دارون خاموشی سے آگے بڑھا، پھلوں کی ٹوکری سے چھری اٹھائی، اور پیچھے سے حیا کی گردن دبوچ لی ، تامر نے اس کے دونوں بازؤوں کو قابو میں کیا، عیلان اور یاغیل نے ایک ایک ٹانگ پکڑی اور سبھوں نے مل کر حیا کو زمین پر گرادیا۔ وہ مزاحمت کرتی رہی، مگر چارمردوں کے مقابلے میں کمزور پڑتی گئی، دارون نے چھری سے حیا کے گلے کو ریت دیا۔ حیا کی سخت جانی کسی کام نہ آئی، آج وہ موت سے شکست کھا گئی تھی، اس کے چہرے پر ایک دل آویز مسکراہٹ کھیل رہی تھی۔
تالیہ خوف کے مارے جھونپڑے کے ایک تاریک گوشے میں دبک گئی تھی۔اس نے دیکھا کہ آسمان سے روشنی کا ایک ریلا آیا اور جھونپڑے کا چھپر پھاڑ کر داخل ہوگیا۔ اس روشنی نے حیا کے جسم کو اپنے حصار میں لے لیا۔ پھر یہ جسم فضا میں بلند ہوا اور بلند ہوتا چلا گیا، ساتھ میں روشنی بھی واپس پرواز کرتی چلی گئی۔ تالیہ نے دیکھا کہ تیزی سے بلند ہوتے ہوئے جسم نے چند لمحوں میں روشنی کے ایک نقطے کی شکل اختیار کرلی اور یہ نقطہ ستاروں کے جھرمٹ میں کہیں غائب ہوگیا۔
جنت ارضی کی ساری روشنیاں بجھ گئیں اور اس پر چھائی تاریکی کی تہ دبیز سے دبیز تر ہوگئی۔
© 2024. Al Qalam Academy, Glasgow, UK. All rights reserved.