Al Qalam Logo

بوجھ

ڈاکٹر محفوظ جاوید ندوی
سابق استاذ، شعبۂ اردو، گلاسگو یونیورسٹی، برطانیہ

Image

مرزد کے لیے یہ ایک اجنبی بستی تھی، اسے یقین تھا کہ اس جگہ اس کا کوئی واقف کار نہیں ملے گا۔ کئی دن سےپیدل چلتے چلتے اس کا چہرہ گرد سے اَٹ چکا تھا، بال بکھرے ہوئے تھے اور آنکھوں سے وحشت ٹپکی پڑتی تھی۔ لاش کے بوجھ سے اس کے کندھے شل ہوچکے تھے اور اس کی چال میں لڑکھڑاہٹ تھی۔ بستی کے لوگ اسے حیرت اور تجسس سے دیکھ رہے تھے۔ مرزد آگے بڑھتا رہا ، راستے میں بہت سے لوگ اس کے پیچھے ہولیے اور بازار میں پہنچتے پہنچتے اس کے گرد اچھی خاصی بھیڑ اکٹھی ہوگئی۔
مرزد بے بسی سے اپنے گرد اکٹھےلوگوں کے چہرے تکے جارہا تھا کہ ہجوم میں سے ایک شخص ،جس کے بُشرے پر جہاندیدگی ہُویدا تھی، آگے بڑھا اور مرزد کو مخاطَب کرکے بولا
" اے اجنبی ! تم کون ہو اور تمھارے کندھے پر یہ لاش کس کی ہے؟"
"میں ایک مسافر ہوں اور مجھے تم لوگوں کی مدد درکار ہے۔" مرزد نے ملتجیانہ لہجے میں جواب دیا۔
"ہم ضرور تمھاری مدد کریں گے، ہمیں بتاؤ کہ تمھیں کس قسم کی مدد کی ضرورت ہے؟" بستی کے آدمی نے استفسار کیا۔
"میں تم بستی والوں سےمحض یہ جاننا چاہتا ہوں کہ میں اِس مردہ جسم کا کیا کروں؟" مرزد نے اپنے کندھے پر پڑی ہوئی لاش کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
"ہم تمھاری رہنمائی اسی وقت کر سکتے ہیں جب ہمیں پتہ ہو کہ یہ لاش کس کی ہے۔" بستی کے ایک دوسرے شخص نے دخل اندازی کی۔
"مجھے افسوس ہے کہ میں تمھیں اِس مردہ انسان کا نام نہیں بتا سکتا۔ میری کچھ مجبوریاں ہیں۔" مرزد نے صفائی دیتے ہوئے جواب دیا۔
"تمھاری ضرور مجبوریاں ہوں گی مگر ہماری بستی اصولوں کی پاسداری کرتی ہے۔ اگر تم ہماری مدد کے خواہاں ہو تو تم کواس مردہ جسم کی شناخت ظاہر کرنی ہوگی۔" جہاندیدہ شخص نے دوبارہ گفتگو میں حصہ لیتے ہوئے کہا۔
"میں پہلے ہی عرض کرچکا ہوں کہ میرے کچھ مسائل ہیں جن کو میں بیان نہیں کرسکتا۔ میں کئی دن سے بھوکا ہوں، کیا تم لوگ مجھے کچھ کھانے کو بھی نہیں دو گے؟" مرزد نے گھگیاتے ہوئےکہا۔
ہجوم میں سے ایک تیسرا شخص جو پیشے سے حجام لگتا تھا آگے بڑھا، اس نے اپنا بغچہ کھولا، اس میں دو روٹیاں تھیں، ایک روٹی اس نے مرزد کو پکڑادی۔ ہجوم آہستہ آہستہ چھٹنے لگا، مرزد تنہا رہ گیا۔ جب اسے یقین ہوگیا کہ یہاں کے لوگوں سے اسے کوئی مدد نہیں ملے گی تو وہ دھیرے دھیرے چلتا ہوا بستی سے باہر نکل گیا۔ شام ہوچلی تھی اور اندھیرا پھیل رہا تھا، مرزد نے شب بسری کے لیے ایک ٹیلے کا انتخاب کیا۔ اس نے محسوس کیا کہ لاش میں تعفن پیدا ہوگیا ہے اور اس کے وزن میں بھی اضافہ ہوگیاہے۔
لاش کے بوجھ سے مرزد کی گردن ٹوٹی جارہی تھی۔
مرزد نے بدقت تمام لاش کو اپنے دوسرے کندھے پر منتقل کیا اور ایک بڑے پتھر سےٹیک لگاکر سوگیا۔ صبح اس کی آنکھ سورج کی روشنی چہرے پر پڑنے سے کھلی، وہ اسی پتھر کا سہارا لےکرکھڑا ہوا جس سے ٹیک لگاکر رات میں سویا تھا اور دوسری بستی کی تلاش میں چل پڑا۔
کئی کوس چلنے کے بعد مرزد کو ایک نئی بستی کے آثار نظر آئے۔ اس نے دور سے دیکھا کہ ایک کھلیان میں کئی ایک کسان کام کررہے ہیں، وہ کھلیان کی طرف بڑھ گیا۔ قریب پہنچ کر اس نے دیکھا کہ ایک شخص کنویں سے ڈول کے ذریعے کھیتوں کی سینچائی کررہا ہے ۔ مرزد کنویں کی طرف بڑھتا چلا گیا، کسان کی نظر اس پر پڑی اور حیرت کی وجہ سے کام کرتے کرتے اس کےہاتھ رک گئے۔
"اے نیک انسان! میں بہت پیاسا ہوں ، مجھے پانی پلاؤ۔" مرزد نے التجا کی۔
کسان نے ڈول سے تازہ پانی نکال کر ایک پیالے میں انڈیلا اور مرزد کے ہونٹوں سے لگادیا۔ پانی پلانے کے بعد کسان نے ترحم آمیز نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا
"اےاجنبی! یہ کس کی لاش تم اٹھائے پھر رہے ہو۔ اس میں تعفن پیدا ہوگیا ہے، اور یہ پھُول بھی چکی ہے۔کیا اتنا بھاری وزن اٹھانے کی سکت تم میں ہے؟"
"مجھ سے یہ نہ پوچھو کہ یہ لاش کس کی ہے، میں اس کا جواب نہیں دے سکوں گا،" مرزد کراہ کر بولا، " تم مجھ کو ایک نیک انسان لگتے ہو، میری رہنمائی کرو کہ میں کس طرح سے اس لاش سے جان چھڑاؤں۔"
"اگر تم نہیں بتاؤ گے کہ یہ کس کی لاش ہے تو تمھاری مدد کرنے کی کون ہمت کرے گا؟ کس میں اتنا یارا ہے کہ وہ اصول شکنی کا مرتکب ہو؟" کسان نے جواب دیا۔ مرزد کسان کو بے بسی سے دیکھے جارہا تھا۔
ان کی آوازیں سن کر کھلیان کے دوسرے کسان بھی اکٹھا ہوگئے۔ قریب ہی ایک چرواہا اپنی بھیڑوں کے ساتھ گزررہا تھا، لوگوں کی بھیڑ دیکھ کر وہ بھی پاس آگیا۔دونوں کی نگاہیں چار ہوئیں اور مرزد کے سارےجسم میں خوف کی ایک لہر دوڑ گئی۔ چرواہے کی آنکھوں میں بھینگا پن تھا اور چہرے پر ایک تمسخرانہ مسکراہٹ تھی۔ چرواہے نے غور سے مرزد کی طرف دیکھا اور گویا ہوا
"میرا نام مرشوم ہے ، میرا خیال ہے کہ میں پہلے کہیں تم کو دیکھ چکا ہوں۔"
"میں ایک دور دراز بستی سے آیا ہوں، تم کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے، تم نے مجھے کہاں دیکھا ہو گا!" مرزد نے فوراً تردید کی۔ مرشوم مزید قریب آکر لاش کا جائزہ لینے لگا۔
"مجھے اس لاش کا چہرہ بھی شناسا لگتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ جس کی لاش تم اٹھائے پھر رہے ہو کسی زمانے میں وہ میرے ساتھ بھیڑیں چرایا کرتا تھا۔" مرشوم کے لہجے میں اعتماد تھا۔
" دیکھو مرشوم، میرے پا س تمھاری غلط فہمیوں کا کوئی علاج نہیں ہے۔ میرا نہیں خیال ہے کہ تم لوگوں سے مجھے کوئی مدد مل سکے گی، لہذا میرا راستہ کھوٹا نہ کرو اور مجھے جانے دو۔" مرزد یہ کہہ کر چل پڑا۔ سارے لوگ اسے جاتے ہوئے دیکھتے رہے، مر زد کے اندر اتنا حوصلہ نہ تھا کہ پیچھے مڑ کر دیکھتا۔
مرزد نے سوچا کہ مرشوم پاس کی بستی کا ہوگا، اسے اندیشہ تھا کہ کہیں مرشوم بستی میں نہ پہنچ جائے اس لیے اس نے پاس کی بستی میں داخل ہونے سے اجتناب کیا اور اپنا سفر جاری رکھا۔ اگلی نئی بستی دو کوس کی مسافت پر واقع تھی، کندھے پر لاش کے بوجھ کی وجہ سے اس سے چلا نہیں جارہا تھا، اس لیے وہاں تک پہنچنے میں اس کو کئی ساعتیں لگ گئیں۔ نئی بستی کے بازار میں داخل ہوتے ہی مرزد کا دل بیٹھ گیا، اس نے دیکھا کہ مرشوم اس سے پہلے ہی بستی میں پہنچ چکا ہے اور کئی ایک مقامی سرداروں کو اکٹھا کرکے اس کا انتظار کررہا ہے۔
مرشوم نے مرزد کو دیکھ کر دور سے للکارا "مجھے یاد آگیا ہے، تمھارا نام مرزد ہے اور جس کی لاش تم اٹھائے پھر رہے ہو تمھارا بھائی بارک ہے۔"
"میں تم کو پہلے بتاچکا ہو ں کہ میرے بارے میں تم کو کوئی شدید غلط فہمی واقع ہوئی ہے۔ اگر تم میری مدد نہیں کرسکتے ہو تو انسانیت کے واسطےمیرا ٹھٹھا بھی نہ کرو۔" مرزد منت و سماجت پر اتر آیا۔
ایک سردار مرشوم کی طرف مخاطب ہوکر بولا "اس اجنبی کو ہم نے پہلے کبھی نہیں دیکھا ہے، تم کیسے اتنے وثوق سے کہہ سکتے ہو کہ تم اس کو جانتے ہو؟"
"میری اس سے ملاقات گزشتہ جشنِ بہاراں میں آقی بستی کے سردار جعلول کی دختر حوضہ کے سویمبر کے موقع پر ہوئی تھی۔" مرشوم وضاحت کرتے ہوئے بولا، " میں بھی مقابلے میں حصہ لینا چاہتا تھا ، پَر میرے بھینگے پن کی وجہ سے مجھے اکھاڑے میں داخلے کی اجازت نہیں ملی تھی۔ اٹھائیس نوجوانوں نے مقابلے میں حصہ لیا تھا، مگر صرف پانچ لوگ ہدف حاصل کرسکے تھے۔ مرزد اور اس کا بھائی بارک بھی ان پانچ کامیاب نوجوانوں میں شامل تھے۔ دستور کے مطابق ان پانچوں نے سردار کی دختر کے حضور نذر انہ پیش کیا تھا، حوضہ نے بارک کا نذرانہ قبول کیا تھا اور وہ اس کے ساتھ بیاہ دی گئی تھی۔"
"اگر یہ تمھارے بھائی بارک کی لاش ہے تو اس کی بیوی حوضہ کہاں ہے؟" سردار نے مرزد کو مخاطب کرکے کہا۔
"اے سردار! تم اس عیار شخص کی باتوں میں نہ آؤ۔ کیا تم نہیں دیکھتے اس کے چہرے پر ہر وقت شیطانی تبسم رقصاں رہتا ہے۔" مرزد نے سردار کو قائل کرنے کی کوشش کی۔
ایک دوسرا سردار دخل اندازی کرتے ہوئے بولا "اے اجنبی! بسا اوقات انسان کی ظاہری حالت دیکھنے والے کو دھوکہ دے جاتی ہے، ہماری بستی میں ہر ایک کو اس کے اعمال کے حساب سے پرکھا جاتا ہے۔ تم کو اس وقت مدد کی سخت ضرورت ہے، ہر آنے والے دن تمھارا یہ بوجھ وزن میں بڑھتا جائے گا۔ جب اس لاش میں سڑاند پیدا ہوجائے گی اور وہ متعفن ہوکر پھٹ جائے گی تو پھر کسی کی مدد تمھارے کام نہیں آئے گی۔ "
"میں بھی یہی چاہتا ہوں کہ اس لاش سے جلد از جلدمیری جان چھوٹ جائے، مجھے بس رہنمائی درکار ہے، پَر تم لوگ میری مدد کرنے کے بجائے مجھے مجبور کررہے ہو کہ ایک غلط بات تسلیم کرلوں۔" مرزد نے احتجاج کیا۔
"اگر یہ تمھارے بھائی کی لاش نہیں ہے تو بتاؤ یہ کس کی لاش ہے جس کا بوجھ تم اٹھائے پھر رہے ہو؟" پہلے سردار نےپوچھا۔
"تم لوگ میری مجبوریوں کو سمجھو، میں یہ راز تم پر افشا نہیں کرسکتا۔" مرزدنے حتمی لہجے میں کہا۔
"اِس شخص کی عقل پر پردہ پڑگیا ہے ، یا پھر اسے جنون کا مرض لاحق ہواہے۔" دوسرے سردار نے بھیڑ کی طرف رخ کرکے کہا اور وہاں سے چل پڑا، اس کے ساتھ بھیڑ بھی وہاں سے چھٹنے لگی۔
"نہ تو میری عقل پر پردہ پڑا ہے اور نہ ہی مجھے جنون لاحق ہوا ہے۔" مرزد چیخ کر بولا۔
"یہ بات تم صحیح کہتے ہو، نہ تو تم احمق ہو اور نہ مجنون، مجھے یقین ہے کہ حوضہ کو حاصل کرنے کے لیے تم نے دانستہ اپنے بھائی کو قتل کیا ہے۔" مرشوم نے مرزد کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا اور ایک طرف کو چل دیا۔
مرزد کے جسم میں سکت نہیں رہ گئی تھی، وہ تھک کر چُور ہوگیا تھا مگر بستی والوں کا طرزِ عمل دیکھ کر وہ مزید نہیں ٹھہر سکا۔ اس کی کوشش تھی کہ آفتاب غروب ہونے سے پہلے وہ کسی محفوظ مقام پر پہنچ جائے جہاں رات بسر کرسکے۔ اس کو ایک پرانے کھنڈر میں پناہ ملی، گھاس پھوس کے ایک ڈھیر سے ٹیک لگاکر اس نے رات گزاری۔ صبح ہوتے ہی وہ پھر ایک نئی بستی کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا۔
ابھی مرزد کو چلتے ہوئے ایک ساعت ہی گزری تھی کہ لاش جا بہ جا رِسنے لگی۔ لاش سے اُٹھنے والی بدبو اس کے لیے ناقابلِ برداشت ہوتی جارہی تھی ۔ اسے محسوس ہوا کہ لاش سے خارج ہونے والی رطوبت اس کے منہ میں جارہی ہے، اسے زور سے اُبکائی آئی اور وہ گرتے گرتے بچا۔ لاش غیر معمولی طور پر پھول چکی تھی، ایسا لگتا تھا کہ مرزد اپنے کندھے پر ایک نہیں بلکہ دو لاشیں اُٹھائے ہوئے ہے، بوجھ کی زیادتی کی وجہ سے اس کے قدم ڈگمگا رہے تھے۔ ایک نئی بستی کی جھلکیاں مرزد کو نظر آرہی تھیں مگر اب اس کے قدم اُٹھ نہیں پا رہے تھے، اس کو یقین ہوگیا کہ اس کی ساری توانائی ختم ہوچکی ہے اور اب وہ اگلی بستی تک نہیں پہنچ سکے گا۔
معاً اسے ایک ترکیب سوجھی، اس نے کھیتوں سے لمبی لمبی گھاس کا ایک گٹھر اکٹھا کیا اور پھر اس گھاس سے ایک رسّی بٹنا شروع کیا، جب ایک اچھی خاصی لمبی رسی تیار ہوگئی تو اس نے کافی جدوجہد کرکے لاش کو اپنے کندھے سے اتار کر اپنی پشت پر لادا اور رسی سے لاش کو اپنے جسم سے مضبوطی سے باندھ دیا تاکہ وہ پشت سے پھسل کر زمین پر نہ گر پڑے۔ اس نے درخت کی ٹہنیاں توڑ کر دو موٹے موٹے عصا تیار کیے، ان کو دونوں ہاتھوں میں تھاما اور ان کے سہارے چل پڑا۔ اس حال میں کسی طرح اس نے نصف مسافت قطع کی مگر پھر ایستادہ چلنا اس کے لیے ممکن نہیں رہا، وہ جُھک گیا، اس کے گھٹنے زمین سے جا لگے، اس نےدونوں ہتھیلیوں سے زمین پر ٹیک لگادی اور ایک چوپائے کے مثل چلنے لگا۔ پیاس کی شدت سے اس کی زبان باہر آچکی تھی، اس کے گھٹنے، پاؤں اور ہتھیلیوں سے خون رس رہا تھا مگر مرزد نے ہمت نہ ہاری اور وہ چلتا رہا، بالآخر سہ پہر کے قریب وہ بستی میں داخل ہوا۔
بستی میں داخل ہوتے ہی لاش کا تعفن ہر چہار طرف پھیل گیا۔ لوگ خوف زدہ ہوگئے، ماؤں نے باہر کھیلتے بچوں کو گھروں کے اندرکھینچ کر دروازےبند کرلیے کہ مبادا ان کو اس عفریت سے کوئی گزند پہنچ جائے۔ بازار میں خردہ فروشوں نے اپنی دکانوں کے سامنے پردے گرادیےکہ کہیں لاش کی گندگی ان کے اسباب کو متعفن نہ کردے۔ مرزد بازار کے وسط میں چوبی ستون کا سہارا لیے کھڑا تھا مگر کسی نے اس کے قریب آنے کی ہمت نہیں کی، سبھی دور کھڑے تماشا دیکھتے رہے۔
مرزد فریاد کرنے لگا " اے بستی والو! میرا نام مرزد ہے، مجھ پر رحم کرو، اس لاش کا بوجھ اب مجھ سے اٹھایا نہیں جاتا ہے۔ میری رہنمائی کرو، میں اس سے کیسے جان چھڑاؤں؟ " اس نے اپنی فریاد جاری رکھی "تم یہی جاننا چاہتے ہو کہ یہ کس کی لاش ہے؟ میں تمھیں بتاتا ہوں کہ یہ کس کی لاش ہے۔ یہ میرے بھائی بارک کا مردہ جسم ہے۔ میرے بھائی نے مجھ پر احسان کیا تھا، میرےمشکل وقت میں اس نے مجھے پناہ دی تھی مگر میں خائن ثابت ہوا۔ میں نے اس کی بیوی حوضہ کو اپنے دام میں پھانس لیا اور پھر اپنے محسن کا قتل کردیا۔ اے بستی والو ، جان لو! میں ایک محسن کش ہوں۔ اب میرا راز تم پر آشکار ہوچکا، کیاتم اب بھی میری مدد نہیں کرو گے؟"
دور ہجوم میں کھڑے ایک راہ گیر نے دوسرے سے پوچھا "کیا تم کو اِس اجنبی کی کوئی بات سنائی دیتی ہے؟ یہ ہم سے دور فاصلے پر کھڑا ہے اور اس کی آوازبھی کافی نحیف ہے۔"
دوسرا راہ گیر نفی میں سر ہلاکر رہ گیا۔ پھر ایک عورت، جس کی آنکھوں میں حیا تھی، بھیڑ میں سے آگے بڑھی، اس نے اپنےمنہ اور ناک پر کپڑا رکھ لیا اور مرزد سے کچھ فاصلے پر کھڑے ہوکر زور سے چلائی
" اے اجنبی! تمھاری پشت پر سوار لاش کا تعفن بستی والوں کے لیے ناقابلِ برداشت ہے، کوئی تمھارے قریب آنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ تمھاری آواز بھی بہت کمزور ہے، کسی کو کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ تم کیا کہہ رہے ہو۔ بہتر ہے کہ تم اگلی بستی چلے جاؤ جو تین کوس کے فاصلے پر واقع ہے، وہ آخری بستی ہے، مجھے یقین ہے کہ تم کو وہاں مدد مل جائے گی۔" یہ کہہ کر عورت مرزد کا جواب سنے بغیر پلٹ پڑی۔
"اے نیک دل عورت! مجھ سے تو اب ایک قدم بھی نہیں چلا جاتا، میں تین کوس کا فاصلہ کیسے طے کرسکوں گا؟" مرزد رو دینے والی آواز میں بولا مگر اس نے محسوس کیا کہ اس کی آواز سینے میں گھُٹ کر رہ گئی ہے۔ اس نے دیکھا ہجوم آہستہ آہستہ چھٹ رہا ہے مگر کوئی اس کے قریب نہیں پھٹکا۔ کچھ دیر توقف کے بعد مرزد دونوں گھٹنوں اور دونوں ہتھیلیوں کے بَل کسی چوپائے کے مثل چلتا ہوا بستی سے باہر نکل گیا۔
رات اس نے بستی سے باہر ایک کھلیان میں گزاری، صبح اس کی آنکھ پرندوں کی چہچہاہٹ سے کھلی۔ "تین کوس تو بہت دور ہوتے ہیں، کیا میں کبھی اپنی منزل تک پہنچ سکوں گا؟" مرزد سوچنے لگا۔ اس کے جسم کی توانائی مکمل طور پر ختم ہوچکی تھی، لاش کے تعفن کی وجہ سے اب لوگ اس کے قریب نہیں آتے تھے اور پہلے بھیک میں جو روٹی مل جایا کرتی تھی اب اس کا بھی آسرا ختم ہوگیا تھا۔ اس نے دیکھا کہ لوگ بستی سے کھیتوں میں کام کرنے نکلنے لگے ہیں، اس نے سوچا کہ مآلِ کار اب اگر اس کے لیےمرنا ہی مقدر ٹھہرا ہے تو بہتر یہی ہے کہ وہ مقدور بھر آخری بستی تک پہنچنے کی سعی کرے۔ ابھی وہ سفر کا عزم ہی کررہا تھا کہ ناگاہ کیا دیکھتا ہے کہ چار عورتیں اس کی طرف بڑھی چلی آتی ہیں، انھوں نے اپنے چہرے پردوں سے ڈھانپ رکھے تھےاور ان کے ہاتھوں میں کھانے کی پوٹلیاں تھیں۔ انھوں نے خاموشی سے پوٹلیاں کچھ فاصلے سے اس کی طرف پھینک دیں۔ احساسِ تشکر سے مرزد کی آنکھوں میں آنسو آگئے، لیکن نقاہت کی وجہ سے اس کے منہ سے کوئی آواز نہ نکل سکی۔
پیٹ میں غذا جانے کے بعد مرزد نے کچھ توانائی محسوس کی، جو کھانا بچ گیا تھا اس کواس نے اپنی جیب میں ٹھونس لیا اور ایک عصا کے سہارے چلنے کی کوشش کی۔ ابھی کچھ دور ہی چلا تھا کہ ایستادہ رہنا اس کے لیے مشکل ہوگیا، اس نےپھر دونوں گھٹنوں اور دونوں ہتھیلیوں کے بل چلنا شروع کردیا۔ اس کی رفتار بہت کم تھی، لگتا تھا کوئی کچھوا رینگ رہا ہے۔ اس کی ہتھیلیاں زخمی ہوگئیں اور ان کے بل چلنا اس کےلیے ممکن نہ رہا تو اس نے اپنے بازؤوں کو زمین سے ٹکادیا اور ان کے سہارے گھسٹنے لگا۔ سارا دن دھوپ کی تمازت میں رینگتا رہا مگر دور دور تک آخری بستی کا نام و نشان نظر نہ آتا تھا۔ شام ہوگئی اور وہ راستے میں پڑے پڑے سوگیا۔
صبح اس کی آنکھ کسی راہ گیر کی ٹھوکر کھانے سے کھلی۔ اس نے پھر سفر کا آغاز کیا، اس کے گھٹنے متورم ہوگئے تھے، ان کے بل پر چلنا اب ناممکن تھا، اب اس نے محض بازؤوں اور پیٹ کے بل گھسٹنا شروع کیا، دو پہر ہوگئی مگر آخری بستی نہ آئی۔ مرزد مایوس ہوکر پیٹ کے بل لیٹ گیا اور اپنے آپ کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا مگر تھوڑی دیر بعد اس کی رجائیت پھرمایوسی پر غالب آگئی اور اس نے دوبارہ کسی کچھوے کے مانند رینگنا شروع کیا۔ سہ پہر کے قریب اس نے سر اٹھایا تو کیا دیکھتا ہے کہ دور کوئی سیاہ شے نظر آرہی ہے، مرزد نے سوچا ضرور یہ آخری بستی کا صدر دروازہ ہوگا۔ مگر اب اس کے جسم میں توانائی نام کی کوئی چیز باقی نہیں بچی تھی، وہ ایک طرف پَڑرہا اور فیصلہ کیا کہ اگلی صبح وہ اس سیاہ شے تک پہنچنے کی کوشش کرے گا۔
اگلی صبح پھر اس میں کچھ توانائی عود کر آئی اور اس نے دوبارہ رینگنا شروع کیا اس حال میں کہ لاش جگہ جگہ سے پھٹ چکی تھی اور مرزد کا جسم لاش کی پیپ اور مواد میں پوری طرح لتھڑچکا تھا۔ مرزد کے سارے حواس مختل ہو چکے تھے اور لگتا تھا کہ اس کی قوت شامّہ بھی جواب دے چکی ہے، اس کو اب لاش کے تعفن کا احساس بھی نہیں رہا تھا۔
مرزد کا خیال صحیح نکلا، دوپہر کے قریب اس نے سر اٹھاکر دیکھا، آخری بستی کا سیاہ دروازہ محض چند گز کے فاصلے پر تھا مگر اب اس کے بازو بھی جواب دے چکے تھے۔ صدر درواز ہ دیکھ کر اس کے اندر حوصلہ آگیا اور وہ محض پیٹ کے بل گھسٹنے لگا، بالآخر وہ کسی طرح عین صدر دروازے کے پاس پہنچ گیا اور اس میں جھولتی رسی پکڑ کر لٹک گیا۔ رسی کھینچنے سے دروازے پر نصب گھنٹہ بج گیا اوردروازے پر تعینات چوکیدارنے دروازہ کھول دیا۔ مرزد نیم بے ہوش تھا، چوکیدار نے صراحی سےپانی کا پیالہ بھرا اور اس کے منہ سے لگا دیا، پانی پی کر مرزد نے اپنی آنکھیں بند کرلیں۔
چوکیدار نے فوراً بستی والوں کو ایک اجنبی کی آمد کی اطلاع دی، بستی سے ایک بھیڑ اس کو دیکھنے آئی۔ لوگوں کی آواز سن کر مرزد نے اپنی آنکھیں کھول دیں، اس نے دیکھا کہ سارے لوگوں کا پہناوا سیاہ رنگ کا ہے، سب کی چپلیں بھی کالے رنگ کی ہیں۔ کچھ لوگوں نے اسے سہارا دے کر اٹھایا اور اسے ایک طرف لے کر چلے۔ مرزد کو یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ سارے گھر وں پر سیاہی پھری ہوئی ہے ، حتی کہ گھروں کے دروازوں پر لٹکنے والے پردے بھی سیاہ رنگ کے ہیں۔ اسے ہر طرف کوّے اڑتے نظر آئے، اتنے کوّے اس نے اپنی پوری زندگی میں کہیں نہیں دیکھے تھے۔ کوّے کو وہ ایک وحشی پرندے کے طور پر جانتا تھا مگر اس نے دیکھا کہ اس بستی کے کوّے بستی والوں سے مانوس ہیں اور وہ ایسے رہتے ہیں گویا کہ پالتو پرندے ہوں۔
وہ لوگ تھوڑی دور چلے تھے کہ منزلِ مقصود آگئی، یہ ایک چوپال تھی جس میں پہلے سے بہت سارے لوگ بیٹھے تھے۔ مرزد نے دیکھا کہ درمیان میں ایک تخت بچھا ہے جس پر ایک بھاری بھر کم شخص براجمان ہے۔ وہ سیاہ چوغہ پہنے ہوئے تھا اور اس کی لمبی سیاہ داڑھی اس کی ناف تک لٹکی ہوئی تھی۔ لوگوں نے مرزد کو لے جاکر تخت کے سامنے زمین پر بٹھادیا۔ چوغہ پوش مرزد سے مخاطب ہوکر بولا
"اجنبی! تم کون ہو اور ہماری بستی میں کس لیے آئے ہو؟"
"میں ایک مسافر ہوں ، یہ کون سی بستی ہے اور اے نیک دل انسان! تم کون ہو؟" مرزد نحیف آواز میں بولا۔
"یہ گنہ گاروں کی بستی ہےاور میں اس بستی کا سردار ہوں۔" چوغہ پوش نے جواب دیا۔
"مجھے بتایا گیا تھا کہ یہ آخری بستی ہے۔" مرزد بولا
"تمھیں صحیح بتایا گیا تھا، یہ اسفلِ سافلین ہے، اس کے بعد کوئی انسانی بستی نہیں پائی جاتی ہے۔ تم نے نہیں بتایا کہ ہماری بستی تک تمھارا کیسے آنا ہوا؟"
"میرا نام مرزد ہے ، میں ایک دور دراز بستی سے آیا ہوں۔ سردار جعلول کی دختر حوضہ نے میرے بھائی بارک کو اپنا جیون ساتھی چنا، مگر میں حسد کی آگ میں جلنے لگا، میں نے حیلے تراشے اور بارک کے حرم میں داخل ہوکر اس کی بیوی حوضہ کو اپنے دام میں پھانس لیا۔ یہ جو لاش میری پشت سے بندھی ہے، میرے بھائی بارک کی ہے، اس کو میں نے اپنے ہاتھوں سے قتل کیا ہے۔ میری رہنمائی کرو کہ میں اس لاش سے کیسے جان چھڑاؤں؟" مرزد نے ایک ہی سانس میں اپنا سارا دُکھڑا سنادیا۔
"اس لاش کو زمین میں دفن کردو کہ جو خاک سے اٹھتا ہے، خاک ہی میں سوتا ہے۔" سردار کے لہجے میں تحکم تھا۔
سردار کی بات سن کر مرزد کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں، اس نے گریہ کرتے ہوئے کہا "ہائے افسوس! اتنے سامنے کی بات مجھے کیوں نہیں سُوجھ سکی؟"
"جب تم نے حوضہ سے اپنی ہوس پوری کرلی تھی تو پھر بارک کو قتل کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ " سردار کے لہجے میں تضحیک تھی؟
"میرے دل میں آگ لگی ہوئی تھی، اگر یہ کوئی معمولی آگ ہوتی تو میں ایک دو ڈول پانی ڈال کر اسے بجھادیتا، پر یہ آگ ہر آن مجھے بھسم کیے دیتی تھی اور وہ صرف بارک کے خون سے بجھ سکتی تھی۔" مرزد نے صفائی دی۔
"یہ تمھاری خوش فہمی تھی، یہ آگ بارک کے خون سے بھی نہ بجھ سکی۔ اس آگ نے تمھاری عقل و روح کو خاکستر کیا اور تمھیں سامنے کی بات سُوجھ نہیں سکی۔" یہ کہہ کر چوغہ پوش اٹھ کھڑا ہوا اور چوپال سے باہر نکل کر بستی کے چند لوگوں کو حکم دیا کہ بارک کے لیے ایک قبر تیار کریں۔
قبر شام تک تیار ہوگئی، لیکن چوغہ پوش نے حکم دیا کہ تدفین صبح پَو پھٹنے کے بعد ہوگی، مرزد کو چوپال میں شب بسری کی اجازت دے دی گئی۔ اگلے روز بارک کی تدفین کے لیے پوری بستی امڈ آئی تھی، بستی کی سرزمین پر پہلی بار کوئی پاک باز انسان دفن ہورہا تھا۔ جب قبر میں بارک کی لاش اتار دی گئی تو چوغہ پوش نے بآوازِ بلند اعلان کیا
"اے بستی والو! حسبِ دستور اب تمھیں اجازت ہے کہ اگر مرزد سے کوئی سوال کرنا چاہتے ہو توکرو؟"
سارا ہجوم خاموش تھا کہ یکایک ایک ننگے سر والی عورت آگے بڑھی اور عرض کیا
"اے سردار! اگر اجازت ہو تو میں مرزد سے ایک سوال کروں؟"
سردار نے ہاتھ کے اشارے سے اجازت دی تو وہ عورت مرزد کو مخاطب کرکے بولی
"اے اجنبی! میں یہ جاننے کے لیے بے چین ہوں کہ بارک کو کیوں کر پتہ چلا کہ تم نے اس کی بیوی کو اپنے دام میں گرفتار کرلیا ہے۔"
"حسد کی آگ مجھے جلائے جارہی تھی تو یہ راز میں نے خود بارک پر افشا کیا تھا۔" مرزد نے اعتراف کیا۔
"کیا بارک نے کوئی ردّعمل دیا؟" عورت کے لہجے میں تجسس تھا۔
"بارک نے ایک دیوار کا سہارا لینے کی کوشش کی تھی، پَر وہ بیٹھتا چلا گیا، لگتا تھا کہ وہ زمین میں دھنستا جارہا ہو۔ میں آگے بڑھا کہ اس کو سہارا دوں مگر اس نے اپنا چہرہ دوسری طرف پھیر لیا۔ میں نے اس سے کہا ' حوضہ تم سے محبت نہیں کرتی ہے'، تو وہ کہنے لگا 'تمھیں مجھے یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر وہ مجھ سے محبت کرتی ہوتی تو تمھارے دام میں کیوں کر پھنستی؟' پھراس کا چہرہ ویران ہوگیا۔ میں نے ایسا اداس چہرہ زندگی میں پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔" مرزد کا لہجہ ہر قسم کے جذبات سے عاری تھا۔
"اور جب تم نے بارک کے سینے میں اپنا خنجر اتارا تھا تو کیا اس نے مزاحمت کی تھی؟" عورت کے لہجے میں اضطراب تھا۔
"نہیں، وہ چراگاہ میں اپنی بھیڑوں اور بکریوں کے ساتھ تھا۔ میں نے اسے دعوتِ مبارزت دی تھی، مگر وہ کہنے لگا 'تم میرے بھائی ہو، اگر تم میرے قتل کے درپے ہو تو مجھے قتل کردو، پر مجھ سے یہ امید نہ کرو کہ میں تم پر ہاتھ اٹھاؤں گا۔ اور اگر میں نے تم کو مارڈالا تو میں والدین کو کیا جواب دے سکوں گا؟ وہ تمھارے بھی تو والدین ہیں۔ اگر میں نے آج تم کو قتل کیا تومیں ایک نہیں ، تین قتل کروں گا، اور یہ میرے بس سے باہر ہے۔" مرزد نے ساری کہانی بلا کم و کاست بیان کردی۔
عورت کا چہرہ غصے سے سرخ ہوگیا وہ چوغہ پوش سے مخاطب ہوکر بولی
"سردار! یہ شخص بارک کی لاش پر مٹی ڈالنے کا ہرگزاستحقاق نہیں رکھتا ہے۔ اگر اس نے مٹی ڈالی تو ہم بستی والے اس تدفین میں شریک نہیں ہوں گے۔ "
سارا ہجوم عورت کی ہاں میں ہاں ملانے لگا، چوغہ پوش نے بڑی مشکل سے مجمع کو خاموش کیا اور مرزد کو حکم دیا کہ وہ پرے ہٹ جائے۔ جب مرزد قبر سے کئی گز کے فاصلے پر جاکھڑا ہوا تو بستی کے لوگوں نے بارک کی لاش پر مٹی ڈالی اور اس کی قبر برابر کی۔
چند دنوں میں مرزد کے زخم مندمل ہوگئے اور وہ سفر کے قابل ہوگیا، وہ چوغہ پوش کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنی بستی واپس جانے کی اجازت طلب کی جو فوراً مل گئی۔ مرزد نے واپسی کے لیے ایک دوسرا راستہ اختیار کیا جوایک دریا کے کنارے کنارے جاتا تھا، یہ قدرے طویل تھا مگر اس راستے میں ان لوگوں سے ملنے کا اندیشہ نہیں تھا جن کا وہ چند دنوں قبل سامنا کرچکا تھا۔
مرزد کسی خاص صعوبت کا سامنا کیے بغیر اپنی بستی پہنچ گیا مگر بستی میں داخل ہوتے ہی اسے حیرت کا ایک جھٹکا لگا۔ اسے ہر چیز بدلی بدلی نظر آرہی تھی، لوگوں نے اپنے گھر مختلف انداز میں تعمیر کر لیے تھے، جس میدان میں وہ اپنے دوستوں کے ساتھ تیر اندازی کرتا تھا اس میں بھی مکان بن چکے تھے۔ اس نے سوچا کہ کیا وہ کسی غلط بستی میں تو نہیں آگیا ہے! یہ بستی غلط نہیں ہوسکتی تھی کیوں کہ سارے راستے اس کے جانے پہچانے تھے۔ راستے میں اسے بہت سارے بچے کھیلتے ہوئے نظر آئےمگر وہ ان میں سے کسی کو پہچان نہیں سکا، اس نے سوچا شاید گاؤں کے سارے بڑے کھیتوں پر ہوں گے۔ وہ اسی ذہنی کشمکش میں مبتلا اپنے گھر تک پہنچ گیا مگر کیا دیکھتا ہے کہ اس کا گھر زمین بوس ہوچکا ہے، وہاں مکان کے بجائے مکان کا ملبہ پڑا تھا۔ وہ دیوانہ وار ملبے پر چڑھ گیا، اس کو گری ہوئی دیوار کے نیچے اپنا تخت نظر آیا جس پر وہ سوتا تھا، اسے اپنی چادر کا ایک کونا نظر آیا، اس نے چادر کا کونا پکڑ کر باہر کھینچنے کی کوشش کی مگر وہ بوسید ہ ہوچکی تھی اور چادر کا کونا پھٹ کر روئی کے گالے کی طرح اس کے ہاتھ میں آگیا۔
مرزد ملبے سے نیچے اتر آیا، اس کی کنپٹیاں چٹخ رہی تھیں اور اس کا سر چکرارہا تھا۔ اسے ایک ہم عمر نوجوان گزرتا نظر آیا، مرزد اس کو پہچان نہیں سکا، پھر بھی اسے آواز دی۔ نوجوان جب قریب آگیا تو مرزد نے ملبہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھا
" کیا تم کو پتہ ہے کہ یہ کس کا گھر ہے؟"
"ٹھیک سے مجھے پتہ نہیں ہے، البتہ سنا ہے کہ یہ کسی بلعم کا گھر ہوتا تھا۔" نوجوان نے جواب دیا۔
"بلعم تو میرے باپ کا نام ہے۔ میرا نام مرزد ہے۔" مرزد نے بے تابی سے کہا۔
"اگر تمھارا نام مرزد ہے تو تم یقینا میرے دادا لاوی کو جانتے ہوگے۔وہ اکثر تمھارا تذکرہ کرتے رہتے ہیں۔" نوجوان کے چہرے پر تجسس تھا۔
"لاوی کو کیسے نہیں جانوں گا، وہ تو میرا جگری دوست ہے۔ مگر چند دنوں میں وہ دادا کیسے بن گیا!" مرزد ہنس پڑا پھر نوجوان سے کہنے لگا
"براہِ مہربانی مجھے اپنے دادا سے فوراً ملاؤ۔"
نوجوان مرزد کو لے کر ایک طرف چلا، چند ہی مکانات کے بعد لاوی کا گھر آگیا۔ مرزد لاوی کا گھر کیسے بھول سکتا تھا! نوجوان نے دروازے سے ہی اپنے داد اکو آواز دی، مرزد نے گھر سے ایک بوڑھے شخص کو باہر نکلتے ہوئے دیکھا، "اس کی عمر پچھتر سال سے کیا کم ہوگی، یہ لاوی کیسے ہوسکتا ہے؟ میرا لاوی پچیس سال کا گبرو جوان ہے۔" مرزد نے سوچا۔
نوجوان نے اپنے دادا سے مرزد کا تعارف کرایا، لاوی مرزد کو غور سے دیکھنے کے بعد پوچھا
"کیا تم بلعم اور لیسہ کے لڑکے اور بارک کے چھوٹے بھائی مرزد ہو؟"
"تم نے صحیح پہچانا۔ یہ بتاؤ تم کون ہو ؟ تم کو اس بستی میں میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا؟" مرزد نے سوال کیا۔
"میں تمھارا دوست لاوی ہوں۔" یہ کہہ کر لاوی مرزد سے لپٹ پڑا اور زور زور سے رونے لگا۔ مرزد کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ اس بوڑھے کو دلاسا دے یا اِن حالات پر خود بھی روئے۔ بالآخر جب لاوی چپ ہوا تو مرزد نے پوچھا
"کیا تم حوضہ کو جانتے ہو؟ "
"کیوں نہیں جانتا ہوں، وہ زندہ ہے۔ البتہ افسوس کہ تمھارے والدین بارک اور تمھارا راستہ تکتے تکتے تھک گئے، پہلے تمھاری ماں لیسہ چل بسی پھر تمھارا باپ بلعم بھی سِدھار گیا۔" لاوی کی آواز درد سے بھرّاگئی۔
مرزد کی درخواست پر لاوی کا پوتا مرزد اور لاوی کو حوضہ کے گھر کی طرف لے چلا، حوضہ کا گھر بھی کوئی خاص دور نہیں تھا۔ دروازےہی پر لاوی نے آواز لگائی
"حوضہ! باہر نکلو، دیکھو کون آیا ہے!"
مرزد نے دیکھا کہ ایک بوڑھی عورت گھسٹتے ہوئے باہر نکلی، یہ بھی لاوی کی ہم عمر رہی ہوگی، اس کے ہاتھوں میں رعشہ تھا ، اس نے مشکل سے ایک عصا کا سہارا لے رکھا تھا۔
"حوضہ! تم نے اِس کو پہچانا؟" لاوی نے مرزد کی طرف اشارہ کرکے پوچھا، اس کے لہجے میں والہانہ پن تھا۔ بوڑھی عورت نے نفی میں سر ہلادیا۔
"اے بزرگ انسان! تم کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے،" مرزد نے مداخلت کرتے ہوئے لاوی سے کہا، "میرا دوست لاوی اور میری حوضہ ابھی میری طرح نوجوان ہیں، میں بمشکل تیس چالیس ایام باہر رہا ہوں گا، بہت ہوگئے تو پچاس دن۔ چند ہفتوں میں اتنی تبدیلیاں کیسے آسکتی ہیں؟"
"نوجوان؟ پچاس دن؟" لاوی زور سے ہنسا۔ "پچاس دن نہیں مرزد! تم پورے پچاس سال بعد واپس آئے ہو۔"
لاوی نےاپنے پوتے کو اشارہ کیا اور وہ حوضہ کے گھر کے اندر جاکر ایک آئینہ لے آیا، لاوی نے آئینہ مرزد کے ہاتھ میں پکڑاتے ہوئے کہا
"لو دیکھو اس میں اپنی شکل اور بتاؤ کتنے نوجوان ہو تم؟"
مرزد نے آئینے میں اپنی شکل دیکھی اور دیکھتا رہ گیا، اس میں اس کو جھریوں بھرا ایک ضعیف چہرہ نظر آیا جس کی عمر پچھتر سال سے کیا کم رہی ہوگی! اس نے دیوار کا سہار لینے کی کوشش کی مگر بیٹھتا چلا گیا، لاوی کو لگا کہ مرزد زمین میں دھنستا جارہا ہے۔


© 2024. Al Qalam Academy, Glasgow, UK. All rights reserved.